ایران پر حملہ ملکی و عالمی سلامتی کے لیے ضروری تھا: ٹرمپ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 02-11-2026
ایران پر حملہ ملکی و عالمی سلامتی کے لیے ضروری تھا: ٹرمپ
ایران پر حملہ ملکی و عالمی سلامتی کے لیے ضروری تھا: ٹرمپ

 



واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے یہ قدم اٹھایا تھا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کو ملکی اور عالمی سلامتی کے مقابلے میں ایک ’’بہت چھوٹی قیمت‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے اتوار کو امریکی ریاست آئیووا میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل خطاب میں انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہی امریکی فوجی مداخلت کی بنیادی وجہ تھی۔

ٹرمپ نے کہا، ’’میں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا۔‘‘ اپنے فوجی کارروائی کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’میں نے کہا تھا کہ ہمیں مشرق وسطیٰ کا یہ سفر شروع کرنا ہوگا، کیونکہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘‘ ایران کے ساتھ تنازع کے نتیجے میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متعلق تشویش پر ٹرمپ نے کہا کہ فوجی کارروائی سے حاصل ہونے والے سلامتی کے فوائد کے مقابلے میں اس کے معاشی اثرات قابل قبول ہیں۔ ان کے بقول، ’’اس ملک اور پوری دنیا کی سلامتی کے لیے یہ ایک بہت چھوٹی قیمت ہے۔‘‘

ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جنگ کی ابتدا ایران نے کی تھی اور امریکی فوجی کارروائیوں نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو بری طرح کمزور کردیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جنگ انہوں نے شروع کی، ہم نے نہیں۔ ہم اسے ختم کر رہے ہیں۔ ہم انہیں بری طرح شکست دے رہے ہیں۔ ان کے پاس اب کوئی بحریہ نہیں ہے۔ ان کے پاس 159 بحری جہاز اور 268 طیارے تھے۔ ان کے طیارے ایران کے ہوائی اڈوں کے رن وے پر بکھرے پڑے ہیں۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا، ’’ان کے پاس کوئی ریڈار نہیں، کوئی طیارہ شکن ہتھیار نہیں اور کوئی رہنما بھی نہیں بچا۔ میرے لیے یہی مسئلہ ہے۔ شاید ہم رہنماؤں کے معاملے میں کچھ زیادہ آگے نکل گئے ہیں۔ اب بات کرنے کے لیے کوئی شخص موجود نہیں۔ میں کسی ایسے شخص کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جس سے بات کی جاسکے۔‘

‘ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے امکان پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان نئی بات چیت جاری ہے۔ خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران پر نئے فوجی حملے کریں۔ اسرائیل کو اس بات پر تشویش ہے کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ہفتے کے روز ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں ایران کے ساتھ امریکی مذاکرات میں پیش رفت اور فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایک اسرائیلی ذریعے نے اس گفتگو کو ’’سخت‘‘ جبکہ امریکی ذریعے نے اسے ’’براہ راست‘‘ قرار دیا۔ ایکسیوس کے مطابق نیتن یاہو وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے حق میں ہیں، جبکہ ٹرمپ فی الحال تہران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ بیک وقت سفارتی اور فوجی حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں، تو دوسری طرف انتخابات کے بعد بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی تیاری بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے ہفتے کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ’’اچھی طرح آگے بڑھ رہے ہیں‘‘ اور انہیں اس معاملے میں ’’زیادہ جلدی نہیں‘‘ ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ امریکہ کو ایران کے ایک یا دو جوہری مقامات کے معاملے سے اب بھی نمٹنا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پِک ایکس ماؤنٹین میں واقع اس مشتبہ زیر زمین جوہری تنصیب کا ذکر کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کی مہم چلا رہے ہیں۔

ان انتخابات کے نتائج سے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور ایوان نمائندگان کا کنٹرول طے ہوگا۔ این بی سی نیوز کے مطابق سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کو چار نشستوں کا خالص اضافہ کرنا ہوگا، جبکہ ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے اسے تین مزید نشستیں جیتنی ہوں گی۔ این بی سی نیوز کے سروے کے اوسط اعداد و شمار کے مطابق ٹرمپ کی کارکردگی کو صرف 38 فیصد امریکیوں کی حمایت حاصل ہے، جبکہ 60 فیصد ان سے غیر مطمئن ہیں۔ کانگریس کے کنٹرول کے معاملے میں 52 فیصد امریکی ڈیموکریٹس کے زیر کنٹرول کانگریس کے حامی ہیں، جبکہ 44 فیصد ریپبلکنز کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ انتخابات ایسے ماحول میں ہو رہے ہیں جب امریکہ میں مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور ایران کے ساتھ تنازع کے معاشی اثرات، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ ٹرمپ نے آئیووا کے انتخابی جلسے میں بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے اسے قومی اور عالمی سلامتی کے لیے ضروری قربانی قرار دیا۔