ہندوستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ریاض حامد اللہ نے اپنی سفارتی مدت مکمل ہونے سے قبل ہندوستان کے ساتھ اپنے ساڑھے 3 دہائیوں پر محیط تعلق کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو سمجھنے کے لیے صرف حکومتوں کے درمیان روابط کافی نہیں ہیں بلکہ معاشرے اور عام لوگوں کے ساتھ براہ راست رابطہ بھی ضروری ہے۔ریاض حامد اللہ نے بتایا کہ ہندوستان سے ان کا پہلا تعارف ستمبر 1990 میں ہوا جب وہ ایک نوجوان طالب علم کی حیثیت سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچے اور وہاں کے ہاسٹل میں قیام کیا۔ ان کے مطابق علی گڑھ میں قیام نے انہیں ہندوستان کو سمجھنے اور مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ گھلنے ملنے کا بہترین موقع فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس تجربے سے انہیں ہندوستان کے متنوع سماجی اور ثقافتی ماحول کو سمجھنے میں مدد ملی۔ انہوں نے مختلف علاقوں کی شناخت اور کھانے پینے کی روایات کو بھی قریب سے جانا۔ریاض حامد اللہ 2003 سے 2005 کے دوران پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سلسلے میں دوبارہ نئی دہلی آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی معاشرے کو سمجھنے کی خواہش ان کے سفارتی سفر کے دوران بھی ان کی ترجیح رہی۔انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر تعلقات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن اگر ہندوستان کو گہرائی سے سمجھنا ہے تو معاشرے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسی سوچ نے انہیں مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں سے بلا جھجھک رابطہ قائم کرنے کی طرف راغب کیا۔
بنگلہ دیشی سفیر نے بتایا کہ انہوں نے ہندوستان کے مختلف علاقوں کا سفر کیا اور الگ الگ پس منظر رکھنے والے لوگوں سے بات چیت کی۔ بعض اوقات گفتگو کے موضوعات کا براہ راست تعلق بنگلہ دیش سے بھی نہیں ہوتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ ان لوگوں سے ملاقات نہ کریں تو پھر بنگلہ دیشی معاشرے یا بنگلہ دیش کے نقطہ نظر کے بارے میں دوسروں کو کیسے بتا سکتے ہیں اور ہندوستانی معاشرے کو کیسے سمجھ سکتے ہیں۔انہوں نے اختلاف رائے کے باوجود مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق ہر شخص کو اپنے نقطہ نظر پر قائم رہنے کا حق ہے۔ اس کے ساتھ دوسرے نقطہ نظر رکھنے والوں کے ساتھ گفتگو بھی جاری رہنی چاہیے۔ طویل عرصے تک مکالمے میں شامل رہنا ان کے سفارتی طریقہ کار کا اہم حصہ رہا۔
سری نگر کا حالیہ دورہ
ہندوستان میں اپنی حالیہ یادوں کا ذکر کرتے ہوئے ریاض حامد اللہ نے تقریباً 3 ہفتے قبل وادی کشمیر کے سری نگر کا اپنا دورہ یاد کیا۔ اس دوران انہوں نے دہلی پبلک اسکول سری نگر کا دورہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ اسکول پہنچنے کے بعد 2 باتوں نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا۔ اسکول میں تقریباً 5000 طلبہ زیر تعلیم ہیں اور ان میں تقریباً 40 فیصد طالبات ہیں۔ہائی کمشنر نے بتایا کہ فاطمہ نامی 12ویں جماعت کی ایک طالبہ نے اپنا تعارف ریڈیو جاکی کے طور پر کرایا اور انہیں اسکول کے ڈیجیٹل ریڈیو اسٹوڈیو لے گئی جہاں دونوں کے درمیان گفتگو ہوئی۔
ریاض حامد اللہ نے بتایا کہ طالبہ کا ایک سوال انہیں خاص طور پر حیران کر گیا۔ اس نے پوچھا کہ آپ سرحدوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سری نگر میں ایک کم عمر طالبہ کی جانب سے یہ سوال ان کے لیے غیر متوقع تھا۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس سوال کا انتہائی صاف گوئی کے ساتھ جواب دیا۔ اسکول سے روانگی کے وقت بچوں کو شاعر اور فلسفی علامہ اقبال کی ان کی پسندیدہ نظموں میں سے ایک گاتے ہوئے سن کر بھی وہ متاثر ہوئے۔عوامی رابطے سرحدوں سے آگے
اس ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بنگلہ دیشی ہائی کمشنر نے کہا کہ عوام کے درمیان رابطے اکثر ان سیاسی اور جغرافیائی سرحدوں سے آگے نکل جاتے ہیں جنہیں عام طور پر دونوں ملکوں کے تعلقات پر گفتگو کے دوران اہمیت دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اکثر ان لکیروں کو دیکھتے ہیں جو ہمیں ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ کس طرح ان تقسیم کرنے والی لکیروں اور اختلافات سے بے نیاز ہو کر اپنی زندگی آگے بڑھاتا رہتا ہے۔ریاض حامد اللہ ہندوستان میں اپنی سفارتی مدت مکمل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اپنے دور میں انہوں نے سرکاری سطح پر رابطوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے مختلف علاقوں کے لوگوں اور برادریوں سے براہ راست تعلق قائم کرنے پر بھی توجہ دی۔