ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ جلد ہونے کی امید: ٹرمپ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 21-10-2026
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ جلد ہونے کی امید: ٹرمپ
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ جلد ہونے کی امید: ٹرمپ

 



واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تجارتی معاہدہ تقریباً طے ہوچکا ہے اور دونوں ملک جلد اس پر اتفاق کرسکتے ہیں۔ منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق ایک پریس بریفنگ کے دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدہ جلد ہونے والا ہے؟ اس پر امریکی صدر نے کہا، ’’وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم معاہدہ کریں گے۔ ہاں، ہم اس کے کافی قریب ہیں۔ یہ معاہدہ ماضی میں کیے گئے معاہدوں سے بالکل مختلف نوعیت کا ہوگا۔‘‘

اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا تھا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ ’’انتہائی قریب‘‘ ہے اور اسے جلد حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے۔ نیٹ ورک 18 کو انٹرویو دیتے ہوئے روبیو نے بتایا کہ وہ خود براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہیں، کیونکہ یہ ذمہ داری امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے پاس ہے، لیکن وہ بات چیت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق، اس معاہدے کو مہینوں نہیں بلکہ چند ہفتوں میں حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے۔

روبیو نے کہا، ’’میں ذاتی طور پر اس پر مذاکرات نہیں کر رہا ہوں۔ یہ کام ہمارے تجارتی نمائندے کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے، لیکن میں اس پورے عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوں اور اس میں میری خاصی دلچسپی رہی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ معاہدہ مہینوں کے بجائے چند ہفتوں میں طے پا جائے گا۔‘‘ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے آخری مرحلے کی وضاحت کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ اس کا اعلان کرنے سے پہلے ہر تفصیل پر مکمل اتفاق ضروری ہے، تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان انتہائی اہم تعلقات کو کسی نقصان سے بچایا جاسکے۔

انہوں نے کہا، ’’میرا پہلے بھی یہی خیال تھا کہ ایسے معاہدوں کا اعلان اسی وقت ہونا چاہیے جب ان کی ہر تفصیل پر مکمل اتفاق ہوچکا ہو۔ اس نوعیت کے اہم تعلقات میں یہ خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا کہ کسی معاہدے کا اعلان کردیا جائے اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کرسکا ہے۔‘‘ روبیو نے مزید کہا، ’’معاہدہ اب بہت قریب ہے۔ میرے خیال میں اب صرف کچھ تکنیکی امور باقی ہیں، جنہیں حل کیا جانا ہے۔ یہ تکنیکی تفصیلات بھی اہم ہیں، کیونکہ معاہدے کے لیے دونوں فریقوں کا اس بات پر متفق ہونا ضروری ہے کہ دستاویز میں استعمال ہونے والی زبان اور شرائط کا مطلب دونوں کے لیے یکساں ہو۔ اب بات اسی سطح تک پہنچ چکی ہے۔‘‘ ہندوستان کے لیے تجارتی محصولات کی شرح اور دوسرے ملکوں کے ساتھ موازنے سے متعلق سوالات پر روبیو نے کہا کہ مجموعی طور پر معاہدے کی بیشتر شرائط ہندوستان کے لیے فائدہ مند ہوں گی۔

انہوں نے کہا، ’’اس معاہدے کا بڑا حصہ آپ کے لیے اچھا ہے۔ ہم بھی یہی نتیجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ میں اس معاہدے کے طے پانے کا منتظر ہوں، کیونکہ ہمارے پاس کئی ایسے شعبے ہیں جن میں ہم مل کر کام کرسکتے ہیں۔‘‘ ہندوستان کے وسیع رقبے اور مختلف خطوں کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی ملک کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے دارالحکومت کا دورہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے مختلف علاقوں کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ روبیو نے کہا، ’’ہندوستان ایک بڑا اور اہم ملک ہے۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ اگر آپ امریکہ کو سمجھنا اور وہاں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو صرف واشنگٹن جانے سے کام نہیں چلے گا۔ آپ کو جنوب کے کسی علاقے، مغربی ساحل کے کسی مقام اور نیویارک یا شکاگو جیسے شہروں کا بھی دورہ کرنا چاہیے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’اسی طرح میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنے دور میں پورے ہندوستان کا دورہ کرسکوں گا یا اس کے ہر خطے کے بارے میں جان سکوں گا۔ لیکن اتنے بڑے اور اہم ملک کو دیکھنا اور اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔‘‘ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے کو عالمی تجارت میں ہندوستان کی شراکت داری کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، اس معاہدے کا مقصد 30 ٹریلین ڈالر سے زیادہ مالیت کی امریکی منڈی میں ہندوستانی برآمدات کے لیے ترجیحی رسائی کو برقرار رکھنا ہے۔

معاہدے میں محصولات کے نظام کو وسیع پیمانے پر آسان بنانے، مصنوعات کی بڑی تعداد کو صفر محصول پر امریکی منڈی تک رسائی دینے، ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور ہندوستانی کسانوں، چھوٹی و درمیانی صنعتوں اور مقامی کاروبار کے تحفظ کے لیے متوازن انتظامات شامل ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ تاہم، معاہدے کی حتمی شرائط اور اس پر عمل درآمد کی تفصیلات کا انحصار دونوں ملکوں کے درمیان باضابطہ اتفاق پر ہوگا۔