نئی دہلی: قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی کے درمیان 12 اکتوبر کو ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی، جس میں ہندوستانی ملاحوں کی حفاظت اور ہندوستانی تیل بردار جہازوں کی سلامتی کا معاملہ اٹھایا گیا۔ وزارت خارجہ نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ یہ بات چیت ایسے وقت ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں عہدیداروں نے بات چیت کے دوران دو طرفہ امور، خطے کی صورت حال اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
جیسوال نے کہا، ’’قومی سلامتی کے مشیر نے 12 اکتوبر کو اپنے ایرانی ہم منصب، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری ڈاکٹر محسن رضائی سے بات کی۔ دونوں نے دو طرفہ امور کے ساتھ خطے کی صورت حال اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو کے دوران ہندوستانی ملاحوں کی حفاظت اور ہندوستانی ٹینکروں کی سلامتی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔
‘‘ ہندوستان میں ایرانی سفارت خانے نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس گفتگو کی تصدیق کی۔ سفارت خانے کے مطابق، دونوں عہدیداروں نے خطے اور دنیا کی تازہ صورت حال کے ساتھ ان معاملات پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کیا جو دونوں ملکوں کے لیے مشترکہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ بات چیت خلیجی خطے میں سمندری سلامتی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان ہوئی ہے۔
حالیہ دنوں میں ہندوستانی عملے کو لے جانے والے تجارتی جہازوں پر حملوں کی متعدد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ 11 اکتوبر کو نکاراگوا کے پرچم والے تیل بردار جہاز ایم ٹی پیٹرو ڈولفن پر صحار کے قریب لنگرانداز ہونے کے مقام پر ڈرون سے حملہ کیا گیا تھا۔ اس جہاز پر 11 ہندوستانی ملاح سوار تھے۔
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے بتایا کہ عملے کے نو ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا، جب کہ دو ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں۔ مقامی کوسٹ گارڈ اور متعلقہ حکام کے تعاون سے تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری تھیں۔ اسی روز ایک اور واقعے میں مارشل آئی لینڈز کے پرچم والے تیل بردار جہاز ایم ٹی والتھیرا کو آبنائے ہرمز میں ایک نامعلوم چیز سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔
سونووال نے بتایا کہ جہاز پر سوار تمام 11 ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں۔ اس سے پہلے 9 اکتوبر کو پاناما کے پرچم والے خام تیل کے جہاز ایم ٹی جیم نمبر 2 پر شارجہ کے قریب لنگرانداز ہونے کے مقام پر ڈرون حملہ ہوا تھا۔ اس جہاز پر 22 ہندوستانی شہری سوار تھے۔ حکام کے مطابق، تمام 22 ہندوستانی ملاح محفوظ رہے۔ ان واقعات کے بعد تجارتی جہاز رانی کی سلامتی اور اہم سمندری راستوں کے تحفظ کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی اہمیت نمایاں ہے، کیونکہ عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کا ایک بڑا حصہ اسی اہم سمندری راستے سے گزرتا ہے۔