برازیلیا: لاطینی امریکہ اور دنیا کے مختلف خطوں کے رہنماؤں نے برازیل کے صدارتی انتخابات میں دائیں بازو کے امیدوار اور سینیٹر فلاویو بولسونارو کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرنے پر لوئز اناسیو لولا دا سلوا کو مبارک باد دی ہے۔ کئی رہنماؤں نے جمہوریت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے برازیل کے ساتھ دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لولا کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا، ’’جمہوریت زندہ باد، برازیل کے عوام جیت گئے۔ صدر لولا کو مبارک باد!‘‘ بولیویا کے صدر روڈریگو پاز پریرا نے کہا کہ بولیویا اور برازیل پڑوسی اور برادر ممالک ہیں، جنہیں مشترکہ تاریخ اور یکساں چیلنجز نے ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے۔
انہوں نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا، ’’میں صدر لولا کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دیتا ہوں۔ بولیویا اور برازیل پڑوسی اور برادر ممالک ہیں، جو مشترکہ تاریخ اور چیلنجز میں شریک ہیں۔ ہم اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے اور دونوں ملکوں کے عوام کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کی خاطر مل کر کام کرتے رہیں گے۔‘‘ پیراگوئے کے صدر سانتیاگو پینا نے بھی لولا کو انتخابی کامیابی پر مبارک باد دی اور انتخابی عمل میں برازیل کے عوام کی شرکت کو سراہا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’برازیل کا صدر منتخب ہونے پر لولا کو مبارک باد۔ میں برازیل کے عوام کو اس عظیم جمہوری عمل پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
پیراگوئے اور برازیل کے درمیان علاقائی یکجہتی اور ترقی کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔ ہم اپنے عوام کی خوش حالی کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔‘‘ امریکہ کے سینیٹر برنی سینڈرز نے لولا کی کامیابی کو ’’غیر معمولی انتخابی کامیابی‘‘ قرار دیتے ہوئے انہیں مبارک باد دی۔ انہوں نے برازیل کے رہنما کی جانب سے مزدوروں کے حقوق اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو بھی سراہا۔ سینڈرز نے ایکس پر لکھا، ’’برازیل کے صدارتی انتخابات میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرنے پر لولا کو مبارک باد۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’لولا نے برازیل کے مزدوروں اور جمہوریت کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے اور وہ آئندہ چار برسوں میں بھی ایسا کرتے رہیں گے۔‘‘
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی لولا کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارک باد دی اور کینیڈا و برازیل کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کے امکانات پر زور دیا۔ انہوں نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا، ’’برازیل میں دوبارہ صدر منتخب ہونے پر صدر لولا کو مبارک باد۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’کینیڈا اور برازیل کے درمیان شراکت داری کے تحت تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ آئیے، اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کریں، تاکہ تجارت کے نئے اور بڑے مواقع پیدا کیے جا سکیں، ماحولیات کا تحفظ ہو اور دونوں ملکوں کے عوام کے لیے زیادہ خوش حالی یقینی بنائی جا سکے۔‘‘
گوئٹے مالا کے صدر برنارڈو آریوالو نے بھی لولا کو کامیابی اور دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارک باد دی۔ انہوں نے برازیل کے عوام کو ایسے انتخابی عمل کے لیے سراہا جس سے ملک کے جمہوری ادارے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ آریوالو نے ایکس پر لکھا، ’’گوئٹے مالا کی حکومت اور عوام کی جانب سے، میں لولا کو انتخابات میں شاندار کامیابی اور برازیل کا دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارک باد دیتا ہوں۔ میں برازیل کے عوام کو بھی ایک ایسے عظیم انتخابی عمل پر مبارک باد پیش کرتا ہوں جس نے ان کے جمہوری اداروں کو مضبوط کیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ گوئٹے مالا اور برازیل اس یقین میں شریک ہیں کہ حکمرانی کا مقصد عوام کی بھلائی ہونی چاہیے، تاریخی طور پر محروم طبقات کی حمایت کی جانی چاہیے، جمہوریت کو مضبوط بنایا جانا چاہیے اور زیادہ منصفانہ معاشرے کی تعمیر کے لیے کام کرنا چاہیے۔
آریوالو نے کہا، ’’لولا، آپ کی نئی مدتِ صدارت میں بھی ہم دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کرتے رہیں گے۔‘‘ یوراگوئے کے صدر یاماندو اورسی نے بتایا کہ انہوں نے انتخابات کے بعد لولا سے بات کی اور انہیں کامیابی پر مبارک باد دی۔ اورسی نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا، ’’میں نے ابھی برازیل کے نو منتخب صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا سے بات کی ہے، جو میرے دوست ہیں۔