ڈھاکہ۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور ملک میں تیل کی فراہمی کے بحران کے درمیان تمام اقسام کے ایندھن کی قیمتوں میں 20 ٹکا فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت نے اس اضافے کی وجوہات میں بنگلہ دیش پیٹرولیم کارپوریشن کے بڑھتے ہوئے خسارے۔ زرمبادلہ سے متعلق خدشات اور ایندھن کی اسمگلنگ کے خطرے کو بھی شامل کیا ہے۔
بنگلہ دیش کے توانائی اور معدنی وسائل ڈویژن کے مطابق نئی قیمتوں کا مقصد ملک میں ایندھن کی قیمتوں کو عالمی منڈی کی شرح کے قریب لانا۔ بنگلہ دیش پیٹرولیم کارپوریشن کے خسارے کو کم کرنا اور پڑوسی ممالک کے ساتھ قیمتوں میں توازن برقرار رکھنا ہے۔نئی قیمتوں کے تحت ڈیزل کی قیمت 115 ٹکا سے بڑھ کر 135 ٹکا فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اوکٹین کی قیمت 145 ٹکا سے بڑھ کر 165 ٹکا فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ پٹرول اب 140 ٹکا کے بجائے 160 ٹکا فی لیٹر فروخت ہوگا۔ مٹی کے تیل کی قیمت بھی 135 ٹکا سے بڑھ کر 155 ٹکا فی لیٹر ہو گئی ہے۔
توانائی ڈویژن نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث مارچ 2026 سے عالمی منڈی میں ہر قسم کے ایندھن اور مال برداری کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ رجحان اب بھی جاری ہے۔ڈویژن کے مطابق حکومت نے عالمی قیمتوں میں تیز اضافے کے باوجود عوامی مفاد میں کئی ماہ تک ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا۔ اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش پیٹرولیم کارپوریشن کو مارچ 2026 سے اگست 2026 کے دوران تقریباً 22 ہزار 875.66 کروڑ ٹکا کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔
بنگلہ دیش کی حکومت نے اس سے قبل 18 اپریل 2026 کو ڈیزل کی قیمت میں 15 ٹکا فی لیٹر اضافہ کیا تھا جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 115 ٹکا فی لیٹر ہو گئی تھی۔توانائی ڈویژن نے کہا کہ گزشتہ 5 ماہ کے دوران عالمی منڈی میں غیر معمولی اضافے کے باوجود بنگلہ دیش میں ایندھن کی قیمتیں برقرار رکھی گئیں جبکہ پڑوسی ممالک میں ایندھن کی قیمتیں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔
ڈویژن کے مطابق کولکاتا میں ڈیزل کی قیمت 134.76 ٹکا فی لیٹر ہے۔ میانمار میں یہ قیمت 164.83 ٹکا۔ نیپال میں 161.24 ٹکا۔ سری لنکا میں 179.42 ٹکا۔ تھائی لینڈ میں 151.22 ٹکا۔ ویتنام میں 137 ٹکا۔ مالدیپ میں 140.71 ٹکا۔ فلپائن میں 168.53 ٹکا۔ پاکستان میں 185.48 ٹکا اور متحدہ عرب امارات میں 144.79 ٹکا فی لیٹر ہے۔
حکومت کے مطابق بنگلہ دیش میں ایندھن کی کم قیمتوں کے باعث پڑوسی ممالک کو ایندھن کی اسمگلنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ توانائی ڈویژن نے کہا کہ بیرون ملک مقیم بنگلہ دیشیوں کی محنت سے کمائی گئی زرمبادلہ سے خریدا گیا ایندھن اسمگل ہونا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
توانائی ڈویژن نے مزید کہا کہ جاری جنگ کے دوران بجلی اور گیس کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے حکومت ایل این جی کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر سبسڈی دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ سماجی تحفظ کے پروگرام بھی جاری ہیں۔پریس ریلیز میں کہا گیا کہ حکومت کے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو جاری رکھنے اور ایندھن کی اسمگلنگ روکنے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا تھا۔
توانائی ڈویژن کے مطابق بنگلہ دیش پیٹرولیم کارپوریشن اس وقت ملک میں فروخت ہونے والے ہر لیٹر ڈیزل پر بھاری خسارہ برداشت کر رہی ہے۔ موجودہ عالمی قیمتوں کے حساب سے ڈیزل کے ہر لیٹر پر کارپوریشن کو تقریباً 89 ٹکا کا خسارہ ہو رہا ہے۔ اس طرح روزانہ تقریباً 109 کروڑ ٹکا کا نقصان ہو رہا ہے۔ صرف ڈیزل کے شعبے میں سالانہ خسارہ تقریباً 40 ہزار کروڑ ٹکا تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔
حکومت کو توقع ہے کہ قیمتوں میں اضافے سے بنگلہ دیش پیٹرولیم کارپوریشن کے خسارے میں نمایاں کمی آئے گی۔ بنگلہ دیش کے توانائی ڈویژن کے مطابق پڑوسی ممالک کی قیمتوں کے مطابق ایندھن کی قیمت میں 20 ٹکا فی لیٹر اضافے سے کارپوریشن کے سالانہ خسارے میں تقریباً 10 ہزار کروڑ ٹکا کی کمی ممکن ہے۔اگر چاہیں تو میں اسی خبر کی SEO فرینڈلی مختصر اردو سرخی اور 2 متبادل سرخیاں بھی بنا سکتا ہوں۔