بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ کا آئی ایس آئی پر سیاسی تبدیلیوں میں ملوث ہونے کا الزام

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 06-10-2026
بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ کا آئی ایس آئی پر سیاسی تبدیلیوں میں ملوث ہونے کا الزام
بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ کا آئی ایس آئی پر سیاسی تبدیلیوں میں ملوث ہونے کا الزام

 



جنیوا: بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ اور عوامی لیگ کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری محمد حسن محمود نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) بنگلہ دیش میں 2024 کی ان سیاسی تبدیلیوں میں ملوث تھی، جن کے نتیجے میں حکومت کا تختہ الٹ گیا تھا۔ بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی صورت حال پر بات کرتے ہوئے محمود نے کہا کہ اگست 2024 کی سیاسی ہلچل کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت اور موجودہ حکومت دونوں پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 5 اگست 2024 کے واقعات کے پیچھے پاکستانی خفیہ ادارے کی شمولیت کے اشارے موجود تھے۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ آئی ایس آئی کے ان عناصر سے روابط تھے جنہیں وہ سیاسی مخالفین کے خلاف ہونے والے مظالم کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ محمود نے بنگلہ دیش کی سیاسی سمت پر ’’قومی سطح پر ازسرنو غور‘‘ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نفرت، انکار اور ٹکراؤ کی سیاست ختم ہونی چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے عوامی لیگ کی سرگرمیوں پر عائد پابندی ختم کرنے اور اس کے رہنماؤں، کارکنوں اور حامیوں کے خلاف مبینہ کارروائیاں روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔

محمود نے کہا، ’’قومی مفاہمت ہونی چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی صورت حال انتہائی خراب ہے، جہاں آزادی اظہار پر پابندیاں عائد ہیں اور مذہبی اقلیتوں کو مبینہ طور پر دباؤ کا سامنا ہے۔ محمود کے مطابق ہندوؤں، عیسائیوں اور بدھ مت کے پیروکاروں پر حملے کیے گئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مندروں اور گرجا گھروں کو مبینہ طور پر نذر آتش یا منہدم کیا گیا، جبکہ گزشتہ دو برس کے دوران سینکڑوں ہندو خاندانوں کے گھر بھی تباہ کیے گئے۔

محمود نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسی عرصے میں پانچ لاکھ سے زیادہ سیاسی مخالفین، جن میں زیادہ تر عوامی لیگ کے کارکن اور حامی شامل ہیں، کو گرفتار کیا گیا۔ ان کا الزام ہے کہ ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد اب بھی حراست میں ہیں، جبکہ 200 سے زائد عوامی لیگ رہنماؤں اور کارکنوں کی حراست کے دوران مبینہ بدسلوکی، طبی سہولت نہ ملنے اور تشدد کے باعث موت ہوئی ہے۔ محمود نے ہندو مذہبی رہنما چنموئے کرشن داس کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انہیں مذہبی اقلیتوں کے خلاف مبینہ ظلم کے احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا اور وہ اب تک ضمانت کے بغیر حراست میں ہیں۔