ڈیموکریٹس کی جیت پر ایلون مسک کا طنز، خلائی ڈیٹا سینٹرز کا ذکر

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 04-11-2026
ڈیموکریٹس کی جیت پر ایلون مسک کا طنز، خلائی ڈیٹا سینٹرز کا ذکر
ڈیموکریٹس کی جیت پر ایلون مسک کا طنز، خلائی ڈیٹا سینٹرز کا ذکر

 



واشنگٹن: امریکہ کے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی بڑی کامیابی کے بعد دنیا کے امیر ترین کاروباری شخصیت ایلون مسک نے طنزیہ انداز میں ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں بھاری رقم خرچ کرنے کے باوجود پارٹی کو بڑے انتخابی نقصانات اٹھانے پڑے۔ اس پر مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر 2 طنزیہ پوسٹیں کیں اور کہا کہ اب خلا میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنا زیادہ پرکشش دکھائی دے رہا ہے۔ ایلون مسک نے اپنی پہلی پوسٹ میں لکھا، ’’خلا میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا خیال اس وقت کافی پرکشش لگ رہا ہے۔‘‘

ایک دوسری پوسٹ میں انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا، ’’لگتا ہے کہ انتخابات میں مداخلت کرنے والی میری خلائی لیزر اس بار کام نہیں آئیں۔‘‘ ان کے یہ تبصرے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ڈیموکریٹس نے وسط مدتی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔ اس سے واشنگٹن میں سیاسی طاقت کا توازن بدل گیا ہے۔ این بی سی نیوز کے مطابق دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے انتخابی مہم کے دوران ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں تقریباً 250 ملین ڈالر خرچ کیے تھے۔ اس طرح وہ ریپبلکن پارٹی کے سب سے بڑے مالی معاونین میں شامل ہوگئے تھے۔

مسک کی بڑی سیاسی سرمایہ کاری میں ٹیکساس کے سینیٹ انتخابات بھی شامل تھے، جہاں ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کو ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ ٹیکساس طویل عرصے سے ریپبلکن پارٹی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے، اس لیے یہاں ڈیموکریٹس کی کامیابی کو ایک بڑی سیاسی تبدیلی قرار دیا جارہا ہے۔ جیمز ٹالاریکو نے اپنی کامیابی کے بعد خطاب میں ایلون مسک کا بھی ذکر کیا تھا۔ انہوں نے اپنی انتخابی جدوجہد کو بائبل میں بیان کردہ حضرت داؤد اور جالوت کے مقابلے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی مہم نے مسک، صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور واشنگٹن کے طاقتور سیاسی نظام کو چیلنج کیا ہے۔

ایلون مسک کا خلائی ڈیٹا سینٹرز سے متعلق تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبوں کے مستقبل کے حوالے سے بھی سیاسی غیر یقینی بڑھ گئی ہے۔ خلا میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کے بارے میں ان کی پوسٹ کو اس اشارے کے طور پر دیکھا جارہا ہے کہ وہ اپنے کاروباری مفادات کے بعض حصوں کو زمین سے باہر منتقل کرنے کے امکان پر غور کرسکتے ہیں۔ ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی صنعت کے لیے آئندہ حکومتی پالیسیوں کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

انتخابی نتائج کے بعد اسٹاک مارکیٹ کے فیوچر کاروبار میں بھی رات کے دوران گراوٹ دیکھی گئی۔ اس کی ایک وجہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ٹیکنالوجی اور ڈیٹا سینٹرز کے تیزی سے پھیلتے ہوئے کاروبار پر ممکنہ اثرات کے بارے میں خدشات بتائے گئے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کی یہ انتخابی شکست ایلون مسک کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے، جنہوں نے پارٹی کے حمایت یافتہ امیدواروں پر بھاری سرمایہ کاری کی تھی۔ ان کی مالی مدد کے باوجود کئی اہم ریپبلکن امیدوار انتخاب ہار گئے، جبکہ ڈیموکریٹس نے ان ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کی جو روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کے زیر اثر رہی ہیں۔ انتخابی نتائج نے کانگریس میں ڈیموکریٹس کی پوزیشن مضبوط کردی ہے۔ اب انہیں ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کو چیلنج کرنے اور ان کی صدارت کے باقی 2 برسوں کے دوران انتظامیہ کے اقدامات کی زیادہ سخت نگرانی کرنے کا موقع ملے گا۔