کاٹھمنڈو: نیپال کے حکام نے پیر کو گورکھا ضلع میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانچ لاپتہ افراد کی تلاش شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق، سیلابی ریلے میں مکانات اور پل بہہ جانے کے بعد مزید 13 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ نیپالی فوج کے مطابق، چھومنوبری دیہی میونسپلٹی کے متاثرہ علاقوں سے اب تک مجموعی طور پر 95 افراد کو بحفاظت نکالا جا چکا ہے، جبکہ تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اتوار کی شام گورکھا ضلع کی چھومنوبری دیہی میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 6 میں اونگی لونگ ندی کے قریب دھولی بھیر کے مقام پر پھنسے تین افراد کو نیپالی فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بچایا گیا۔
چھومنوبری دیہی میونسپلٹی کے چیف ایڈمنسٹریٹو افسر نارائن سپکوٹا نے بتایا کہ یہ افراد اتوار کی صبح اونگی لونگ کے علاقے میں اچانک تودہ گرنے کے بعد پھنس گئے تھے۔ ان کا مویشیوں کا باڑا وہاں موجود تھا۔ سپکوٹا نے کہا، ’’وہاں ان کا مویشیوں کا باڑا تھا۔ اتوار کی صبح اچانک تودہ گرنے کے بعد وہ وہاں پھنس گئے۔ بعد میں انہیں ہوائی راستے سے فلیم پہنچایا گیا۔‘
‘ اخبار رائزنگ نیپال کی رپورٹ کے مطابق، اتوار کی شام تک چار ہیلی کاپٹروں، جن میں ایم آئی 17 بھی شامل تھا، اور زمینی امدادی ٹیموں کی مدد سے 95 افراد کو بچایا گیا۔ ان میں جگت سے 17، یارو سے 22، تھولوڈھونگا سے 13، دوبھان سے تین، فلیم سے دو، نیاقپھیڑی سے 17، پایو سے 12، نامرونگ سے تین، ڈینگ سے تین اور دھولی سے تین افراد شامل ہیں۔ بودھی گنڈکی ندی میں اتوار کو آنے والا سیلاب ایسے وقت میں آیا ہے جب 26 اگست کو بھوٹے کوشی میں آنے والی تباہ کن آفت کو ابھی دو ماہ بھی نہیں گزرے ہیں۔
اس آفت کے دوران پانی اور ملبے کے اچانک تیز ریلے نے راسووا اور سندھ پال چوک اضلاع کی بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس واقعے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ہزاروں افراد لاپتہ ہو گئے تھے۔ پے در پے آنے والی ان آفات نے ہمالیائی دریاؤں کے کنارے آباد بستیوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔ ان علاقوں میں تودے گرنے سے اکثر ندیوں کا راستہ بند ہو جاتا ہے اور پانی عارضی طور پر جمع ہونے لگتا ہے۔ جب یہ رکاوٹیں ٹوٹتی ہیں تو پانی اور ملبے کے تباہ کن ریلے نیچے واقع آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ نیپال کی قومی اتھارٹی برائے آفات کے خطرات میں کمی اور انتظام کے مطابق، پانچ افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں دو خواتین شامل ہیں۔
حکام نے بتایا کہ سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات میں دو معلق پل، گاڑیوں کی آمد و رفت کے قابل دو پل، پن بجلی کے تین منصوبے اور مویشیوں کے 34 باڑے تباہ ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 45 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے، جبکہ 27 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ تین گاڑیاں بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔ امدادی کارروائیوں کے لیے 700 سے زیادہ حفاظتی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں نیپالی فوج کے 171 جوان شامل ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں خیمے، کمبل، گدے، سونے کے لیے تھیلے اور کھانا پکانے کے ضروری سامان بھی پہنچائے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق، لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں۔