یورپ میں طیاروں کو بم کی دھمکیاں، کئی ہوائی اڈوں پر ہنگامی حالات

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 05-11-2026
یورپ میں طیاروں کو بم کی دھمکیاں، کئی ہوائی اڈوں پر ہنگامی حالات
یورپ میں طیاروں کو بم کی دھمکیاں، کئی ہوائی اڈوں پر ہنگامی حالات

 



پیرس: یورپ بھر میں تجارتی پروازوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کے سلسلے نے فضائی سفر میں کھلبلی مچا دی ہے۔ ان دھمکیوں کے بعد کئی طیاروں کو ہنگامی طور پر دوسرے مقامات پر اتارنا پڑا، جنگی طیاروں نے ان کی حفاظت کی اور متعدد ہوائی اڈوں پر فضائی آپریشن متاثر ہوئے۔ ’یورو نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات کو پیش آنے والے ایک اہم واقعے میں فرانسیسی حکام نے تصدیق کی کہ ڈبلن سے روم جانے والے ایک مسافر طیارے کا رخ موڑ کر فرانس لے جایا گیا، جہاں مشتبہ بم کی دھمکی کے بعد فوجی طیاروں نے اسے حفاظتی حصار میں لے لیا۔ فرانسیسی فضائیہ نے بتایا کہ دھمکی کی اطلاع ملتے ہی جنگی طیارے روانہ کر دیے گئے تھے۔

فرانس کے وزیر اعظم سیباسٹین لیکورنو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ بعد ازاں وزیر اعظم لیکورنو نے بتایا کہ طیارہ بحفاظت ایورے (Évreux) میں اتر گیا ہے۔ اس میں سوار 151 مسافروں اور عملے کے 6 ارکان کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے، جب کہ بم ناکارہ بنانے والی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ پروازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اطلاع دی کہ ایئر لنگس کی پرواز ای آئی 402 (ڈبلن سے روم) کا رخ ایورے فوویل ایئر بیس کی طرف موڑ دیا گیا ہے اور اس نے ہنگامی کوڈ 7700 جاری کیا ہے۔

بم کی دھمکیوں کا سلسلہ صرف فرانس تک محدود نہیں رہا بلکہ یورپ کے کئی دوسرے ممالک میں بھی ہنگامی صورت حال پیدا ہوگئی۔ ’یورو نیوز‘ کے مطابق، اطالوی میڈیا نے روم جانے والی اور میلان سے روانہ ہونے والی دو پروازوں کو بم کی دھمکیاں ملنے کی اطلاع دی۔ اس کے بعد اٹلی کے جنگی طیاروں نے ہیلسنکی سے آنے والی ایک پرواز کو حفاظتی حصار میں لے کر روم پہنچایا۔ اطالوی فضائی ٹریفک پر بھی اس صورت حال کے اثرات مرتب ہوئے۔ فلائٹ ریڈار 24 نے بتایا کہ روم کے فیومیچینو ہوائی اڈے سے گزشتہ 30 منٹ کے دوران کوئی طیارہ روانہ نہیں ہوا۔ تاہم اس تعطل کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔

وسطی اور مشرقی یورپ میں بھی فضائی حکام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ فن لینڈ کی قومی فضائی کمپنی فن ایئر کے ترجمان نے بتایا کہ ہیلسنکی سے ویانا جانے والی جیٹ ٹائم کی ایک پرواز کو بم کی دھمکی دی گئی تھی، تاہم طیارہ بحفاظت آسٹریا کے دارالحکومت میں اتر گیا۔ جمہوریہ چیک میں پولیس نے بتایا کہ پراگ جانے والی 4 پروازوں کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں، جس کے بعد ہوائی اڈے کے حکام نے ان کی ہنگامی لینڈنگ کے لیے تیاریاں شروع کر دیں۔ اسی طرح بلغاریہ کی وزارت ٹرانسپورٹ کے حکام نے اطلاع دی کہ دارالحکومت صوفیہ جانے والی ریان ایئر کی 3 پروازوں کو بم کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔

ان میں سے 2 طیارے، جو کوپن ہیگن اور میڈرڈ سے روانہ ہوئے تھے، بحفاظت صوفیہ پہنچ گئے، جب کہ لندن سے آنے والی تیسری پرواز کا رخ موڑ کر پلوودیف لے جایا گیا۔ یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب چند روز قبل ہی یورپی یونین کے 7 ممالک میں سپر مارکیٹوں کے ریفریجریشن سسٹم کو نشانہ بنانے والے سائبر حملوں کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ ان حملوں کے نتیجے میں فریج اور فریزر کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ گیا تھا اور بڑی مقدار میں غذائی اشیا خراب ہوگئی تھیں۔

’یورو نیوز‘ کے مطابق، ان حملوں سے بیلجیم، سویڈن، نیدرلینڈز، ایسٹونیا، لکسمبرگ، فن لینڈ اور آئرلینڈ متاثر ہوئے تھے۔ یہ واقعات فرانس میں 12 اکتوبر کو ہونے والے اسی نوعیت کے سائبر حملے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد پیش آئے، جس میں سیکڑوں سپر مارکیٹیں متاثر ہوئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق، تازہ سائبر حملے مقامی وقت کے مطابق اتوار کی رات اور پیر کی صبح کے درمیان کیے گئے۔ سائبر مجرموں نے سپر مارکیٹوں کے ریفریجریشن سسٹم میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھایا۔

ان واقعات نے دور سے کنٹرول کیے جانے والے ریفریجریشن اور دیگر تکنیکی نظاموں کی سائبر سکیورٹی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اب ایسے آلات بھی دور بیٹھ کر کنٹرول اور ان کی نگرانی کیے جا سکتے ہیں جو پہلے دستی طور پر چلائے جاتے تھے، مثلاً ریفریجریٹر اور ہیٹنگ سسٹم۔ یورپی کمیشن کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان واقعات سے پورے یورپی خطے میں سائبر سکیورٹی کی اہمیت ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے۔ ترجمان کے مطابق، ’’یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ سائبر حملوں سے ضروری خدمات متاثر ہو سکتی ہیں، کاروبار کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی براہ راست متاثر ہو سکتی ہے۔‘‘