نارتھ ڈکوٹا: امریکی ریاست نارتھ ڈکوٹا میں مہاتما گاندھی کا پہلا قدِ آدم مجسمہ جمعرات کو دارالحکومت بسمارک کے پیس پارک میں رونمائی کے بعد عوام کے لیے پیش کیا گیا۔ اسے ہندوستان اور نارتھ ڈکوٹا کے درمیان دوستی کے رشتوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر امن، عدم تشدد اور ہم آہنگی کا گاندھی جی کا دیرپا پیغام بھی اجاگر کیا گیا۔ اس اہم تقریب میں ریاست کی خاتونِ اول کرسٹی آرمسٹرانگ، زراعت کے کمشنر ڈگ گوئرنگ، مقامی معززین اور ہندوستانی نژاد امریکی برادری کے ارکان نے شرکت کی۔ سیئٹل میں ہندوستان کے قونصل جنرل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے مجسمے کی رونمائی کا اعلان کیا۔
پوسٹ میں اسے ’’پیس پارک میں مہاتما کی آمد: نارتھ ڈکوٹا کا پہلا گاندھی مجسمہ‘‘ قرار دیا گیا۔ قونصل جنرل کے دفتر نے بتایا کہ نارتھ ڈکوٹا میں مہاتما گاندھی کا یہ پہلا قدِ آدم مجسمہ ہے، جس کی پیس پارک میں رونمائی ہندوستان اور نارتھ ڈکوٹا کی دوستی کے لیے ایک خصوصی سنگ میل ہے۔ تقریب میں مقامی معززین اور ہندوستانی نژاد امریکی برادری کے افراد کی شرکت کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ قونصل جنرل کے دفتر نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ تقریب کے دوران مقامی اسکولوں کے طلبہ نے گاندھی جی کے پسندیدہ بھجن پیش کیے۔ اس طرح تقریب میں ان کے امن، عدم تشدد اور ہم آہنگی کے لازوال پیغام کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
بسمارک کے این بی سی سے وابستہ ٹیلی ویژن چینل کے ایف وائی آر کو انٹرویو دیتے ہوئے سیئٹل میں ہندوستان کے قونصل جنرل پرکاش گپتا نے کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات کے موجودہ ماحول میں گاندھی جی کے امن اور عدم تشدد کے پیغام کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آج دنیا میں گہری تقسیم ہے اور مختلف خطوں میں تنازعات جاری ہیں۔ ایسے وقت میں نارتھ ڈکوٹا سے گاندھی جی کا عدم تشدد کا پیغام نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا تک پہنچنا بہت اہم ہے۔ یہ اس بنیادی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت ہندوستان اور امریکہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، یعنی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور دنیا کی سب سے قدیم جمہوریت۔‘‘
اس سے پہلے مارچ میں امریکی ریاست مونٹانا میں بھی مہاتما گاندھی کے پہلے مجسمہ نما سر (بسٹ) کی رونمائی کی گئی تھی۔ یہ تقریب مسولا میں واقع یونیورسٹی آف مونٹانا کے معروف مائیک مینسفیلڈ سینٹر میں منعقد ہوئی تھی، جسے ہندوستان اور امریکہ کے ثقافتی تعلقات کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ سیئٹل میں ہندوستان کے قونصل جنرل کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ ’انڈیا اِن سیئٹل‘ کے مطابق، اس مجسمہ نما سر کی مشترکہ طور پر رونمائی مونٹانا کے گورنر گریگ جینفورٹے اور سیئٹل میں ہندوستان کے قونصل جنرل نے کی تھی۔ تقریب میں ریاست کے سینئر افسران، یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ اور مونٹانا ورلڈ افیئرز کونسل کے ارکان نے شرکت کی تھی۔
یہ مجسمہ نما سر حکومتِ ہند کی جانب سے تحفے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اسے گاندھی جی کے امن اور عدم تشدد کے دیرپا نظریات کے لیے خراجِ عقیدت قرار دیا گیا۔ مونٹانا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر گریگ جینفورٹے نے کہا، ’’گاندھی جی کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قیادت کا آغاز کردار سے ہوتا ہے۔ مجسمہ نما سر پر درج عبارت میں گاندھی جی سے منسوب یہ قول شامل ہے کہ اچھے خیالات عمل کے بغیر بے معنی ہیں۔ یہ پیغام مونٹانا میں بھی گہری معنویت رکھتا ہے۔‘‘ اس تقریب میں مونٹانا کی خاتونِ اول سوزن جینفورٹے کے علاوہ ریاست کے اہم عہدیداروں اور تعلیمی شعبے سے وابستہ شخصیات نے بھی شرکت کی تھی۔