نیویارک: بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ بپلپ کمار دیب نے اقوام متحدہ میں او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے معاملے میں ’’جانبدارانہ رویے‘‘ پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے پاکستان پر ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے نیٹ ورک چلانے اور غیر قانونی قبضے کا الزام عائد کیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چھٹی کمیٹی کے اجلاس میں ’’بین الاقوامی دہشت گردی کے خاتمے کے اقدامات‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے او آئی سی کے چیئرمین کے اس بیان کا جواب دیا جس میں پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہندوستان کی کارروائی پر تبصرہ کیا گیا تھا۔
بپلپ کمار دیب نے کہا، ’’میں اب او آئی سی کے چیئرمین کے اس بیان کا جواب دینا چاہتا ہوں جو پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہندوستان کی محدود اور نپی تلی کارروائی کے بارے میں دیا گیا ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں سے ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور انہیں ہدایت دی گئی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ مقرر حقیقت اور افسانے میں فرق کرنے اور متاثرہ اور مجرم کے درمیان امتیاز کرنے سے قاصر ہیں۔‘‘ انہوں نے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’پاکستان کی جانب سے سرحد پر ہونے والی دہشت گردی سے اپنے لوگوں کی حفاظت کرنا ہندوستان کا مکمل حق ہے۔
دہشت گردی میں ملوث ہونے کے نتائج برداشت نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ مغربی سرحد پار سے پیدا ہونے والے مسلسل سلامتی کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے مغربی تریپورہ سے لوک سبھا رکن نے کہا کہ ہندوستان اپنے تلخ تجربات کی بنیاد پر جانتا ہے کہ دہشت گردی محض ایک نظریاتی خطرہ نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت ہے۔ انہوں نے گزشتہ اپریل پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں 26 بے گناہ سیاح مارے گئے تھے اور اس واقعے نے ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد کی اصل حقیقت کو سامنے لادیا۔ دیب نے کہا، ’’پہلگام دہشت گردانہ حملہ ہماری خودمختاری پر ایک سوچا سمجھا حملہ تھا۔
اس کی منصوبہ بندی اور اسے ان نیٹ ورکس نے انجام دیا جو آج بھی ہماری مغربی سرحد کے پار ریاستی سرپرستی، محفوظ پناہ گاہوں اور مالی و رسدی مدد حاصل کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کو انسانیت کے خلاف ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی دہشت گردی کے معاملے میں کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بارہا واضح کرچکے ہیں کہ ایک بھی دہشت گردانہ حملہ یا ایک بھی انسانی جان کا ضیاع ناقابل قبول ہے۔ بپلپ دیب نے جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے سے متعلق او آئی سی کے تبصروں کو بھی مسترد کرتے ہوئے تنظیم کی توجہ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کی جانب مبذول کرائی۔
انہوں نے کہا، ’’او آئی سی کے چیئرمین کو پاکستان کے غیر قانونی قبضے پر توجہ دینی چاہیے، خاص طور پر راولاکوٹ میں، جہاں بے دریغ قتل، وحشیانہ تشدد اور وہاں رہنے والے لوگوں کے بنیادی حقوق سے انکار سب کے سامنے ہے۔ اس معاملے سے جان بوجھ کر آنکھیں بند کرنا تعصب اور عدم برداشت کی عکاسی کرتا ہے۔