واشنگٹن: امریکہ میں مہنگائی اور معیشت کے بارے میں مسلسل بڑھتی تشویش کے درمیان 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کو ایوانِ نمائندگان کی 229 نشستوں پر کامیابی ملنے کا امکان ہے۔ تاہم، بہت سے امریکی شہری اب بھی اس بات سے مطمئن نہیں ہیں کہ دونوں میں سے کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس ان کی مالی حالت بہتر بنانے کا کوئی واضح منصوبہ ہے۔ سی بی ایس نیوز کے اتوار کو جاری کردہ ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق، ایوانِ نمائندگان کے انتخابات سے متعلق اس کے ماڈل کے اندازے میں ڈیموکریٹس اکثریت حاصل کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور ان کی نشستوں کی تعداد 230 سے بھی آگے جا سکتی ہے۔
اس کے باوجود ریپبلکن پارٹی کے پاس اکثریت برقرار رکھنے کا ایک محدود امکان موجود ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ڈیموکریٹس کی برتری مستحکم رہی ہے، لیکن اس میں اضافہ نہیں ہوا۔ رپورٹ کے مطابق، فی الحال انتخابی میدان میں ڈیموکریٹس کے حق میں کسی بڑی لہر کے آثار نہیں ہیں۔ سی بی ایس نیوز اور یوگوو کی جانب سے یہ سروے 21 سے 23 اکتوبر کے درمیان امریکہ کے 2,355 بالغ شہریوں کے ایک ایسے نمونے پر کیا گیا جو ملک کی مجموعی آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ مجموعی نمونے میں غلطی کا امکان 2.6 فیصد، رجسٹرڈ ووٹروں میں 2.9 فیصد اور ووٹ ڈالنے کے زیادہ امکان رکھنے والے شہریوں میں 3 فیصد بتایا گیا ہے۔
سی بی ایس نیوز نے ان انتخابات کو ایک ایسی سیاسی کشمکش قرار دیا جس میں ووٹر اپنی پسندیدہ جماعت کی پالیسیوں کی حمایت سے زیادہ مخالف جماعت کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے متحرک ہیں۔ دونوں جماعتوں کے حامیوں میں یہ رجحان پایا گیا کہ وہ اپنی پسندیدہ پارٹی کے منصوبوں کے مقابلے میں مخالف جماعت کو اقتدار سے دور رکھنے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ معاشی مسائل انتخابی مقابلے میں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔ زیادہ ووٹروں کا خیال ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی کامیاب ہوتی ہے تو پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جبکہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کی صورت میں ایسا ہونے کا امکان نسبتاً کم سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم، بہت کم ووٹروں کو توقع ہے کہ کانگریس کا کنٹرول کسی بھی جماعت کے پاس جانے کی صورت میں پٹرول کی قیمتیں کم ہوں گی۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ زیادہ تر ووٹروں کو توقع نہیں ہے کہ کسی بھی جماعت کی حکومت میں ان کی مالی حالت بہتر ہو جائے گی۔ اس کے باوجود نسبتاً زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کی صورت میں ان کے معاشی حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ جو ووٹر مہنگائی کو انتہائی اہم مسئلہ سمجھتے ہیں یا کہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے انہیں مالی مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے، ان میں ڈیموکریٹس کی حمایت کا رجحان زیادہ ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق، امریکی معیشت کے بارے میں مجموعی رائے اب بھی منفی ہے اور اس کی درجہ بندی گزشتہ موسم بہار کے بعد کی نچلی سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ووٹ ڈالنے کے زیادہ امکان رکھنے والے شہریوں کی اکثریت کا یہ بھی خیال ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں ان کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے بجائے مزید خراب کر رہی ہیں۔ سروے میں ووٹروں کے فیصلوں پر ٹرمپ کے اثرات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ ڈیموکریٹس کی حمایت کرنے والے 10 میں سے 7 سے زیادہ ووٹروں نے کہا کہ کانگریس کے انتخابات میں ان کا ووٹ ٹرمپ کی مخالفت کے لیے ہوگا۔
دوسری طرف، ریپبلکن ووٹروں کی اکثریت نے کہا کہ وہ صدر کی حمایت میں ووٹ دیں گے۔ تاہم، ٹرمپ کی حمایت کے مقابلے میں ان کی مخالفت ڈیموکریٹک ووٹروں کے لیے زیادہ اہم محرک دکھائی دیتی ہے۔ ڈیموکریٹس کی برتری کے باوجود سروے میں شامل ووٹروں کی اکثریت کسی بھی جماعت کو ایسی پارٹی نہیں سمجھتی جس کے پاس کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنے کی صورت میں مسائل حل کرنے کا واضح منصوبہ ہو۔ ڈیموکریٹک ووٹروں میں تقریباً 10 میں سے 4 نے کہا کہ انہیں اپنی جماعت کے پاس بھی کوئی واضح منصوبہ نظر نہیں آتا۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کے لیے ٹرمپ کی مخالفت ہی ڈیموکریٹس کو ووٹ دینے کی بنیادی وجہ ہے۔
ریپبلکن ووٹروں میں بھی تقریباً 10 میں سے 4 نے کہا کہ ان کا انتخاب صدر ٹرمپ کی حمایت یا مخالفت سے متعلق نہیں ہے۔ ان ووٹروں میں ٹرمپ کی تحریک ’’میک امریکہ گریٹ اگین‘‘ (میگا) کے حامیوں کی تعداد نسبتاً کم تھی۔ وہ عموماً ٹرمپ کی بھرپور حمایت کرنے کے بجائے ان کی کسی حد تک حمایت کرتے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے بارے میں ان کی رائے زیادہ تر منفی ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق، ووٹروں کی شرکت انتخابی نتائج کا فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ڈیموکریٹک ووٹروں میں زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے کہا کہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہیں یا پہلے ہی قبل از وقت ووٹ ڈال چکے ہیں۔ اس کے برعکس، جن ووٹروں نے کہا کہ وہ ’’غالباً‘‘ یا ’’شاید‘‘ ووٹ ڈالیں گے، ان میں ریپبلکن حامیوں کا تناسب زیادہ ہے۔ اس لیے اگر ریپبلکن ووٹر بڑی تعداد میں پولنگ کے لیے نکلتے ہیں تو انتخابی منظرنامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
حکومتی بدعنوانی بھی ووٹروں کی تشویش کا ایک اہم موضوع ہے۔ سروے میں شامل زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ اگر ریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو بدعنوانی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کے حامیوں کی بڑی تعداد نے بدعنوانی کو ووٹ دینے کے فیصلے میں ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔ سروے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ووٹر مخالف جماعت کی انتخابی کامیابی کو اپنی طرزِ زندگی کے لیے بڑھتے ہوئے خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ڈیموکریٹک ووٹروں کا رجحان اس خیال کی طرف زیادہ تھا کہ ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ان کے طرزِ زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اسی طرح، ٹرمپ کی تحریک میگا کے حامی، اس تحریک سے وابستہ نہ ہونے والے ریپبلکن ووٹروں کے مقابلے میں، ڈیموکریٹس کی کامیابی کو اپنی زندگی کے لیے خطرہ سمجھنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔
امیگریشن کا مسئلہ بھی سیاسی اختلافات کی اہم وجہ بنا ہوا ہے۔ تقریباً ایک تہائی ووٹروں کا خیال تھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی امریکی شہریوں کے مقابلے میں حالیہ برسوں میں امریکہ آنے والے تارکینِ وطن کے مفادات کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ اس سوچ کے حامل ووٹروں کی بڑی تعداد نے ریپبلکن پارٹی کی حمایت کی۔ اس کے برعکس، تقریباً ایک تہائی ووٹروں کا خیال تھا کہ ڈیموکریٹس امریکی شہریوں اور نئے تارکینِ وطن، دونوں کے مفادات کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان ووٹروں میں ڈیموکریٹس کی حمایت کا رجحان زیادہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق، خواجہ سراؤں سے متعلق مسائل کو ووٹ دینے کے فیصلے میں ایک بڑا عنصر سمجھنے والے ووٹروں کے درمیان ریپبلکن پارٹی کو ڈیموکریٹس پر برتری حاصل تھی۔ سروے میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران سیاسی امیدواروں کے لیے کی جانے والی تقاریر اور عوامی اجتماعات کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
میگا کے زیادہ تر حامیوں نے کہا کہ سیاسی امیدواروں کی حمایت میں ٹرمپ کو انتخابی مہم چلاتے دیکھنے سے ان کے ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دینے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ تاہم، میگا سے وابستہ نہ ہونے والے بہت سے ریپبلکن ووٹروں پر ٹرمپ کی ایسی سرگرمیوں کا یکساں اثر نہیں پڑتا۔ انتخابی انتظامات کے بارے میں زیادہ تر ووٹروں نے کم از کم کسی حد تک اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کے مقامی اور کاؤنٹی سطح کے انتخابی اہلکار ووٹروں کی اہلیت کا درست تعین کر سکتے ہیں اور ووٹوں کی صحیح گنتی کر سکتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں نے اس بات پر بھی اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے اپنے ووٹ درست طور پر درج کیے جائیں گے اور ان کی گنتی صحیح طریقے سے ہوگی۔ دونوں معاملات میں ریپبلکن ووٹروں کے مقابلے میں ڈیموکریٹک ووٹروں نے بھرپور اعتماد کا اظہار زیادہ کیا۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق، ریپبلکن ووٹروں میں یہ یقین رکھنے والوں کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ تھی کہ غیر ملکی شہری غیر قانونی طور پر امریکہ کے وفاقی انتخابات میں ووٹ ڈالتے ہیں۔ سی بی ایس نیوز کا ایوانِ نمائندگان سے متعلق انتخابی ماڈل سروے کے نتائج، گزشتہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے رجحانات، انتخابی حلقوں کی خصوصیات، آبادی کے اعداد و شمار اور تاریخی رجحانات کو یکجا کرکے نشستوں کی ممکنہ تقسیم کا اندازہ لگاتا ہے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ یہ پیش گوئیاں اعداد و شمار سے متعلق ممکنہ غلطیوں سے متاثر ہو سکتی ہیں اور مزید معلومات دستیاب ہونے کے ساتھ ان میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔