تسلیمہ اختر نے مقبوضہ کشمیر بیانیے پر سوال اٹھائے

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 29-09-2026
 تسلیمہ اختر نے مقبوضہ کشمیر بیانیے پر سوال اٹھائے
تسلیمہ اختر نے مقبوضہ کشمیر بیانیے پر سوال اٹھائے

 



نئی دہلی۔سماجی سیاسی اور انسانی حقوق کی کارکن تسلیمہ اختر نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63 ویں اجلاس میں شرکت کے بعد اے این آئی سے خصوصی گفتگو میں پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خطے میں شہری آزادیوں پر پابندیوں۔ تشدد اور فوجی مداخلت کا ذکر کیا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے تسلیمہ اختر نے کہا کہ اس بیان سے ہی دہشت گردی کے مسئلے کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے خود کہا کہ اگر ہم دہشت گردوں کو نہیں روکیں گے تو وہ لندن سے امریکہ تک پھیل جائیں گے۔ شہباز شریف نے خود دنیا کو بتا دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی صنعت سے آتے ہیں۔تسلیمہ اختر نے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی جانب سے بار بار کشمیر کا مسئلہ اٹھائے جانے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جس کشمیر کا مسئلہ وہ بار بار اٹھاتے ہیں وہاں تشدد جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ کسی ملک کو نشانہ نہیں بنا رہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جس کشمیر کو وہ مسئلہ بنا کر پیش کرتے ہیں وہاں قتل و غارت بھی کیوں کی جاتی ہے۔ لوگوں کو قتل کرنے کے بعد بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اس مسئلے پر بات کیسے کی جاسکتی ہے۔پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقوق کے بارے میں تسلیمہ اختر نے کہا کہ انہیں بھی وہی بنیادی حقوق ملنے چاہئیں جو ہر انسان کا حق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے لوگ آزاد ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو وہاں انٹرنیٹ 4 ماہ تک بند نہ رہتا اور خونریزی نہ ہوتی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں اپنے نمائندے منتخب کرنے کی خواہش رکھنے والے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔ پاکستانی انتظامیہ نے وہاں آمرانہ حکومت قائم کر رکھی ہے اور وہاں وہی ہوتا ہے جو پاکستانی فوج چاہتی ہے۔

تسلیمہ اختر نے مزید الزام لگایا کہ پاکستان جموں و کشمیر میں تشدد اور خوف کا ماحول پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوششیں دہشت گردی کے متاثرین کے لیے انصاف کے حصول پر مرکوز ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 1990 کی دہائی سے جموں و کشمیر کے خلاف مظالم کرتا آرہا ہے۔ وہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے متاثرین کے خاندانوں کے لیے انصاف حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ پاکستان تشدد کے ذریعے خوف پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ امن اور انسانیت کی حامی ہیں۔ پاکستان اپنی صنعت کو برقرار رکھنے کے لیے پروپیگنڈا کرتا ہے۔

جموں و کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال کا موازنہ کرتے ہوئے تسلیمہ اختر نے کہا کہ دونوں علاقوں میں ترقی اور رہن سہن کے حالات میں بہت فرق ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں روزگار اور صحت کی سہولیات بہت اچھی ہیں۔ یہاں امن ہے۔ لیکن پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر معاملے میں فوج کی مداخلت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہاں احتجاج کے حق کو دبایا جارہا ہے۔ وہاں کے لوگوں کی ضروریات پوری کی جانی چاہئیں نہ کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔ قتل و غارت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس سے صرف ملک کی شبیہ کو نقصان پہنچتا ہے۔تسلیمہ اختر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں لوگوں کو اپنے حقوق حاصل ہیں اور بنیادی ڈھانچے۔ تعلیم اور پرامن زندگی سمیت مختلف شعبوں میں کام کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ہمارے تمام حقوق ہیں۔ انتظامیہ اور حکومت ہند ہماری تشویش کو مناسب طریقے سے سنتی ہے۔ صرف بنیادی ڈھانچے کے لیے ہی نہیں بلکہ پرامن زندگی اور تعلیم کے لیے بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے لوگوں کو بھی ایسے حقوق ملنے چاہئیں جن کا وہ مطالبہ کررہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور دیگر علاقوں میں پرامن احتجاج پر مبینہ پابندیوں اور کارکنوں اور صحافیوں کو نشانہ بنائے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔تسلیمہ اختر نے کہا کہ ان کی آواز دہشت گردی اور تشدد کے خلاف ہے۔ پوری دنیا نے دیکھا ہے کہ پاکستان اپنے لوگوں کی بنیادی ضروریات جیسے خوراک۔ لباس اور رہائش پوری کرنے میں ناکام ہے۔ وہ پرامن احتجاج کو کنٹرول کرنے میں بھی ناکام ہے۔ کارکنوں کو حراست میں لیا جارہا ہے اور صحافیوں کو نشانہ بنا کر جیل بھیجا جارہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ راولاکوٹ۔ گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں میں ہر جگہ لوگ مارے جارہے ہیں۔ پاکستانی فوج اور رینجرز کو تشدد روکنا چاہیے اور لوگوں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔