بھوٹان میں گلیشیائی جھیل پھٹنے سے سیلاب کا خطرہ، شمالی بنگال میں ہائی الرٹ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 30-10-2026
بھوٹان میں گلیشیائی جھیل پھٹنے سے سیلاب کا خطرہ، شمالی بنگال میں ہائی الرٹ
بھوٹان میں گلیشیائی جھیل پھٹنے سے سیلاب کا خطرہ، شمالی بنگال میں ہائی الرٹ

 



سلی گوڑی: بھوٹان کے لیم تھانگ علاقے میں گلیشیائی جھیل پھٹنے سے اچانک سیلاب (گلاف) کی اطلاع ملی ہے۔ جھیل سے نکلنے والا پانی مو چھو ندی کے راستے نیچے کی جانب بہتا ہوا سانکوش ندی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر شمالی بنگال میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ سانکوش ندی اور اس سے ملنے والی معاون ندیوں کے کنارے رہنے والے لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ دارجلنگ کے پہاڑی علاقوں، ترائی اور ڈوآرس میں رہنے والے لوگوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر چوکس رہیں۔

دارجلنگ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ راجو بستا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس صورت حال سے متعلق انتباہ جاری کرتے ہوئے خطرے والے علاقوں کے لوگوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ بھوٹان کے لیم تھانگ میں گلیشیائی جھیل پھٹنے سے سیلاب کی صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ جھیل کا پانی مو چھو ندی کے راستے سانکوش ندی کی طرف بہہ رہا ہے۔ انہوں نے سانکوش ندی اور اس سے جڑی تمام معاون ندیوں کے طاس میں رہنے والے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی جان کی حفاظت کے لیے فوراً محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔ دارجلنگ کے پہاڑی علاقوں، ترائی اور ڈوآرس کے باشندوں کو بھی چوکس رہنے کی ہدایت دی۔

گلیشیائی جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب کو تکنیکی زبان میں گلاف (GLOF) کہا جاتا ہے۔ یہ اچانک آنے والا خطرناک سیلاب ہوتا ہے، جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب گلیشیائی جھیل کو روکنے والا قدرتی بند ٹوٹ جاتا ہے یا اس میں شگاف پڑ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں پانی تیزی سے نیچے کی جانب بہنے لگتا ہے اور نشیبی علاقوں میں تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ ریاستی وزیر نسیتھ پرمانک نے ہنگامی تیاریوں کے بارے میں بتایا کہ بھوٹان میں گلیشیائی جھیل پھٹنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور جھیل سے نکلنے والا پانی مو چھو ندی کے راستے سانکوش ندی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سانکوش ندی اور اس کی معاون ندیوں کے کنارے رہنے والے لوگوں کو خبردار کر دیا گیا ہے اور انہیں اپنی حفاظت کے لیے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پانی آئندہ پانچ سے چھ گھنٹوں میں میدانی علاقوں تک پہنچ سکتا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر سیلاب آنے کا خدشہ ہے۔ صورت حال سے نمٹنے کے لیے ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیم کو متحرک کر دیا گیا ہے اور قومی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کو بھی اطلاع دے دی گئی ہے۔ آفات سے نمٹنے والے رضاکاروں کو جائے وقوع پر موجود رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے بچنے کے لیے صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ دوسری جانب علی پور دوار کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس امیت کمار شا نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ بھوٹان کے حکام اور مختلف آفات سے نمٹنے والی ایجنسیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ صورت حال سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ انہوں نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کے لوگوں کو گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے اور فی الحال صورت حال قابو میں ہے۔ پولیس ٹیم، ضلع مجسٹریٹ، بلاک ڈیولپمنٹ افسران اور متعلقہ محکمے باہمی تال میل کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ امیت کمار شا کے مطابق ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) علاقے میں موجود ہے، جبکہ این ڈی آر ایف کی ایک ٹیم بھی وہاں پہنچ رہی ہے۔

اس کے علاوہ شہری دفاع کی ٹیم کو بھی امدادی تیاریوں میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 4,000 سے 5,000 افراد کو اسکولوں کی عمارتوں میں قائم عارضی امدادی مراکز میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ 6,000 سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جا چکا ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پانی کے بہاؤ کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن انتظامیہ اب بھی ہائی الرٹ پر ہے۔ پولیس، ضلع مجسٹریٹ کے دفتر اور بلاک ڈیولپمنٹ افسران کی جانب سے لوگوں کے لیے خشک راشن، پینے کے پانی اور بیت الخلا سمیت دیگر ضروری سہولتوں کا انتظام کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے دو گھنٹوں کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد مزید اقدامات کیے جائیں گے اور انتظامیہ ہر طرح کی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سانکوش ندی کے نظام کے لیے ریڈ الرٹ نافذ ہے۔ خدشہ ہے کہ سیلابی پانی کے ساتھ مردہ مچھلیاں اور لکڑی و کنکریٹ کے بڑے ٹکڑے بھی بہہ کر آئیں گے، جو مزید خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ انتظامیہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور آفات سے نمٹنے والی ٹیمیں نیز مقامی حکام پوری طرح چوکس ہیں۔ خطرے والے علاقوں کے باشندوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی صورت میں غیر ضروری خطرہ مول نہ لیں۔