لینسنگ: امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سی بی ایس نیوز کے اندازوں کے مطابق مشی گن میں سینیٹ کی نشست پر ڈیموکریٹ امیدوار عبد السید کی کامیابی کا امکان ہے۔ وہ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے سکتے ہیں۔ عبد السید کو فی الحال برتری حاصل ہے، تاہم تقریباً ایک تہائی ووٹوں کی گنتی ابھی باقی ہے۔ سی بی ایس نیوز نے اس نشست کو ڈیموکریٹس کے حق میں جانے کا قوی امکان ظاہر کیا ہے، لیکن ابھی کسی امیدوار کی کامیابی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب ریپبلکن سینیٹ امیدوار مائیک راجرز کو اب بھی اپنی پارٹی کی کامیابی کی امید ہے۔
انہوں نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا۔ سی این این کے مطابق راجرز نے کہا، ’’ہمیں پورا پورا یقین ہے کہ ہم اس صورت حال کو اپنے حق میں تبدیل کردیں گے۔‘‘ مشی گن میں گورنر کے انتخاب کی صورت حال نسبتاً واضح ہے۔ امریکی نیوز نیٹ ورکس کے اندازوں کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار اور مشی گن کی موجودہ وزیر خارجہ جوسلین بینسن ریاست کی اگلی گورنر منتخب ہوسکتی ہیں۔ سی این این کے ڈیسیژن ڈیسک نے پیش گوئی کی ہے کہ بینسن ریپبلکن امیدوار جان جیمز کو شکست دے کر گورنر کا عہدہ ڈیموکریٹس کے پاس برقرار رکھیں گی۔ اس طرح 2028 کے صدارتی انتخابات سے پہلے اس اہم انتخابی ریاست میں ڈیموکریٹس کی گرفت مضبوط رہے گی۔
بینسن موجودہ ڈیموکریٹک گورنر گریچن وٹمر کی جگہ لیں گی، جو اپنی مدت کی حد پوری ہونے کے باعث دوبارہ انتخاب نہیں لڑ سکتیں۔ امریکی نیوز نیٹ ورکس نے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کنٹرول حاصل کرنے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس دوران ٹیکساس اور کنساس نے کئی دہائیوں بعد اپنے پہلے ڈیموکریٹ سینیٹر منتخب کیے ہیں۔ اس کے علاوہ اوہائیو، آئیووا، شمالی اور جنوبی کیرولائنا میں بھی ڈیموکریٹس نے سینیٹ کی نشستیں ریپبلکن پارٹی سے چھین لی ہیں۔ ریاست مین میں بھی ڈیموکریٹس کو کامیابی ملی ہے۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ وہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کو اپنی صدارت کے خلاف عوامی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھتے۔ فاکس نیوز کو فون پر براہ راست انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’میں اسے اپنے خلاف فیصلہ نہیں سمجھتا۔ معیشت اور ہمارے دیگر اقدامات کے لحاظ سے صدارت کی تاریخ کے گزشتہ 2 برس ہمارے بہترین برس رہے ہیں۔‘‘ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو کامیابی پر مبارک باد بھی دی، تاہم ریپبلکن امیدواروں کو شکست کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سے بعض امیدوار اپنے ووٹروں کو متاثر کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں صرف یہ کہوں گا کہ ڈیموکریٹس کو مبارک باد۔ انہوں نے اچھا کام کیا۔
وہ 11 برس سے اس کامیابی کے منتظر تھے اور آخرکار انہیں یہ کامیابی مل گئی۔‘‘ فاکس نیوز کے مطابق ووٹروں کے 4 اہم طبقوں، نوجوانوں، آزاد خیال ووٹروں، دیہی علاقوں کے باشندوں اور ہسپانوی نژاد امریکیوں نے بڑی تعداد میں ریپبلکن پارٹی سے اپنی حمایت واپس لے لی۔ ان ووٹروں میں ایران جنگ اور محصولات کی پالیسی کے خلاف ناراضگی نمایاں رہی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈیموکریٹس نے ان علاقوں میں بھی کامیابی حاصل کی جو طویل عرصے سے ریپبلکن پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے تھے۔ جنوبی کیرولائنا میں سینیٹ کی ایک نشست جیتنے کے ساتھ ساتھ ٹیکساس میں بھی ڈیموکریٹس نے کامیابی حاصل کی، جہاں 1994 کے بعد سے کسی ڈیموکریٹ امیدوار نے کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔
ڈیموکریٹس کی اس انتخابی لہر نے کنساس میں بھی ریپبلکن پارٹی کی تقریباً 100 سالہ بالادستی ختم کردی اور وہاں سینیٹ کی نشست جیت لی۔ سی این این کے مطابق ووٹروں کے فیصلے پر مہنگائی، ٹرمپ کی محصولات کی پالیسی، ایران جنگ اور صدر کے طرزِ عمل سے متعلق خدشات کا اثر پڑا۔ اس کے علاوہ صدر پر ذاتی مفادات کے لیے عہدے کے استعمال کے الزامات اور خود کو مالی فائدہ پہنچانے کے تاثر نے بھی ووٹروں کی رائے بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔