عالمی معیشت کو ٹیکنالوجی، جنگوں اور بڑھتے قرضوں سے خطرہ: بلیک اسٹون

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 13-10-2026
عالمی معیشت کو ٹیکنالوجی، جنگوں اور بڑھتے قرضوں سے خطرہ: بلیک اسٹون
عالمی معیشت کو ٹیکنالوجی، جنگوں اور بڑھتے قرضوں سے خطرہ: بلیک اسٹون

 



نئی دہلی: بلیک اسٹون کے صدر اور چیف آپریٹنگ افسر جوناتھن گرے نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کے باعث تیزی سے بدلتی دنیا، بڑھتے جغرافیائی سیاسی تنازعات اور حکومتوں پر قرضوں کا بڑھتا بوجھ عالمی معیشت کے لیے بڑے خطرات بن کر ابھر رہے ہیں۔ تاہم، ہندوستان میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول ملک کی معاشی ترقی کے امکانات کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ بلومبرگ نیو اکانومی 2026 کے دوران ’پیش گوئی کے دور کا خاتمہ‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک مذاکرے میں اظہار خیال کرتے ہوئے جوناتھن گرے نے کہا کہ موجودہ دور کی سب سے نمایاں خصوصیت ٹیکنالوجی ہوگی۔

ان کے مطابق، مصنوعی ذہانت اور اس سے بھی زیادہ ترقی یافتہ ذہانت کے نظام صارفین، کاروباری اداروں اور حکومتوں کے کام کرنے کے طریقوں میں بڑی تبدیلیاں لائیں گے۔ انہوں نے ہندوستان میں بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے میں بہتری، تنازعات کے حل کے نظام میں اصلاحات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے حکومت کے نسبتاً کھلے رویے نے معاشی ترقی کو تیز کرنے میں مدد دی ہے۔ گرے نے کہا، ’’سب سے اہم چیز ٹیکنالوجی ہوگی، کیونکہ میرے خیال میں یہی وہ چیز ہے جو اس دور کی شناخت متعین کرے گی۔‘

‘ انہوں نے اس تبدیلی کا موازنہ امریکہ میں 1870 سے 1900 کے درمیان آنے والے صنعتی انقلاب سے کیا۔ ہندوستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دو دہائیاں پہلے تک جن شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی رسائی محدود تھی، اب ان میں سے کئی شعبے بیرونی سرمایہ کاری کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، بنیادی ڈھانچے اور تنازعات کے حل کے نظام میں بہتری نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھایا ہے۔ گرے نے کہا کہ مالی مشکلات سے دوچار حکومتیں آسان ضابطوں، واضح پالیسیوں اور مناسب ٹیکس نظام کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کو اپنے ملکوں کی طرف راغب کر سکتی ہیں، جس سے معاشی ترقی کو سہارا مل سکتا ہے۔

انہوں نے جاپان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور سرکاری کمپنیوں کے حصول کی راہ آسان بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، خلیجی خطے میں بھی اسی طرح کے رجحانات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے حقیقی دنیا میں استعمال میں اضافے کے ساتھ بلیک اسٹون بجلی، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، دفاع اور حیاتیاتی علوم کے شعبوں پر توجہ دے گا۔ ان کے مطابق، مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ سے بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ گرے نے کہا، ’’خودکار گاڑیاں، روبوٹ اور اس طرح کی تمام ٹیکنالوجی بجلی استعمال کریں گی۔‘

‘ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مصنوعی ذہانت صحت کے شعبے میں بھی نئی اختراعات کو فروغ دے گی۔ ان کے الفاظ میں، ’’انسانی صحت کے لیے اس کے فوائد وہ سب سے بڑی چیز ہوں گے جو اس ٹیکنالوجی سے حاصل ہوں گے۔‘‘ مذاکرے میں شریک ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندر شیکھرن نے کہا کہ قریب مستقبل میں ٹیکنالوجی کے اثرات کئی اہم خدشات کو جنم دے سکتے ہیں۔ ان میں بد نیت عناصر کی جانب سے ٹیکنالوجی کا غلط استعمال اور روزگار کی منڈی میں آنے والی تبدیلیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درمیانی اور طویل مدت میں ٹیکنالوجی سے بڑے فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے، لیکن دنیا میں جاری جنگیں بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں۔

جوناتھن گرے نے ایک اور بڑے خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ مغربی حکومتوں کے لیے اپنے قرضوں کو پائیدار سطح پر رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری اور جنگوں کے اخراجات کے باعث سرمائے کی طلب بڑھ رہی ہے، جس سے حکومتوں پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جن حکومتوں کا قرض ان کی مجموعی گھریلو پیداوار کے 100 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے، ان کے لیے مستقبل میں پیدا ہونے والے معاشی بحرانوں اور اچانک جھٹکوں کا مقابلہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم رشی سنک نے عالمی نظام میں تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی بے یقینی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان معاشی، فوجی اور تکنیکی شعبوں میں مقابلہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، ہندوستان اور خلیجی خطے کے ممالک سمیت کئی ملک اب اپنی آزادانہ حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سنک نے دنیا بھر میں ریاستوں کے درمیان جاری 61 مسلح تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ معاشی سلامتی اب قومی سلامتی اور تکنیکی طاقت سے الگ نہیں رہی۔ انہوں نے موجودہ عالمی صورت حال کو خطرات کا ایک ایسا مجموعہ قرار دیا جس کے اثرات معیشتوں اور ممالک کی سلامتی دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔