افریقی منڈیوں میں ہندوستانی چاول کی مانگ برقرار

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 24-10-2026
افریقی منڈیوں میں ہندوستانی چاول کی مانگ برقرار
افریقی منڈیوں میں ہندوستانی چاول کی مانگ برقرار

 



نئی دہلی: افریقی منڈیوں میں ہندوستانی چاول کی مانگ برقرار ہے اور بین الاقوامی خریدار چاول کی فراہمی کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ہندوستان کی اہمیت کو تسلیم کر رہے ہیں۔ تاہم، قیمتوں اور مال برداری کے اخراجات میں اضافے کے باعث خریدار فی الحال بڑی مقدار میں چاول خریدنے سے گریز کر رہے ہیں۔ بھارت انٹرنیشنل رائس کانفرنس 2026 کے موقع پر خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے بیرون ملک کے تاجروں نے کہا کہ وہ ہندوستان سے چاول خریدنے میں اب بھی دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن بڑے آرڈر حاصل کرنے کے لیے قیمتوں کا مسابقتی ہونا ضروری ہے۔

ٹوگو کی چاول درآمد کرنے والی کمپنی سوناف ایس اے آر ایل کے ڈائریکٹر جنرل لاکپو وائی ایلی نے کہا کہ افریقی ممالک چاول کی فراہمی کے لیے اب بھی ہندوستان اور ایشیا کے دیگر ممالک پر کافی حد تک انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’افریقہ میں ہمیں خاص طور پر چاول کی ضرورت ہے۔ ہم خود زیادہ چاول پیدا نہیں کرتے، اس لیے ہندوستان سے چاول منگواتے ہیں۔‘‘ تاہم، انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی چاول کی قیمتیں بڑھنے سے درآمد کنندگان کے لیے بڑی مقدار میں چاول کے آرڈر دینا مشکل ہوگیا ہے۔ ایلی کے مطابق، گزشتہ سال تقریباً 392 امریکی ڈالر فی میٹرک ٹن کی قیمت پر خریدا جانے والا چاول اب معیار کے لحاظ سے 470 سے 490 امریکی ڈالر فی میٹرک ٹن میں دستیاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے خریدار بڑی مقدار میں چاول کی خریداری کا معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان سے چاول کی درآمد میں عارضی طور پر کمی آسکتی ہے، لیکن مانگ برقرار رہنے کے باعث بعد میں اس میں دوبارہ اضافہ ہونے کی توقع ہے۔ اسی طرح کی رائے کا اظہار کرتے ہوئے سائگنس ٹریڈنگ ایل ایل سی کے چیئرمین مشیک ساکالا نے کہا کہ ان کی کمپنی بنیادی طور پر ہندوستان سے غیر باسمتی چاول خریدتی ہے اور اسے جنوبی، وسطی اور مشرقی افریقہ کی منڈیوں میں فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے اے این آئی سے کہا، ’’اس وقت قیمتیں کچھ زیادہ ہیں۔ اس لیے شاید ہم چند دن یا ہفتے انتظار کریں گے اور دیکھیں گے کہ قیمتیں کس طرف جاتی ہیں۔ اس کے بعد ہم افریقہ کے لیے بڑی مقدار میں چاول درآمد کرسکتے ہیں۔‘‘ ساکالا نے عالمی تجارت پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات کی طرف بھی توجہ دلائی، خاص طور پر مال برداری اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مال برداری کے اخراجات اور ایندھن کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جس سے بین الاقوامی تجارت مہنگی ہوگئی ہے اور صارفین پر بھی قیمتوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے ہندوستان اور افریقی ممالک کی حکومتوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

دریں اثنا، سوئٹزرلینڈ میں مقیم چاول کے ایک تاجر نے، جنہیں اس صنعت میں چار دہائیوں سے زیادہ کا تجربہ ہے، کہا کہ ہندوستان بین الاقوامی چاول تجارت میں ایک بڑی طاقت بن کر ابھرا ہے، خاص طور پر غیر باسمتی چاول کے شعبے میں۔ انہوں نے اے این آئی سے کہا، ’’گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ہندوستان عالمی چاول تجارت میں قیمتوں اور منڈی کے رجحانات کا تعین کرنے والا ایک اہم ملک بن گیا ہے۔‘

‘ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ ہندوستان میں چاول کی قیمتوں میں مزید اضافہ اس کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق، اگر مقامی منڈی میں قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو ہندوستانی چاول خریداروں کے لیے کم پرکشش اور دوسرے ملکوں کے مقابلے میں کم مسابقتی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے چاول کی نئی فصل کی کٹائی کا موسم شروع ہونے کے ساتھ ذخیرہ شدہ چاول کے انتظام کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ چاول کو محفوظ رکھنے کے انتظامات مستقبل میں قیمتوں کے تعین پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔