کیسیو کی ہندوستان میں توسیع کی تیاری، 2030 تک دکانوں کی تعداد دوگنی سے زیادہ کرنے کا منصوبہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 14-10-2026
کیسیو کی ہندوستان میں توسیع کی تیاری، 2030 تک دکانوں کی تعداد دوگنی سے زیادہ کرنے کا منصوبہ
کیسیو کی ہندوستان میں توسیع کی تیاری، 2030 تک دکانوں کی تعداد دوگنی سے زیادہ کرنے کا منصوبہ

 



ٹوکیو: جاپانی کمپنی کیسیو، جو جدید کیلکولیٹر، عالمی شہرت یافتہ گھڑیوں کے برانڈ ’جی شاک‘ اور موسیقی کے آلات کے لیے مشہور ہے، ہندوستان کی بڑی مارکیٹ میں اپنی سرگرمیاں تیزی سے بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔ کمپنی نے ہندوستان میں اپنی توسیع کا سفر 1996 میں شروع کیا تھا، جب اس نے ریاضی کے میدان میں نمایاں مقام رکھنے والے ملک میں جدید کیلکولیٹروں کے ذریعے اپنی پہچان بنانے کی کوشش کی۔ کیسیو انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر تاکوتو کیمورا نے کمپنی کے گزشتہ 30 برس کے سفر کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں کیسیو کے کیلکولیٹروں کو ریاضی کے شعبے میں ان کی افادیت اور قابل اعتماد ہونے کی وجہ سے خاص پذیرائی ملی

۔ اسی شہرت کی بنیاد پر کمپنی نے جی شاک گھڑیوں کی فروخت کے لیے 85 دکانوں کا نیٹ ورک قائم کیا۔ کیمورا کے مطابق، ہندوستان کیسیو کے لیے محض فروخت کی مارکیٹ نہیں، بلکہ کمپنی کے عالمی کاروبار کا ایک اہم مرکز بھی ہے۔ جی شاک کو نوجوانوں میں خاص مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس مقبولیت میں برانڈ کے سفیروں اور ڈیجیٹل تشہیر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

کمپنی نے ممبئی کے ایک اہم تجارتی علاقے میں اپنا خصوصی شو روم بھی قائم کیا ہے، جہاں صارفین کو برانڈ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جی شاک گھڑیوں کو آزمانے کا موقع بھی ملتا ہے۔ اگست میں ممبئی کے اسی شو روم میں جی شاک کے مداحوں کی ایک تقریب منعقد کی گئی، جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کمپنی کا خیال ہے کہ ایسی سرگرمیوں سے برانڈ کے ساتھ صارفین کا تعلق مزید مضبوط ہوا ہے۔ جی شاک کی تشہیر کو تیز کرنے کے لیے کیسیو نے دو معروف شخصیات کو برانڈ سفیر مقرر کیا ہے۔ ان میں ہندوستانی کرکٹ کھلاڑی شبھمن گل اور بالی ووڈ اداکار وکی کوشل شامل ہیں۔

کیمورا نے بتایا کہ کمپنی کو توقع ہے کہ 2030 تک ہندوستان میں جی شاک کی دکانوں کی تعداد موجودہ 85 سے بڑھ کر دوگنی سے بھی زیادہ ہو جائے گی، جبکہ فروخت بھی دوگنی کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ کیسیو کی عالمی حکمت عملی مختلف ملکوں کی مارکیٹ، صارفین کی پسند اور بدلتے ہوئے رجحانات کے مطابق اپنی مصنوعات کو فروغ دینے پر مبنی ہے۔ کیمورا کے مطابق، ہندوستان میں گھڑی پہننے کی روایت کمپنی کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی لوگ عام طور پر وقت دیکھنے کے لیے گھڑی پہنتے ہیں اور معیشت کی ترقی کے ساتھ مصروف زندگی گزارنے والے افراد کے لیے اس کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔ ان کے بقول، گھڑی اب صرف وقت معلوم کرنے کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ یہ ذاتی پسند اور طرز زندگی کے اظہار کا ایک طریقہ بھی بن گئی ہے۔

کیمورا نے مزید کہا کہ ہندوستانی حکومت کے تعلیمی ضوابط میں ذہنی حساب کتاب، منطقی سوچ اور جذباتی تربیت کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے۔ کیسیو اپنی مصنوعات اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے ان ترجیحات سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔