کھالتے، نیپال: جب سیلاب آیا تو چھیکو لاما لوگوں کو بھاگنے کی آوازیں دیتے ہوئے پہاڑی کی طرف دوڑے۔ ان کے پیچھے لوگوں کا ایک گروہ بھی آیا، لیکن ان میں سے کوئی زندہ نہیں بچا۔ لاما نے یہ بات بتائی۔ نیپال کے ضلع راسووا میں واقع کھالتے گاؤں کو 2015 کے زلزلے کے بعد عارضی بستی کے طور پر بسایا گیا تھا۔ اس زلزلے میں آس پاس کے کئی گاؤں تباہ ہو گئے تھے۔ تاہم، یہ نئی بستی سیلاب سے بچاؤ کے لیے موزوں نہیں تھی۔ اس کے مکانات تنگ وادی میں دریائے تریشولی کے کنارے ایک دوسرے کے قریب بنائے گئے تھے۔ 26 اگست کو جب سیلابی پانی تیزی سے بستی میں داخل ہوا تو لوگوں کے پاس نکلنے کے راستے بہت محدود تھے۔
مقامی باشندوں کے مطابق، کم از کم 375 افراد لاپتہ ہوئے۔ سیلاب نے پورے گاؤں کو مٹا کر رکھ دیا۔ نیپال ابھی ان تباہ کن سیلابوں کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے جن میں 1400 سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں لاپتہ ہو گئے۔ یہ آفت چین کے ساتھ نیپال کی پہاڑی سرحدی پٹی میں آئی تھی۔ گزشتہ ہفتے شمال وسطی نیپال میں آنے والے ایک اور اچانک سیلاب کے بعد بھی کم از کم پانچ افراد لاپتہ ہو گئے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران نیپال میں زلزلوں، زمین کھسکنے اور سیلاب کی وجہ سے ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں۔ لیکن ان میں سے بہت سے لوگوں کو ایسے عارضی ٹھکانوں میں بسایا گیا جو خود قدرتی آفات کے خطرے سے دوچار تھے۔
کھالتے کی تباہی نے غیر محفوظ مقامات پر لوگوں کو دوبارہ بسانے کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔ اس آفت سے بچ جانے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو ہنگامی امداد اور عارضی پناہ گاہوں کی فراہمی سے آگے بڑھنا ہوگا۔ بے گھر خاندانوں کو محفوظ اور مستقل ٹھکانے فراہم کرنے کی ضرورت ہے، جہاں وہ اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کر سکیں۔ 2015 کے زلزلے میں پورے نیپال میں تقریباً 9000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس زلزلے نے ایسے کئی گاؤں تباہ کر دیے جہاں خاندان نسل در نسل آباد تھے۔
حکومت کے بازآبادکاری منصوبے کے تحت تقریباً 257 ایسے خاندانوں کو کھالتے منتقل کیا گیا جن کی پرانی بستیاں خطرے سے دوچار تھیں۔ بعد میں ارضیاتی جائزوں میں کھالتے کو زمین کھسکنے اور برفانی تودے گرنے کے خطرات کے باعث ’ریڈ زون‘ قرار دیا گیا۔ کھالتے کے ایک رہائشی بام بہادر تمانگ، جو اب حکومت کے امدادی مرکز میں رہ رہے ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے اور کئی دوسرے لوگوں نے اس مقام پر بسائے جانے کے فیصلے کی مخالفت کی تھی، لیکن بالآخر انہیں وہاں منتقل ہونا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ کسی بھی مقام پر آبادکاری کرتے وقت وہاں کی حفاظت کے ساتھ بنیادی سہولتوں کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’حکومت اب ہمیں جہاں بھی بسائے، اسے پہلے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ جگہ محفوظ ہے۔ ہم مویشی نہیں ہیں کہ ہمیں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہانک دیا جائے۔‘‘ تمانگ کے خدشات ایک بڑے مسئلے کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ بے گھر خاندانوں کے لیے صرف محفوظ زمین تلاش کرنا کافی نہیں ہے۔ کسی عارضی بستی کو رہنے کے قابل مستقل گھر بنانے کے لیے اسکولوں، طبی سہولتوں، سڑکوں اور روزگار تک رسائی بھی ضروری ہے۔ نیپال میں آفات سے متاثرہ بستیوں کی نئی منصوبہ بندی نیپال کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ سیلاب متاثرین کے لیے ایک نیا شہر بسانے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جہاں صنعتیں، اسپتال اور اسکول بھی ہوں گے۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ بے گھر ہونے والے لوگوں کو دوبارہ ان بستیوں میں نہیں بھیجا جائے گا جو سیلاب میں تباہ ہو چکی ہیں۔ تعمیر نو کے عمل میں نجی تعمیراتی کمپنیوں کو شامل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اس کے تحت ایک ایسے ماڈل پر کام ہو سکتا ہے جس میں تعمیراتی کمپنیاں زمین کے مالکان کے تعاون سے مکانات تعمیر کریں۔ نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹیو دھرم راج اپریتی نے بتایا کہ حکومت محفوظ علاقوں میں نئی بستیاں بسانے کے لیے زمین کی نشاندہی کر رہی ہے۔ ماہرین زمین کے استعمال کا جائزہ لیں گے اور سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں کو ناقابل رہائش قرار دیا جا سکتا ہے۔ حکومت خطرناک دریائی کناروں کو جنگلاتی علاقوں میں تبدیل کرکے محفوظ مقامات پر مکانات تعمیر کرنے پر بھی غور کر سکتی ہے۔ تاہم، اپریتی نے زور دیا کہ بنیادی ڈھانچے اور شہری منصوبہ بندی کے ذمہ دار اداروں کے درمیان بہتر تال میل ضروری ہے۔
انہوں نے کہا، ’’آفات سے نمٹنے کا ادارہ یہ تمام کام خود نہیں کر سکتا۔ اس کا بنیادی کردار مختلف اداروں کے درمیان تال میل پیدا کرنا اور ایسا ماحول بنانا ہے جس میں دوسرے ادارے بھی اپنی منصوبہ بندی کے دوران قدرتی آفات کے خطرات کو مدنظر رکھیں۔‘‘ نیپال اس سے پہلے بھی سیلاب کے خطرات کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کر چکا ہے، جن میں دریاؤں کی نگرانی، قبل از وقت انتباہی نظام اور مقامی آبادی کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا شامل ہے۔ اس کے باوجود دور دراز پہاڑی وادیاں اچانک آنے والے سیلابوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ایسے سیلاب زمین کھسکنے یا برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے بھی آ سکتے ہیں۔
سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور پہاڑی علاقوں میں زمین کی بڑھتی ہوئی غیر پائیداری کے باعث نیپال میں نگرانی کے بہتر نظام اور مضبوط قبل از وقت انتباہی انتظامات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ کھالتے کے زندہ بچ جانے والے لوگوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ اب کہاں دوبارہ آباد ہوں گے۔ بہت سے لوگ ان مقامات پر واپس جانے سے ہچکچا رہے ہیں جہاں انہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ انہیں خدشہ ہے کہ نئی جگہ منتقل کرنے کا منصوبہ بھی ان کے مستقبل کے بارے میں خدشات دور نہیں کر سکے گا۔