یروشلم: اسرائیل میں انتخابات کے لیے ووٹنگ شروع ہوگئی ہے۔ ملک کے 73,31,981 ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ ووٹنگ منگل کی رات مقامی وقت کے مطابق 10 بجے ختم ہوگی۔ انتخابات سے قبل اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے اہم حریف گادی آئزن کوٹ نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے اور قتل عام کا حوالہ دیتے ہوئے ووٹروں سے اپنی جماعت یاشار کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔
گادی آئزن کوٹ نے ووٹنگ شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’جب آپ ووٹ ڈالنے جائیں تو صبح 6 بج کر 29 منٹ کے اس وقت کو یاد رکھیں۔ آج ہمارے پاس بیلٹ باکس میں ووٹ ڈال کر 7 اکتوبر والی حکومت اور ذمہ داریوں سے بچنے والی قیادت کو بدلنے اور اسرائیل کو ایک نئی اور بہتر راہ پر لے جانے کا موقع ہے۔ ہمیں اس قابل ہونا چاہیے۔ میں اس کے لیے پرعزم ہوں۔‘‘ آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد 7 اکتوبر کے حملے کی ذمہ داری طے کرنے اور اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ آئزن کوٹ کو سلامتی کے معاملے میں سخت موقف رکھنے والا رہنما سمجھا جاتا ہے۔
ان کی انتخابی مہم کا اہم نکتہ یہ ہے کہ نیتن یاہو اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ منگل کے انتخابات سے قبل اپنے آخری پیغام میں آئزن کوٹ نے کہا کہ انتخابات کے نتائج آنے اور نئی حکومت قائم ہونے کے فوراً بعد بنجمن نیتن یاہو کو اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کی تشکیل تیزی سے مکمل کی جانی چاہیے اور وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ایسا ہی ہو۔ ان کے مطابق اسرائیلی عوام ایسے وزیر اعظم کا انتخاب کریں گے جو ہمیشہ اسرائیل کے مفاد میں فیصلے کرے، سیاسی فائدے کے لیے ملک کی سلامتی اور اسرائیلی فوج کے جوانوں کو داؤ پر نہ لگائے۔ یسرائیل بیتینو پارٹی کے رہنما اویگدور لائبرمین نے بھی نیتن یاہو کے خلاف اسی طرح کا موقف اختیار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے خلاف ووٹ دینا ایک مضبوط اسرائیل کے حق میں ووٹ دینے کے برابر ہے۔ ووٹنگ سے ایک روز قبل اپنے پوتے کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے لائبرمین نے لکھا کہ اگر سب لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے نکلیں تو ان کا پیارا پوتا ایسے ملک میں بیدار ہوگا جہاں ہر شخص کے لیے فوج یا شہری خدمات انجام دینا ضروری ہوگا، سب لوگ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے اور قانون کی نظر میں سب برابر ہوں گے۔ انہوں نے ایسے اسرائیل کی خواہش ظاہر کی جہاں شہری شادیوں کی اجازت ہو، تمام بچوں کو بنیادی نصاب کے مطابق تعلیم دی جائے اور لوگوں پر کسی طرز زندگی کو زبردستی مسلط کرنے کے بجائے انہیں اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔
لائبرمین نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا پوتا ایک خوش حال، صہیونی، متوازن اور مضبوط اسرائیل میں پرورش پائے۔ انہوں نے اسے اپنا عہد قرار دیتے ہوئے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے پولنگ مراکز کا رخ کریں۔ ان کے مطابق یہ جدوجہد ان کے پوتے اور ملک کے تمام بچوں اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے ہے۔ ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما یائیر گولان بھی حکومت کی تبدیلی کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیتن یاہو کی حکومت 7 اکتوبر کے حملے کی تحقیقات کے لیے اب تک آزاد کمیشن قائم کرنے کی مخالفت کرتی رہی ہے۔
گولان نے کہا کہ صرف حقیقی تبدیلی کے حق میں ووٹ ڈالنے سے نیتن یاہو اور ان کی پالیسیوں دونوں کو اقتدار سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق ڈیموکریٹک اتحاد کی مضبوط کامیابی ہی ایسی نئی حکومت کی تشکیل کی ضمانت دے سکتی ہے جو موجودہ حکومت کی جگہ لے سکے۔ گولان نے الزام لگایا کہ نیتن یاہو کی حکومت آزاد تحقیقاتی کمیشن کے بجائے سیاسی تقرریوں پر مشتمل کمیشن قائم کرنا چاہتی ہے، جبکہ وزیر اعظم نے اپنی نگرانی میں ہونے والی ناکامیوں کی ذاتی ذمہ داری قبول کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔ دوسری جانب بنجمن نیتن یاہو اپنی انتخابی مہم میں اپوزیشن کو بائیں بازو کا اتحاد قرار دے رہے ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو حکومت بنانے کے لیے عرب جماعتوں کی حمایت لینا پڑ سکتی ہے، جسے اسرائیل کے بہت سے ووٹر پسند نہیں کرتے۔ پیر کی رات ایکس پر اپنے پیغام میں نیتن یاہو نے لکھا کہ اسرائیل کے دشمن چاہتے ہیں کہ ان کا ملک ہار جائے، کیونکہ اس صورت میں آئزن کوٹ، لائبرمین، یائیر گولان اور عرب جماعتوں پر مشتمل ایک خطرناک بائیں بازو کی حکومت قائم ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اس امکان کو روکنے کے لیے ووٹروں سے اپنی جماعت لیکوڈ کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔ منگل کو ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ منتخب جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے۔
اس کے بعد وہ اس قانون ساز کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے بارے میں ان کا خیال ہوگا کہ وہ اس کام میں سب سے زیادہ کامیاب ہوسکتا ہے۔ اس رہنما کو اتحادی حکومت تشکیل دینے کے لیے 28 دن ملیں گے، جس میں مزید 14 دن کی توسیع بھی ممکن ہوگی۔ اگر پہلا امیدوار حکومت بنانے میں ناکام رہتا ہے تو کسی دوسری جماعت کے رہنما کو 28 دن کا وقت دیا جاسکتا ہے، تاہم اس مدت میں توسیع نہیں ہوگی۔ اگر وہ بھی ناکام ہوجاتا ہے تو پارلیمنٹ کے کم از کم 61 ارکان مزید 21 دن کے اندر صدر سے کسی مخصوص قانون ساز کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپنے کی درخواست کرسکتے ہیں۔
اسرائیل میں کسی حکومت کو اقتدار سنبھالنے کے لیے پارلیمنٹ، جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے، میں اکثریتی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔ تاہم اگر بعض ارکان ووٹنگ میں حصہ نہ لیں اور حکومت کے حق میں ووٹ اس کے خلاف ووٹوں سے زیادہ ہوں تو 61 ارکان کی حمایت کے بغیر بھی اقلیتی حکومت قائم ہوسکتی ہے۔ اگر حکومت بنانے کی تمام کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں تو اسرائیل کو دوبارہ انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں نئی حکومت کی تشکیل تک بنجمن نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔