امریکہ کے ورک ویزا قوانین میں تبدیلیاں ہندوستان کے خلاف نہیں: مارکو روبیو

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 23-10-2026
امریکہ کے ورک ویزا قوانین میں تبدیلیاں ہندوستان کے خلاف نہیں: مارکو روبیو
امریکہ کے ورک ویزا قوانین میں تبدیلیاں ہندوستان کے خلاف نہیں: مارکو روبیو

 



نئی دہلی: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امریکہ کے ورک ویزا قوانین میں حالیہ تبدیلیوں کے حوالے سے ہندوستان میں پائی جانے والی تشویش کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے دورۂ ہندوستان کے دوران ’انڈیا ٹوڈے نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکہ کی ترجیح امریکی کارکنوں اور اپنے قومی مفادات کا تحفظ ہے۔ روبیو نے کہا، ’’یہ کوئی ایسا نظام نہیں ہے جس کی بنیاد ہندوستان پر ہو یا جس کا مقصد خاص طور پر ہندوستان کو نشانہ بنانا ہو۔ اس کا اثر ان ہندوستانیوں پر پڑتا ہے جو امریکہ آکر کام کرنا چاہتے ہیں اور ان کاروباری اداروں پر بھی جو انہیں یہاں بلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ ہندوستان کے خلاف نہیں ہے۔ یہ عالمی نظام ہے۔‘

‘ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کا امیگریشن نظام طویل عرصے سے خراب رہا ہے۔ ان کے مطابق، روزگار اور کاروبار سے متعلق امیگریشن پروگراموں میں کئی معاملات میں بڑے پیمانے پر دھوکا دہی اور غلط استعمال ہوا ہے، اور انہیں ایسے طریقوں سے استعمال کیا گیا ہے جو مناسب نہیں تھے۔ روبیو نے کہا کہ ان خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے اور امریکی حکومت اسی کوشش میں مصروف ہے، لیکن یہ اقدامات ہندوستان کو نشانہ بنا کر نہیں کیے جا رہے۔

ان کا اطلاق دنیا کے ہر ملک پر ہوتا ہے۔ 9 اکتوبر کو امریکی حکومت نے گرین کارڈ کے لیے مستقل لیبر سرٹیفکیشن پروگرام سے دنیا کی بعض بڑی آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کو معطل کردیا تھا۔ ان میں کاگنیزنٹ، انفوسس، ٹاٹا، وپرو، ایچ سی ایل اور کیپ جیمینی شامل ہیں۔ امریکی محکمۂ محنت نے ان کمپنیوں کے خلاف متعدد وفاقی تحقیقات جاری ہونے کو اس کارروائی کی وجہ بتایا تھا۔ اسی پروگرام سے امریکہ کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں مائیکروسافٹ اور ایڈوب کو بھی معطل کیا گیا تھا۔

امریکی محکمۂ محنت کے مطابق، ان کمپنیوں نے مجموعی طور پر لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے کی درخواستیں دی تھیں اور انہیں ایچ-1 بی ویزا کی لاکھوں منظوریوں کے ساتھ مستقل ملازمت کے لیے لیبر سرٹیفکیشن بھی حاصل ہوئے تھے۔ یہ اعلان امریکی محکمۂ داخلی سلامتی کی جانب سے ایف-1 غیر تارکین وطن طلبہ کے لیے نئے فیس نظام کی تجویز پیش کیے جانے کے کچھ ہی عرصے بعد سامنے آیا۔ اس تجویز کا تعلق ان طلبہ سے ہے جو اختیاری عملی تربیت (او پی ٹی) پروگرام میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ امریکی حکومت نے اس اقدام کا مقصد امریکی کارکنوں کے مفادات کا تحفظ اور امیگریشن نظام کی شفافیت و ساکھ کو مضبوط بنانا بتایا ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد امریکی کارکنوں کا تحفظ کرنا اور ان کے مفادات کو ترجیح دینا ہے۔

انہوں نے ’انڈیا ٹوڈے نیوز‘ سے گفتگو میں کہا، ’’مجھے امید ہے کہ ہندوستانی حکومت ہمیشہ ہندوستان کے عوام اور اپنے قومی مفادات کو اولین ترجیح دے گی۔ لیکن میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ سب لوگ سمجھیں کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ بھی اپنے عوام، اپنے کارکنوں اور اپنے ملک کو سب سے پہلے رکھے گا۔‘‘ ہندوستان نے اس سے قبل اس بات پر زور دیا ہے کہ ہنرمند پیشہ ور افراد کی ایک ملک سے دوسرے ملک آمد و رفت سے ہندوستان اور امریکہ، دونوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس سے اختراع، تحقیق، پیداواری صلاحیت اور روزگار کے مواقع کو فروغ ملتا ہے۔ ہندوستان نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ امریکی حکومت کے حالیہ اقدامات دونوں ملکوں کے مشترکہ مقاصد کی تکمیل میں معاون نہیں ہیں۔