بلوچستان پوسٹ کے مطابق دونوں نوجوانوں کی لاشیں ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں سلوی کور سے برآمد ہوئیں۔ ان کی شناخت یاسر اور مہران کے نام سے ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق دونوں نوجوانوں کے جسموں پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں جس کے بعد علاقے میں مبینہ حراستی ہلاکتوں کے حوالے سے تشویش ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ بلوچ نیشنل موومنٹ کے شعبۂ حقوق انسانی پانک نے ان ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم کے مطابق بلیدہ کے علاقے مناز سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ طالب علم یاسر کو مبینہ طور پر 2 مارچ 2026 کو فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے اس کے گھر سے حراست میں لیا تھا۔
پانک نے بتایا کہ مہران کو مبینہ طور پر 16 نومبر 2025 کو اس کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا اور بعد میں ایک فوجی کیمپ منتقل کر دیا گیا تھا۔
تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ ان دونوں نوجوانوں کی ہلاکتوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر سکیورٹی اہلکاروں کا ان واقعات میں ملوث ہونا ثابت ہو تو انہیں قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔
دریں اثنا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج منگل کو مسلسل 6,394ویں دن بھی جاری رہا۔ احتجاج میں عبدالرحمان مری کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی اور ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ان کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔
اہل خانہ کے مطابق عبدالرحمان مری کو 13 جنوری 2015 کو کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں واقع نیو کاہان سے مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں آج تک کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کے انجام کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم کی گئی ہے۔
بلوچستان پوسٹ کے مطابق اہل خانہ نے اعلیٰ حکام سے معاملے میں مداخلت کرنے اور عبدالرحمان مری کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بھی حکام سے عبدالرحمان مری اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی شخص پر جرم کا الزام ہو تو اسے عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے اور اس کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔