ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کی تاریخی کامیابی، جیمز ٹالاریکو سینیٹر منتخب

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 04-11-2026
ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کی تاریخی کامیابی، جیمز ٹالاریکو سینیٹر منتخب
ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کی تاریخی کامیابی، جیمز ٹالاریکو سینیٹر منتخب

 



واشنگٹن: امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں ایک بڑے سیاسی الٹ پھیر کے دوران ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو نے 2026 کے سینیٹ انتخابات میں ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کو شکست دے کر تاریخی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ منگل کی رات امریکی میڈیا اداروں نے ان کی کامیابی کی پیش گوئی کی۔ اس کامیابی کے ساتھ ٹیکساس میں ریاست گیر انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی 3 دہائیوں سے جاری بالادستی ختم ہوگئی ہے۔ 37 سالہ جیمز ٹالاریکو ریاستی قانون ساز، سرکاری اسکول کے سابق استاد اور پریسبیٹیرین مذہبی تعلیم کے طالب علم رہ چکے ہیں۔

وہ 1993 کے بعد ٹیکساس سے امریکی سینیٹ میں پہنچنے والے پہلے ڈیموکریٹ ہوں گے۔ اس کے علاوہ 1994 کے بعد ریاست میں کسی ریاست گیر انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے والے پہلے ڈیموکریٹ امیدوار بھی بن گئے ہیں۔ سینیٹ کی یہ اہم نشست ریپبلکن پارٹی کے اندر ایک سخت انتخابی مقابلے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ اس مقابلے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کین پیکسٹن کی حمایت کی تھی، جنہوں نے طویل عرصے سے سینیٹر رہنے والے جان کارنن کو پارٹی کے پرائمری انتخاب میں شکست دے کر راستے سے ہٹا دیا تھا۔ کارنن 2002 سے اس عہدے پر فائز تھے۔

تاریخی کامیابی کے بعد آسٹن میں اپنے حامیوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ٹالاریکو نے اپنی انتخابی جدوجہد کو بائبل میں بیان کردہ حضرت داؤد اور جالوت کے مقابلے سے تشبیہ دی۔ انہوں نے ایک طاقتور سیاسی حریف اور دولت مند سیاسی حلقوں کے خلاف اپنی کامیابی کو عام لوگوں کی فتح قرار دیا۔ پر جوش حامیوں کی تالیوں اور نعروں کے درمیان انہوں نے اعلان کیا، ’’ہم نے ٹیکساس کو دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔‘‘ نو منتخب سینیٹر نے انتخابی مہم کے دوران مالی وسائل کے بڑے فرق کا ذکر کرتے ہوئے ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے ان کے حریف کی حمایت میں انتخابی مہم کے لیے بھاری مالی تعاون کیا تھا۔

ٹالاریکو نے کہا، ’’ہم نے ثابت کردیا ہے کہ دنیا بھر کی دولت بھی ٹیکساس کے عوام کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔‘‘ انہوں نے سیاسی اختلافات اور نفرت کے بجائے اتحاد اور محبت کا پیغام دیتے ہوئے کہا، ’’ہم نے یہ بھی دکھا دیا ہے کہ تقسیم کی سیاست، محبت کی سیاست کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔‘‘ ٹالاریکو نے دولت مند سرمایہ کاروں اور سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے طاقتور حلقوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے ہر ارب پتی بڑے مالی معاون، ہر کھرب پتی بڑے مالی معاون اور اس بوسیدہ سیاسی نظام کا دفاع کرنے والے ہر بدعنوان شخص کو ایک پیغام دے دیا ہے کہ اس ریاست اور اس ملک میں طاقت عوام کے ہاتھوں میں ہے۔‘‘