سینٹ جانز: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے دولت مشترکہ کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سپلائی چین کے خطرات کم کرنے اور اسے متنوع بنانے کے لیے مختصر اور قابل اعتماد راستے اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ رابطے کے نئے اور وسیع تر راہداریوں سے کاروباری سرگرمیوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ جے شنکر نے یہ بات سینٹ جانز میں دولت مشترکہ کے سربراہان حکومت کے اجلاس (CHOGM) 2026 کے موقع پر منعقدہ سربراہان حکومت اور کاروباری رہنماؤں کی ناشتے کی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اس موقع پر مضبوط اور پائیدار اقتصادی تعاون کے لیے اہم ترجیحات بھی پیش کیں۔
وزیر خارجہ نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے دولت مشترکہ کے شراکت دار ممالک کو سپلائی چین کے خطرات کم کرنے اور اسے متنوع بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے لیے مختصر اور قابل اعتماد سپلائی چین ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’رابطے کی مزید راہداریاں کاروبار کے لیے فائدہ مند ہیں۔ دولت مشترکہ کے شراکت دار ممالک کو مقامی سطح پر اشیا کی تقسیم کا نظام بہتر بنانے کے لیے مزید کوششیں کرنی چاہئیں۔‘‘ جے شنکر نے پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ دینے اور ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات سے شراکت دار ممالک کو حکمت عملی کے اعتبار سے مزید متبادل حاصل ہوں گے۔
وزیر خارجہ نے دنیا بھر میں ہندوستانی کاروباری برادری کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے اسے دولت مشترکہ کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نظام کارکردگی، بہتر حکمرانی اور اقتصادی ترقی کو فروغ دے کر بڑی تبدیلی لاسکتا ہے۔ جے شنکر نے مشترکہ ماحولیاتی اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے بین الاقوامی شمسی اتحاد (انٹرنیشنل سولر الائنس) اور آفات سے محفوظ بنیادی ڈھانچے کے اتحاد (کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفرااسٹرکچر) جیسے کثیر ملکی اداروں سے مؤثر فائدہ اٹھانے کی تجویز بھی پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ہنگامی امدادی اقدامات اور انسانی امداد و آفات سے نمٹنے کے تجربات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مقامی مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ نے افرادی قوت کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کو بھی دولت مشترکہ کے لیے ایک اہم ترجیح قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دولت مشترکہ کے ممالک کے درمیان اعتماد اور سہولت کا ماحول کاروبار، ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔ اس سے قبل بدھ کے روز جے شنکر نے دولت مشترکہ کے سربراہان حکومت کے ایگزیکٹو اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے شفاف حکمرانی اور مالی جواب دہی کو فروغ دینے میں ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔
اجلاس میں انہوں نے ہندوستان کے حالیہ آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) اور اس سلسلے میں جاری دیگر مذاکرات کا بھی ذکر کیا۔ ایکس پر اپنی پوسٹ میں جے شنکر نے کہا، ’’دولت مشترکہ کے سربراہان حکومت کے ایگزیکٹو اجلاس میں ہندوستان کی نمائندگی کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ میں نے اچھی حکمرانی اور مالی ذمہ داری کے فروغ میں ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
اس نے مواقع کو وسعت دے کر ہماری معیشتوں کو زیادہ جمہوری بنانے میں مدد کی ہے۔ ہندوستان کا تجربہ اس سلسلے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے حالیہ آزاد تجارتی معاہدوں اور اس سلسلے میں جاری دیگر مذاکرات پر بھی بات ہوئی۔ ان کے مطابق ایسے معاہدے تجارت میں پیش گوئی کے قابل ماحول اور مضبوط سپلائی چین کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوں گے۔ جے شنکر دولت مشترکہ کے سربراہان حکومت کے اجلاس میں شرکت کے لیے انٹیگوا اور باربوڈا کے سرکاری دورے پر ہیں۔ وہاں پہنچنے پر ہوائی اڈے پر ان کا استقبال ملک کے وزیر خارجہ ایورلی چیٹ گرین اور وزیر سیاحت و شہری ہوا بازی چارلس فرنانڈیز نے کیا۔