واشنگٹن: امریکہ میں ایک اہم سیاسی تبدیلی رونما ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ایوانِ نمائندگان میں دوبارہ اکثریت حاصل کرنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ اس کامیابی کے نتیجے میں ایوان میں اقلیتی رہنما حکیم جیفریز کے لیے امریکی تاریخ کے پہلے افریقی نژاد اسپیکر بننے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ سی این این کے مطابق ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
اس سے واشنگٹن میں سیاسی طاقت کا توازن تبدیل ہوجائے گا اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے آخری 2 برسوں میں ڈیموکریٹس کو حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات پر زیادہ کڑی نظر رکھنے کا موقع ملے گا۔ این بی سی نیوز نے بھی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اس کے اندازے کے مطابق پارٹی کم از کم 244 نشستیں حاصل کرکے واضح اکثریت حاصل کرسکتی ہے۔ اس متوقع کامیابی کے ساتھ نیویارک سے تعلق رکھنے والے 56 سالہ ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز تاریخ رقم کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ وہ کانگریس کے اپنے آٹھویں دور کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔
تاہم اسپیکر بننے کے لیے انہیں 3 جنوری کو نئی کانگریس کے اجلاس میں ایوان کے اندر ہونے والی رائے شماری میں مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ سی این این کے مطابق جیفریز ڈیموکریٹک پارٹی کی نئی سیاسی قوت کی قیادت کریں گے اور ٹرمپ انتظامیہ کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے کام کاج پر کانگریس کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کریں گے۔ پارٹی میں بتدریج اعلیٰ مقام حاصل کرنے والے جیفریز کو ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس کی مضبوط حمایت حاصل ہے۔ ان کے حامیوں میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور کانگریشنل بلیک کاکس کے ارکان بھی شامل ہیں۔
ان کے ممکنہ انتخاب کی تاریخی اہمیت کا ایک پہلو ان کے انتخابی حلقے کی شہری حقوق کی جدوجہد سے وابستہ تاریخ بھی ہے۔ جیفریز کے حلقے کے بعض علاقے ماضی میں شرلی چشولم کے نمائندگی کے حلقے کا حصہ رہے ہیں۔ شرلی چشولم امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہونے والی پہلی افریقی نژاد امریکی خاتون تھیں۔ منگل کی رات واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جیفریز نے کہا کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے قریب ہیں، لیکن انہیں کامیابی کو یقینی سمجھ کر نہیں چلنا چاہیے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق انہوں نے کہا، ’’ہم آخری مرحلے تک اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔‘‘
انہوں نے ابتدائی ووٹنگ کے حوصلہ افزا اعداد و شمار اور ملک کے مختلف سیاسی علاقوں میں ووٹروں کی شرکت کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ابتدائی ووٹنگ کے اعداد و شمار اچھے رہے ہیں اور آج ملک بھر میں ووٹنگ کے اعداد و شمار بھی حوصلہ افزا ہیں۔ چاہے ڈیموکریٹس کی مضبوط ریاستیں ہوں، انتخابی مقابلے والی ریاستیں ہوں یا ریپبلکن کی مضبوط ریاستیں، ہر جگہ ووٹروں کی شرکت اچھی ہے۔‘‘ ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں آنے سے انہیں ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کی جانچ پڑتال، کانگریس کی سطح پر تحقیقات شروع کرنے اور صدر کے قانون سازی کے ایجنڈے کے بعض حصوں کو چیلنج کرنے کے زیادہ اختیارات مل جائیں گے۔
دوسری جانب روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھی جانے والی کئی ریاستوں میں بھی ڈیموکریٹس کی کامیابی کے آثار نظر آرہے ہیں۔ ان میں ٹیکساس بھی شامل ہے، جہاں سینیٹ اور گورنر کے انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹ امیدواروں کو نمایاں برتری حاصل ہے۔ سی بی ایس نیوز کے اندازوں کے مطابق ٹیکساس میں گورنر کے انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار جینا ہینوجوسا 57.2 فیصد ووٹوں کے ساتھ ریپبلکن امیدوار گریگ ایبٹ سے آگے تھیں، جبکہ ایبٹ کو 41.6 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اس وقت تک 54 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوئی تھی۔
سینیٹ کے انتخاب میں بھی ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو کو ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن پر برتری حاصل تھی۔ ٹالاریکو کو 59.4 فیصد اور پیکسٹن کو 39.1 فیصد ووٹ ملے تھے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق اس وقت تک 53 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی تھی۔ یہ اعداد و شمار اس لیے بھی اہم ہیں کہ ٹیکساس میں گزشتہ 3 دہائیوں سے زیادہ عرصے میں ڈیموکریٹس کوئی ریاست گیر انتخاب نہیں جیت سکے ہیں۔ اسی طرح روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کی مضبوط ریاست کنساس میں بھی سینیٹ کے انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار ایڈم ہیملٹن کی پوزیشن بہتر دکھائی دے رہی تھی۔ این بی سی نیوز کے ڈیسیژن ڈیسک نے ان کی کامیابی کے امکان کو کم از کم 75 فیصد قرار دیا ہے۔
ابتدائی نتائج ملک کی سیاسی صورت حال میں ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ ڈیموکریٹس نہ صرف ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے قریب ہیں بلکہ ملک کی کئی ریاستوں میں بھی ان کے امیدواروں کی بہتر کارکردگی نے سیاسی حلقوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ حکیم جیفریز کے لیے ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی متوقع کامیابی امریکی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم ان کا اسپیکر منتخب ہونا جنوری میں نئی کانگریس کے اجلاس کے دوران مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے پر منحصر ہوگا۔