واشنگٹن:، ارب پتی کاروباری شخصیت اور اسپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک امریکہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ سیاسی عطیات دینے والے انفرادی شخص بن گئے ہیں۔ انہوں نے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں اور اس سے وابستہ سیاسی گروپوں کی حمایت میں 44 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔ اخبار ’دی ہل‘ کے مطابق، انتخابی مہم کے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ مسک نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران اپنے سیاسی گروپ ’امریکہ پی اے سی‘ کو مزید 7 کروڑ 68 لاکھ ڈالر دیے ہیں۔
اس اضافی رقم کے بعد آئندہ انتخابات کے لیے ان کے مجموعی اخراجات 44 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔ مسک نے ’امریکہ پی اے سی‘ کی بنیاد 2024 کے انتخابی دور میں رکھی تھی۔ اکتوبر میں تقریباً ایک ہفتے کے دوران اس گروپ کو تازہ عطیات موصول ہوئے۔ یہ رقم ان 36 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے علاوہ ہے جو مسک پہلے ہی ریپبلکن امیدواروں اور ان سے وابستہ سیاسی تنظیموں کی حمایت پر خرچ کر چکے تھے۔ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق، مسک نے اپنے سیاسی اخراجات کا بڑا حصہ اس مقصد کے لیے مختص کیا ہے کہ ریپبلکن پارٹی امریکی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکے۔
ان کے حالیہ عطیات کا ایک بڑا حصہ ٹیکساس میں سینیٹ کی اس سخت مقابلے والی نشست پر مرکوز ہے، جہاں ریپبلکن امیدوار اور ریاست کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کا مقابلہ ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو سے ہے۔ سی بی ایس نیوز کے حوالے سے جاری انتخابی مالیاتی گوشواروں کے مطابق، مسک نے ستمبر میں دو مرتبہ رقم دے کر ’سینیٹ لیڈرشپ فنڈ‘ کو مجموعی طور پر 15 کروڑ 80 لاکھ ڈالر عطیہ کیے۔ یہ ایک بڑی سیاسی تنظیم ہے جو ریپبلکن امیدواروں کی سینیٹ انتخابات میں حمایت کرتی ہے۔ بعد ازاں اس تنظیم نے اسی کے مطابق رقم ٹیکساس کی ایک سیاسی ایکشن کمیٹی کو منتقل کی، جو کین پیکسٹن کی حمایت کر رہی ہے
رپورٹ کے مطابق، مسک نے 9 ستمبر کو 7 کروڑ 50 لاکھ ڈالر دیے، جب کہ تقریباً دو ہفتے بعد مزید 8 کروڑ 30 لاکھ ڈالر عطیہ کیے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق، یہ عطیات رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں سینیٹ لیڈرشپ فنڈ کو موصول ہونے والی کل رقم کے نصف سے بھی زیادہ تھے۔ مسک نے اپنے ٹرسٹ کے ذریعے کین پیکسٹن کی حمایت کرنے والی تنظیم ’لون اسٹار لبرٹی پی اے سی‘ کو بھی ایک کروڑ ڈالر دیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کرنے والے بڑے سیاسی گروپ ’کانگریشنل لیڈرشپ فنڈ‘ کو 2 کروڑ ڈالر، ’ریپبلکن گورنرز ایسوسی ایشن‘ کو ایک کروڑ ڈالر اور ’ریپبلکن اٹارنی جنرلز ایسوسی ایشن‘ کو 20 لاکھ ڈالر عطیہ کیے۔
ان کا سیاسی گروپ ’امریکہ پی اے سی‘ بھی کانگریس کی ان نشستوں پر ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کر رہا ہے جہاں مقابلہ سخت ہے۔ مسک کے تازہ عطیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک بار پھر بڑے پیمانے پر سیاسی مالی معاونت کر رہے ہیں۔ اس سے قبل 2024 کے انتخابی دور میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے لیے 25 کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے تھے۔
مسک کی جانب سے سیاسی سرگرمیوں میں دوبارہ بڑے پیمانے پر مالی تعاون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ سال ٹرمپ کے ساتھ ان کی کھلی لفظی جنگ کے بعد ریپبلکن حلقوں میں یہ خدشات پیدا ہو گئے تھے کہ وہ سیاست میں اپنی دلچسپی اور مالی معاونت کم کر سکتے ہیں۔ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو امریکی سیاست کے لیے انتہائی اہم مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں، یعنی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، پر کنٹرول کا فیصلہ ہوگا۔ نتائج کے اثرات ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے اور واشنگٹن میں سیاسی طاقت کے توازن پر نمایاں طور پر مرتب ہو سکتے ہیں۔