نیویارک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی کا ذکر کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ میں ایرانی وفد کے ارکان جنرل اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔ الجزیرہ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹرمپ نے اپنی تقریر میں تہران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کا ذکر کیا۔رپورٹ کے مطابق جیسے ہی امریکی صدر نے امریکی فوجی کارروائیوں کا موضوع اٹھایا۔ ایرانی سفارت کار اچانک جنرل اسمبلی ہال سے باہر نکل گئے۔ ان کی روانگی کے بعد ایران کی جانب سے صرف ایک نچلے درجے کا عملہ ہال میں موجود رہا۔
الجزیرہ کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اس وقت 81ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں۔ تاہم امریکی صدر کی تقریر کے دوران دونوں میں سے کوئی بھی ایران کے سرکاری وفد کے ساتھ اپنی نشست پر موجود نہیں تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مختلف عالمی مسائل پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ امن معاہدہ نہیں ہوتا تو وہ اسلامی جمہوریہ ایران کو ’’تباہ‘‘ کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ معاہدہ ہو جائے گا کیونکہ ان کے بقول ایران کے لیے ایسا نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے لیے امریکی بحریہ کی جانب سے کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد کسی بھی وقت کے مقابلے میں اب زیادہ تیل آبنائے ہرمز سے گزر رہا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جس نے تجارتی بحری جہازوں پر ایران کے مبینہ دہشت گرد حملوں کی مذمت میں قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ حال ہی میں آبنائے ہرمز سے 1 ارب سے زیادہ بیرل تیل کی حفاظت کرتے ہوئے اسے باہر لے جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ اور ہر رات بالترتیب 22۔ 25۔ 30۔ 32 اور 37 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے نکالے جا رہے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران یہ دیکھنے کا انتظار کر رہا ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات میں کیسی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے سامنے ایک بڑا فیصلہ ہے کہ آیا ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا جائے جو اسے دوبارہ تعمیر ہونے اور پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ملک بننے کا موقع دے یا اسلامی جمہوریہ کو فوری طور پر تباہ کر دیا جائے تاکہ اسے دوبارہ لوگوں اور ممالک کو نقصان پہنچانے کا موقع نہ ملے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد ایران کے ساتھ معاہدہ ہو جائے گا کیونکہ ایران کے لیے ایسا نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران یہ دیکھنے کا انتظار کر رہا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں ان کی کارکردگی کیسی رہتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق ایران کے معاملے میں وہ انتخابات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی واحد ترجیح یہ ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے نیویارک روانگی کے دوران علاقائی جبر کے خلاف عالمی سطح پر آگاہی اور بین الاقوامی امن کی ضرورت پر زور دیا۔پزشکیان نے عالمی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے لوگوں کو خطے میں جاری جابرانہ رویوں سے آگاہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اعتماد‘‘ کے نعرے کے ساتھ ہونے والی جنرل اسمبلی کو دنیا میں اعتماد بحال کرنے اور جنگ و خونریزی ختم کرنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے خطے میں پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ میناب اور لامرد کے بچوں پر ہونے والے ظلم کی آواز بھی عالمی سطح پر اٹھائیں گے۔ایرانی صدر بدھ 23 ستمبر کو صبح کے اجلاس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ وہ جنرل اسمبلی میں ایران کا مؤقف پیش کرنے کے علاوہ اجلاس میں شرکت کرنے والے مختلف ممالک کے سربراہان سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
پزشکیان امریکہ میں مقیم تعلیم یافتہ ایرانیوں کے علاوہ امریکی دانشوروں اور تھنک ٹینکس کے نمائندوں سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا موضوع ’’اعتماد کی بحالی اور تبدیلی کا انتظام۔ ایسی اقوام متحدہ جو سب کے لیے مؤثر ہو‘‘ ہے۔اعلیٰ سطحی عمومی بحث 22 سے 26 ستمبر اور 28 ستمبر کو نیویارک میں جاری رہے گی۔ اس دوران دنیا بھر کے رہنما اہم عالمی چیلنجز پر خطاب کریں گے۔ اجلاس کے دوران موسمیاتی اقدامات۔ ترقی۔ سطح سمندر میں اضافے اور وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری سمیت مختلف موضوعات پر اعلیٰ سطحی ملاقاتیں بھی ہوں گی۔