شکاگو: مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے ہندوستان میں سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع، وسیع ہوتے تجارتی شراکت داری کے دائرے اور ٹیکنالوجی و ڈیٹا سینٹرز کے عالمی مرکز کے طور پر ہندوستان کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ہندوستانی تارکین وطن اور امریکی کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں فعال کردار ادا کریں۔ شکاگو میں یو ایس انڈین کمیونٹی فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گوئل نے امریکہ میں ہندوستانی تارکین وطن کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ محنت، عزم اور مقصد سے جڑی ہندوستانی صلاحیت دنیا بھر میں اپنا اثر قائم کر رہی ہے۔
گوئل نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’شکاگو میں یو ایس انڈین کمیونٹی فاؤنڈیشن کی تقریب سے خطاب کرکے خوشی ہوئی۔ امریکہ میں ہندوستانی تارکین وطن کی شاندار خدمات پر بات کی اور اس بات کو اجاگر کیا کہ محنت اور مقصد سے جڑی ہندوستانی صلاحیت دنیا بھر میں اپنا اثر ڈال رہی ہے۔‘‘ انہوں نے ہندوستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہونے والی تبدیلیوں اور ملک بھر میں پیدا ہونے والے نئے مواقع کا بھی ذکر کیا۔ گوئل نے تارکین وطن سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان کی ترقی کے سفر میں فعال شراکت دار بنیں۔ ایک اور ملاقات میں گوئل نے شکاگو میں ایشین امریکن ہوٹل اونرز ایسوسی ایشن اور ایشین امریکن اسٹور اونرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے بات چیت کی۔
انہوں نے امریکی معیشت اور مقامی برادریوں میں ان کی خدمات کو سراہا اور دونوں تنظیموں سے ہندوستان کے ساتھ مل کر مزید برادریوں کی مدد، کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی اور ہندوستان و امریکہ کے درمیان تجارت کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرنے کی اپیل کی۔ گوئل نے کہا کہ وہ مضبوط شراکت داری اور مسلسل بات چیت کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ شکاگو میں اپنی ملاقاتوں کے دوران گوئل نے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے لیے ہندوستان کی بڑھتی ہوئی کشش کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے ہندوستان کی بڑی داخلی منڈی اور مختلف ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کو اہم قرار دیا۔
گوئل نے کہا، ’’اس وقت ہندوستان میں سرمایہ کاروں اور نئی ٹیکنالوجی سے وابستہ لوگوں کے لیے مواقع کھل رہے ہیں۔ ہندوستان میں 140 کروڑ لوگوں کی ایک بہت بڑی منڈی موجود ہے، جہاں سے آپ پوری دنیا کے ساتھ کاروبار کرسکتے ہیں۔‘‘ ہندوستان کی آزاد تجارتی معاہدوں کی حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے گوئل نے کہا کہ گزشتہ چار سے ساڑھے چار برسوں کے دوران ہندوستان نے 38 مزید ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ معاہدے کیے ہیں، جن کی مجموعی معیشت تقریباً 60 کھرب ڈالر بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سے موجود معاہدوں کو شامل کرنے کے بعد ان تجارتی شراکت داریوں کا دائرہ تقریباً 70 کھرب ڈالر کی مجموعی معیشتوں تک پہنچ جاتا ہے۔
گوئل کے مطابق ان معاہدوں کے ذریعے ہندوستانی اشیا کو ان منڈیوں تک ترجیحی یا صفر ڈیوٹی کے تحت رسائی حاصل ہوگی، جس سے ہندوستان کو عالمی ویلیو چین میں مزید شامل ہونے میں مدد ملے گی۔ وزارت تجارت پہلے بھی کہہ چکی ہے کہ ہندوستان نے 38 ترقی یافتہ معیشتوں پر مشتمل نو آزاد تجارتی معاہدے مکمل کیے ہیں، جن کی مجموعی جی ڈی پی تقریباً 60 کھرب ڈالر ہے۔ مرکزی وزیر نے عالمی ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کے لیے بھی ہندوستان کو ایک ممکنہ اہم مقام کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے ملک کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے، مربوط بجلی گرڈ اور ٹیکنالوجی کے ماحول کا حوالہ دیا۔
گوئل نے کہا، ’’ہم میں سے جو لوگ ڈیٹا سینٹر کی ضروریات کو سمجھتے ہیں، ان کے لیے میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی حالات میں، جہاں آپ اپنے ڈیٹا کو محفوظ اور اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھتے ہیں، ان قابل اعتماد ممالک میں ہندوستان ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے لیے دنیا کا بہترین مقام ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک کے بجلی کے گرڈز کو مربوط کرنے کے لیے کام کیا ہے، تاکہ استحکام بہتر ہو اور پورے ملک میں بجلی کی دستیابی یقینی بنائی جاسکے۔ حکومت نے ڈیٹا سینٹر کے شعبے کی توسیع کے لیے قابل اعتماد بجلی، زمین کی دستیابی اور منظوری کے عمل کو آسان بنانے کو اہم شعبے قرار دیا ہے۔ اس شعبے میں تقریباً 200 ارب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کا اندازہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ گوئل نے ہندوستان میں کاروبار کرنے میں آسانی سے متعلق سرمایہ کاروں کے خدشات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حکومت نے طریقہ کار اور عمل کو آسان بنانے کی کوششیں کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اپنے دورے کے دوران انہوں نے یو ایس انڈیا بزنس کونسل، یو ایس چیمبر آف کامرس اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے مختلف حجم کے کاروباری اداروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے انتظامی اور کاروباری ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا۔ گوئل نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے دوران حکومت کی اعلیٰ سطح پر بدعنوانی کا خاتمہ کردیا گیا ہے اور کاروبار کو آسان بنانے کے لیے مزید اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ گوئل کا شکاگو دورہ امریکہ کے 29 ستمبر سے 5 اکتوبر تک جاری رہنے والے دورے کا حصہ ہے۔ اس دورے میں ملواکی میں جی 20 کے وزرائے تجارت کے اجلاس میں شرکت کے علاوہ ملواکی، شکاگو اور نیویارک میں امریکی صنعت کے رہنماؤں، سرمایہ کاروں، اسٹارٹ اپس اور ہندوستانی تارکین وطن کے نمائندوں سے ملاقاتیں شامل ہیں۔
ملواکی میں جی 20 وزرائے تجارت کے اجلاس کے دوران گوئل نے خوراک اور تجارت، ساختی اضافی پیداواری صلاحیت، سب سے زیادہ ترجیحی ملک کے اصول اور عالمی سپلائی چین میں جبری مشقت سمیت مختلف امور پر ہونے والی بات چیت میں حصہ لیا۔ انہوں نے جی 20 کے اہم شراکت دار ممالک کے وزرائے تجارت اور نمائندوں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔ جی 20 اجلاس سے قبل گوئل نے ملواکی میں نیشنل ایسوسی ایشن آف مینوفیکچررز کے ایک اجلاس میں امریکی مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان اور اعلیٰ عہدیداروں سے بھی ملاقات کی۔ اس دوران سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی، اختراع اور مضبوط سپلائی چین جیسے موضوعات پر بات ہوئی۔
گوئل نے امریکی کمپنیوں کو ہندوستانی اداروں کے ساتھ اپنی شراکت داری مزید گہری کرنے کی دعوت دی۔ گوئل کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ وزارت تجارت و صنعت کے مطابق گوئل اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ متوازن اور باہمی طور پر فائدہ مند دو طرفہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے اور عبوری معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں کے تحت بات چیت کر رہے ہیں۔