نئی دہلی،: بینک آف امریکہ گلوبل ریسرچ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران جنگ سے جڑی قدرتی گیس کی بلند قیمتوں کے باعث یورپ میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں کوئلے کا استعمال بڑھا سکتی ہیں، جس سے کاربن کا اخراج بڑھے گا اور اس موسم سرما میں کاربن کی قیمتیں 100 یورو (112.12 امریکی ڈالر) فی میٹرک ٹن تک پہنچ سکتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی فراہمی میں پیدا ہونے والے بحران نے عالمی قیمتوں کو روس کے یوکرین پر حملے کے بعد کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا ہے۔ فروری کے آخر سے تیل کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، جب کہ یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتیں دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، کاربن کے اخراج پر عائد لاگت کو شامل کرنے کے باوجود یورپ میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے لیے قدرتی گیس کے مقابلے میں کوئلہ استعمال کرنا زیادہ کفایتی ہو گیا ہے۔ تاہم، یورپی یونین میں کئی برسوں سے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں مسلسل کمی کے باعث یہ امکان محدود ہو سکتا ہے کہ مختلف ممالک بڑے پیمانے پر گیس کے بجائے کوئلے کا استعمال شروع کر دیں۔ بینک آف امریکہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تمام عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے اندازہ ہے کہ اس موسم سرما میں یورپی یونین کے کاربن اخراج کے اجازت ناموں کی قیمت 100 یورو فی میٹرک ٹن تک پہنچ سکتی ہے، کیونکہ یورپ میں گیس کی بلند قیمتیں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے رجحان کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
یورپی یونین الاؤنسز (ای یو اے) ایسے اجازت نامے ہیں جن کے تحت کمپنیوں کو یورپی یونین کی کاربن مارکیٹ میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی اجازت دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کا کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم)، جس کے ذریعے درآمدی اشیا پر بھی کاربن اخراج کی لاگت عائد کی جاتی ہے، اور مقامی صنعتوں کو مفت کاربن اجازت نامے فراہم کرنے کی سہولت بتدریج ختم کیے جانے سے کاربن مارکیٹ پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اجازت ناموں کی طلب بڑھنے کا امکان ہے۔
تاہم، بینک کا اندازہ ہے کہ طویل مدت میں کاربن کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے، کیونکہ خطے میں جاری تنازع کی شدت کم ہونے اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے نئے منصوبے شروع ہونے سے توانائی کی فراہمی بہتر ہو سکتی ہے۔ بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ سے ایل این جی کی برآمدات معمول پر آ جاتی ہیں اور نئے منصوبے توقع کے مطابق کام شروع کر دیتے ہیں تو 2027 کی دوسری ششماہی میں یورپی یونین میں کاربن اخراج کے اجازت ناموں کی قیمت 80 یورو (89.70 امریکی ڈالر) فی میٹرک ٹن سے نیچے آ سکتی ہے۔
رپورٹ میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے نقل و حمل کی طلب اور کاربن اخراج پر پڑنے والے اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کے باعث صارفین نے گاڑیوں کا استعمال کم کرنا اور الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقل ہونا شروع کر دیا ہے، جس سے روایتی ایندھن کی طلب کمزور پڑ رہی ہے۔ بینک آف امریکہ کے مطابق، دنیا کی بڑی منڈیوں میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جب کہ چین میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران الیکٹرک ٹرکوں کی فروخت میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر فروخت کا یہی رجحان برقرار رہا تو پٹرول اور ڈیزل کی طلب میں کمی کا عمل مزید تیز ہو سکتا ہے۔
بینک کو یہ بھی توقع ہے کہ 2026 میں عالمی سطح پر تیل کی طلب کمزور پڑے گی اور اس میں روزانہ تقریباً 30 لاکھ بیرل کی کمی ہو سکتی ہے۔ تاہم، 2027 میں اس کے دوبارہ بڑھنے کا امکان ہے اور اس سال تیل کی عالمی طلب میں گزشتہ سال کے مقابلے میں روزانہ تقریباً 43 لاکھ بیرل اضافے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔