نئی دہلی: فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے بدھ کو روس کا تین روزہ سرکاری دورہ شروع کیا۔ اس دورے کا مقصد ہندوستان اور روس کے درمیان دیرینہ دفاعی شراکت داری اور فوجی تعاون کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل سیٹھ 16 سے 18 ستمبر تک روس کے دورے پر ہیں۔ دورے کے دوران فوج کے سربراہ کو روسی فوج کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا۔ وہ ماسکو میں واقع ’نامعلوم سپاہی کی یادگار‘ پر شہید فوجیوں کو خراج عقیدت بھی پیش کریں گے۔
جنرل سیٹھ روسی بری افواج کے کمانڈر ان چیف کرنل جنرل آندرے نیکولائیوچ موردویچیف کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کریں گے۔ اس میں پیشہ ورانہ فوجی تعاون اور تربیت سمیت مختلف معاملات شامل ہوں گے۔ یہ دورہ ہندوستان اور روس کے درمیان طویل عرصے سے جاری فوجی اور تکنیکی تعاون کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعلقات اب صرف خریدار اور فروخت کنندہ تک محدود نہیں رہے، بلکہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور نظام کی مشترکہ تحقیق، ترقی اور تیاری تک پھیل چکے ہیں۔ ماسکو میں جنرل سیٹھ نیشنل ڈیفنس کنٹرول سینٹر کا دورہ کریں گے اور روسی وزارت دفاع کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔
ان میں دفاعی صنعت اور خریداری کے امور دیکھنے والے نائب وزیر دفاع واسیلی سرگئیوچ اوسماکوف بھی شامل ہیں۔ وزارت دفاع کے مطابق ان ملاقاتوں سے دونوں ملکوں کو موجودہ فوجی پیش رفت پر اپنے خیالات کا تبادلہ کرنے اور دفاعی تعاون کو مزید بڑھانے کے امکانات تلاش کرنے کا موقع ملے گا۔ فوج کے سربراہ سینٹ پیٹرزبرگ بھی جائیں گے، جہاں وہ میخائیلوسکایا ملٹری آرٹلری اکیڈمی کا دورہ کریں گے اور اس کی قیادت اور فیکلٹی کے ارکان سے ملاقات کریں گے۔
وزارت دفاع نے کہا کہ یہ دورہ ’’مسلسل فوجی سفارت کاری اور فوج سے فوج کے درمیان رابطے کو دونوں ملکوں کی جانب سے دی جانے والی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘ توقع ہے کہ جنرل سیٹھ کی ملاقاتوں سے دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون مزید مضبوط ہوگا اور ہندوستان و روس کے دیرینہ دفاعی تعلقات کو تقویت ملے گی۔ روس ہندوستان کے لیے دفاعی سازوسامان، انجن، اسپیئر پارٹس اور دیگر پرزوں کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق روسی ساخت کے کئی دفاعی پلیٹ فارم ہندوستان میں بھی اسمبل یا تیار کیے جاتے ہیں، جن میں ٹی-90 ٹینک اور ایس یو-30 ایم کے آئی جنگی طیارے شامل ہیں۔ دونوں ممالک دفاعی سازوسامان اور پلیٹ فارم کی مشترکہ تیاری اور ترقی کے امکانات بھی تلاش کر رہے ہیں۔
اس میں براہموس نظام سمیت دیگر دفاعی مصنوعات کی دوسرے ممالک کو برآمد کے امکانات بھی شامل ہیں۔ ہندوستان اور روس کے دفاعی تعلقات میں بحری تعاون بھی شامل ہے۔ جدید اسٹیلتھ ملٹی رول فریگیٹ کے طور پر بیان کیے جانے والے آئی این ایس تمال کو یکم جولائی 2025 کو روس کے کیلینن گراڈ میں ہندوستانی بحریہ میں شامل کیا گیا تھا۔