لندن: ہندوستانی نژاد مینیجنگ ڈائریکٹر چندریش پٹیل کی قیادت میں ایک خصوصی غذائی اشیا درآمد اور تقسیم کرنے والی کمپنی کھیرے کی مختلف شکلوں، خصوصاً اچار کے لیے استعمال ہونے والے چھوٹے کھیرے یعنی گرکنز کو مقبول بنانے کی مہم چلا رہی ہے۔ حال ہی میں لندن کے سٹی آف لندن میں واقع مشہور ’گھرکن‘ عمارت میں منعقدہ ایک پروگرام میں کمپنی نے برطانیہ کے معروف گرکن برانڈ ’مسز ایلس وڈ‘ کی مختلف اقسام اور ذائقے پیش کیے۔ اس برطانوی برانڈ کا سفر 1947 میں ایک چھوٹے کاروبار سے شروع ہوا تھا۔
اب کمپنی اپنی ’انتہائی خفیہ‘ ترکیبوں کے ذائقوں کو زیادہ سے زیادہ صارفین تک پہنچانے پر توجہ دے رہی ہے۔ ’مسز ایلس وڈ‘ سے وابستہ میٹ موئز نے کہا، ’’عام گرکن کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن ہمارے لیے ترقی کی گنجائش بہت زیادہ ہے۔ فی الحال صرف ہر چار میں سے ایک گھرانہ اپنی معمول کی خریداری میں گرکن خریدتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’اس کے ساتھ صحت اور پائیداری سے متعلق صارفین کے بدلتے رجحانات کو بھی دیکھیں، جن میں موسم گرما کی فصلوں کو محفوظ کرنا اور اچار ڈالنا شامل ہے، تو ایسا لگتا ہے کہ اچار والی سبزیاں ہماری خوراک میں کہیں زیادہ اہم کردار ادا کریں گی۔ اسی لیے مسز ایلس وڈ کا واضح مقصد ہے کہ لوگ اپنے دوپہر کے کھانے میں کچھ نیا اور چٹپٹا ذائقہ شامل کریں۔‘‘ گرکن دراصل چھوٹے کھیرے ہوتے ہیں جنہیں اچار بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہیں کھیرے کی عام فصل کے مقابلے میں اس کے ابتدائی مرحلے ہی میں توڑ لیا جاتا ہے۔ ’
ایمپائر بیسپوک فوڈز‘ کی جانب سے اس برانڈ کو فروغ دیے جانے کے بعد ’مسز ایلس وڈ‘ کی کچھ مصنوعات ہندوستان میں بھی دستیاب ہیں۔ اس کی پیرنٹ کمپنی نے 1997 میں اپنے قیام کے بعد سے ہندوستانی اور پین ایشیائی کھانوں سے متعلق مصنوعات کی اپنی رینج بھی مسلسل وسیع کی ہے۔ گجرات سے برطانیہ پہنچنے والے چندریش پٹیل کا سفر عالمی کھانوں کے لیے بڑھتی ہوئی دلچسپی اور طلب کی عکاسی کرتا ہے۔ بین الاقوامی غذائی مصنوعات کے ماہر پٹیل کو برطانیہ میں عالمی کھانوں کو فروغ دینے والے ایک ’’مُقدّم‘‘ کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتے لندن میں منعقدہ ’گریٹ گھرکن سوائری‘ کے بعد ’مسز ایلس وڈ‘ نے برطانیہ اور اس سے باہر گرکن کو وہ مقام دلانے کی مہم جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جسے کمپنی اس کا ’’کھانے کی میز پر جائز مقام‘‘ قرار دیتی ہے۔