جالود: اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے کئی دہائیوں پر محیط سیاسی کریئر کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاہم، مقبوضہ مغربی کنارے میں ان کی پالیسیوں کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں اسرائیلی بستیوں میں بڑے پیمانے پر توسیع ہوئی، ہزاروں فلسطینیوں کو اپنے گھروں اور زمینوں سے بے دخل ہونا پڑا اور مسلح انتہا پسند یہودی آبادکاروں کو مزید طاقت ملی۔ نیتن یاہو کے مخالفین اگرچہ ان سرگرمیوں پر قابو پانے کی کوشش کریں گے، لیکن ان کے لیے اس عمل کو پوری طرح روکنا آسان نہیں ہوگا۔
اسرائیلی عوام نیتن یاہو کی قیادت اور ان کے اخلاقی کردار کے معاملے میں گہری تقسیم کا شکار ہیں، لیکن ان میں سے بڑی تعداد اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی حمایت کرتی ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو کے مخالفین آبادکاروں کے تشدد کے خلاف کارروائی کرنے اور متنازعہ چوکیوں کو ختم کرنے کا وعدہ تو کر رہے ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر دو ریاستی حل کے حامی نہیں ہیں۔ بین الاقوامی برادری کی نظر میں اسرائیل فلسطین تنازعے کے حل کا یہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی سینئر اسرائیل تجزیہ کار میرَو زونزین نے کہا، ’’کسی کو بھی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ نئی حکومت گزشتہ چار برسوں کے دوران مقبوضہ علاقوں اور خود اسرائیل کے اندر اسرائیلی جارحیت کے ہر پہلو میں ہونے والی انتہائی تیز رفتار اور غیر معمولی شدت کو کم کر سکے۔‘‘ نیتن یاہو کے تقریباً 17 برس پر محیط اقتدار، جو کسی بھی اسرائیلی رہنما کے مقابلے میں طویل ترین دورِ حکومت ہے، کا ایک بڑا اثر یہ ہے کہ اب مسلح یہودی آبادکاروں کے بڑے گروہ معمول کے طور پر اسرائیلی فوج کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
وہ فلسطینی آبادیوں پر حملے کرتے ہیں، لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالتے ہیں اور ان کی زمینوں کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ غزہ سے حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اس عمل میں مزید تیزی آئی۔ نیتن یاہو کے مخالفین اقتدار میں آ کر مغربی کنارے میں مزید فوجی تعینات کر سکتے ہیں اور سخت اقدامات کی اجازت دے سکتے ہیں، لیکن خدشہ ہے کہ آبادکاروں کو ملنے والی طاقت اب اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اسے قابو میں لانا مشکل ہوگا۔ نیتن یاہو کی حکومت نے آبادکاروں میں ہزاروں آتشیں ہتھیار تقسیم کیے ہیں۔ ان آبادکاروں کو اسرائیلی فوج اور سکیورٹی اداروں کے اندر بھی حامی حاصل ہیں۔ بعض انتہا پسند آبادکار اب خود کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی طرح سمجھنے لگے ہیں۔
وہ لوگوں کو گرفتار کرتے ہیں، ان فلسطینیوں کو قتل کرتے ہیں جنہیں وہ اپنے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں، سکیورٹی فورسز کو طلب کرتے ہیں اور فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیتے ہیں۔ فلسطینی خاندان طباسی کو جولائی میں مغربی کنارے کے گاؤں جالود میں واقع اپنے پہاڑی گھر سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑا۔ آبادکاروں نے 19 دن تک ان کے گھر کا محاصرہ کیے رکھا، پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کر دی اور دھمکی دی کہ اگر وہ وہاں سے نہیں گئے تو انہیں ’’زندہ بھون دیا جائے گا‘‘۔ خاندان کے سربراہ 60 سالہ محمود طباسی نے یہ تفصیلات بتائیں۔
اسرائیلی عدالت نے فوج کو حکم دیا تھا کہ وہ خاندان کو ان کے گھر واپس لے جائے، لیکن اس حکم پر عمل نہیں ہوا۔ حالیہ کوشش بھی شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ناکام ہوگئی، کیونکہ 150 سے زیادہ مسلح آبادکاروں کا ہجوم تیزی سے وہاں جمع ہوگیا۔ آبادکار گھر کی دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوئے اور ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔ فوجیوں نے طباسی اور ان کے خاندان کو ایک بکتر بند جیپ میں بٹھایا اور وہاں سے لے گئے، جبکہ آبادکاروں نے ان کے گھر کو آگ لگا دی۔ اب یہ خاندان وادی میں واقع اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں رہ رہا ہے۔ ان کا اپنا گھر جل کر سیاہ ہو چکا ہے اور اس کے آس پاس اب بھی آبادکار گھومتے رہتے ہیں۔ اس معاملے پر اسرائیلی فوج نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ محمود طباسی نے کہا، ’’اگر وہ انہیں وہاں سے نکالنا چاہتے تو یقیناً ایسا کر سکتے تھے۔ یہ وہ فوج ہے جو لبنان، غزہ اور ایران میں لڑتی ہے۔ کیا وہ 150 یا 200 آبادکاروں کو قابو میں نہیں رکھ سکتی؟‘‘ نیتن یاہو کے دور میں آبادکاروں نے مغربی کنارے میں 250 سے زیادہ عارضی بستیاں اور چوکیاں قائم کی ہیں۔ ان کی توجہ خاص طور پر ان علاقوں پر رہی ہے جہاں فلسطینی چرواہے کئی دہائیوں سے آباد ہیں۔
ان چوکیوں کے ذریعے آبادکار وسیع دیہی علاقوں پر عملاً قبضہ کر لیتے ہیں۔ وہ چرواہوں پر حملے کرتے ہیں، پانی کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرتے ہیں اور اپنی بھیڑ بکریوں کو فلسطینیوں کی چراگاہوں میں لے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اکثر اسرائیلی فوج کی موجودگی میں ہوتا ہے۔ اسرائیل میں آبادکاری مخالف ایک تنظیم سے وابستہ محقق درور ایکتس کے مطابق، ان چوکیوں نے آبادکاروں کو مغربی کنارے کے تقریباً پانچویں حصے پر عملاً کنٹرول حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اسرائیل نے 1967 کی مشرقِ وسطیٰ جنگ میں مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا۔ فلسطینی ان تینوں علاقوں کو اپنی مستقبل کی ریاست کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ ایکتس کی تنظیم کریم ناووت اور آبادکاری مخالف ایک دوسری اسرائیلی تنظیم بتسیلم کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2023 سے اب تک اس حکمت عملی کے نتیجے میں کم از کم 127 فلسطینی چرواہا برادریوں کو اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
ان برادریوں کی بے دخلی کے باعث مغربی کنارے کے تقریباً پورے مشرقی حصے، جو اردن کی سرحد کے ساتھ واقع ہے، سے فلسطینی آبادی بڑی حد تک ختم ہو گئی ہے۔ آبادکاروں کا واضح مقصد ایک ایسی قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا ہے جس کا اپنا مسلسل اور جغرافیائی طور پر مربوط علاقہ ہو۔ نیتن یاہو کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ تشدد میں ملوث آبادکاروں کے خلاف کارروائی کریں گے اور ان چوکیوں کو ختم کریں گے جو اسرائیلی قانون کے تحت بھی غیر قانونی ہیں۔ لیکن وہ نیتن یاہو حکومت کی جانب سے قانونی حیثیت دی گئی 100 سے زیادہ نئی بستیوں کو خالی نہیں کرائیں گے۔ ان میں 44 ایسی بستیاں شامل ہیں جو پہلے غیر قانونی چوکیاں تھیں۔ اس کے علاوہ وہ کئی دہائیوں سے قائم بستیوں کو بھی ختم نہیں کریں گے، جن میں سے بہت سی اب مکمل ترقی یافتہ مضافاتی آبادیوں کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ بین الاقوامی برادری کی اکثریت تمام اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی اور دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل مغربی کنارے کو یہودی عوام کا تاریخی اور مذہبی وطن قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس علاقے کی مستقبل کی حیثیت کا فیصلہ مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے۔ تاہم، ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ایسے مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ اگر کچھ آبادکاری چوکیاں ختم بھی کر دی جائیں تو اپنے گھروں کو واپس آنے کے خواہش مند بہت سے فلسطینیوں کو وہاں جلے ہوئے اور لوٹے گئے مکانات ملیں گے۔ اس کے علاوہ انہیں قریبی اسرائیلی آبادکاروں کی دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ درور ایکتس نے کہا، ’’اب معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ بڑے پیمانے پر بستیوں کو ختم نہیں کیا جائے گا۔ اب یہ ایک مکمل نسل پرستانہ نظام ہے، جو پہلے سے کہیں زیادہ فخر کے ساتھ قائم ہے۔‘‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کی دیگر بڑی تنظیموں نے 7 اکتوبر کے حملے اور اس کے بعد کے واقعات سے پہلے ہی اسرائیل پر نسل پرستی پر مبنی نظام، یعنی اپارتھائیڈ، کے بین الاقوامی جرم کا الزام لگایا تھا۔ اسرائیل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
نیتن یاہو کی جگہ وزیر اعظم بننے کے سب سے زیادہ امکانات ریٹائرڈ جنرل گادی آئزن کوٹ کے ہیں، جو سیاسی طور پر اعتدال پسند سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اسرائیل کی سیاسی جماعتوں کے مختلف رجحانات سے تعلق رکھنے والی تین دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اکثریتی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس اتحاد میں عرب قیادت والی وہ جماعتیں شامل نہیں ہوں گی جو دو ریاستی حل کی حمایت کرتی ہیں۔ یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کی اسرائیل امور کی تجزیہ کار بیتھ اوپن ہائیم نے کہا کہ اپوزیشن دائیں بازو کی نئی سکیورٹی حکمت عملی کا کوئی قابلِ یقین متبادل پیش کرنے میں مشکلات کا شکار رہی ہے۔
اس حکمت عملی میں خطرات کو جارحانہ انداز میں پہلے ہی ختم کرنے کی کوشش، فوجی کارروائیوں کے لیے مکمل آزادی برقرار رکھنے اور حفاظتی علاقوں کے قیام پر زور دیا جاتا ہے۔ جمعہ کو ہونے والی فائرنگ، جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے، جیسے فلسطینی حملوں اور اسرائیلی بائیں بازو کو دشمنوں کے ہمدرد کے طور پر پیش کرنے کی دائیں بازو کی کوششوں نے بھی سیاسی ماحول کو متاثر کیا ہے۔ اوپن ہائیم نے کہا، ’’اس کا مجموعی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ امن اور سمجھوتے کی بات کرنا سیاسی طور پر نقصان دہ بن گیا ہے۔‘‘ آئزن کوٹ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت نہیں کرتے، تاہم وہ مغربی کنارے کے اس 40 فیصد حصے میں محدود خود اختیاری دینے کے لیے تیار ہیں جہاں 1990 کی دہائی میں طے پانے والے معاہدوں کے تحت فلسطینی اتھارٹی انتظام چلا رہی ہے۔
باقی 60 فیصد علاقے میں، جو براہِ راست اسرائیلی فوجی انتظام کے تحت ہے، وہ اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی اجازت دیں گے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج اور نیم فوجی سرحدی پولیس کو آبادکاروں کے تشدد کے خلاف سخت کارروائی کے لیے بااختیار بنانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ میرَو زونزین کے مطابق، آئزن کوٹ مغربی کنارے میں کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں اور یورپی ممالک کی جانب سے اسرائیل پر عائد پابندیوں اور مزید پابندیاں لگانے کے ارادے کو بھی کم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’وہ زیادہ سے زیادہ اثر حاصل کرنے کے لیے کم سے کم ضروری اقدامات کریں گے۔
‘‘ آئزن کوٹ کے ممکنہ اتحادیوں میں بائیں بازو کے ایسے سیاست دان بھی شامل ہیں جو اسرائیلی بستیوں کی مخالفت کرتے ہیں اور ماضی میں دو ریاستی حل کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ تاہم، نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اتحاد بنانے کی خاطر انہوں نے اپنے ان مؤقفوں کو فی الحال ایک طرف رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اسرائیلی رہنما طویل عرصے سے مقبوضہ علاقوں کے بارے میں اپنے عزائم اور امریکہ کے ان مطالبات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جن کا مقصد اسرائیل فلسطین تنازعے کا حل تلاش کرنا ہے۔