عبد السید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلم رکن منتخب

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 04-11-2026
عبد السید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلم رکن منتخب
عبد السید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلم رکن منتخب

 



واشنگٹن: امریکہ کی ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹ امیدوار عبد السید نے سخت مقابلے کے بعد سینیٹ کا انتخاب جیت لیا ہے۔ فاکس نیوز کے ڈیسیژن ڈیسک نے پیش گوئی کی ہے کہ انہوں نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے دی ہے۔ اس تاریخی کامیابی کے ساتھ عبد السید امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلم رہنما بن جائیں گے۔ تاہم سی بی ایس نیوز نے ووٹوں کی گنتی میں سخت مقابلے کے پیش نظر ابھی باضابطہ طور پر کسی امیدوار کی کامیابی کا اعلان نہیں کیا تھا۔ اپنے حامیوں کے پرجوش اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عبد السید نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا، ’’مشی گن! ہم نے یہ کر دکھایا!‘‘ انہوں نے سینیٹر منتخب ہونے پر فخر اور اعزاز کا احساس ظاہر کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم کی مشکلات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’آپ لوگوں نے ایک ایسے امیدوار پر بھروسہ کیا جس کی کامیابی کا امکان بہت کم سمجھا جارہا تھا۔ اس کے لیے آپ سب کا شکریہ۔ یہ کامیابی آپ سب کی ہے۔‘‘

انتخابی مہم کے دوران تعاون کرنے والے ووٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں نے اپنے گرجا گھروں، یہودی عبادت گاہوں اور گھروں کے دروازے ان کے لیے کھولے۔ انہوں نے کہا، ’’آپ کے اعتماد، یقین اور مہربانی کے لیے شکریہ۔ میں ان تمام چیزوں کو اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا اور امید کرتا ہوں کہ ایسی قیادت فراہم کرسکوں گا جو آپ کے اعتماد پر پوری اترے۔‘‘ عبد السید نے انتخابی مہم کے دوران اپنے خلاف استعمال کی جانے والی مخالفانہ زبان کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر کیے جانے والے حملوں کا اصل نشانہ ان کے حامی تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے سیاسی مخالفین دراصل ان لوگوں کو نشانہ بنا رہے تھے جو ان کی حمایت کررہے تھے۔ اپنے سیاسی نظریے اور مخالفین کے تصورِ امریکہ میں فرق واضح کرتے ہوئے انہوں نے اتحاد کا پیغام دیا۔ ان کے بقول، ’’وہ ایسا امریکہ چاہتے ہیں جس میں ہم میں سے بعض لوگوں کے لیے جگہ نہ ہو، لیکن ہم جانتے ہیں کہ امریکہ ہم سب کے لیے کافی بڑا ہے۔‘‘ مشی گن میں عبد السید کی یہ کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی نیوز نیٹ ورکس نے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ملک بھر میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی کی پیش گوئی کی ہے۔ پارٹی نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے۔

اس انتخابی تبدیلی کے نتیجے میں ٹیکساس اور کنساس میں کئی دہائیوں بعد ڈیموکریٹ سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اوہائیو، آئیووا، شمالی کیرولائنا، جنوبی کیرولائنا اور مین میں بھی ڈیموکریٹس نے سینیٹ کی نشستیں ریپبلکن پارٹی سے چھین لی ہیں۔ انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی بڑی شکست پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو براہ راست فون پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان نتائج کو اپنی صدارت کے خلاف عوامی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھتے۔ انہوں نے کہا، ’’میں اسے اپنے خلاف فیصلہ نہیں سمجھتا۔ معیشت اور ہمارے دیگر اقدامات کے لحاظ سے صدارت کی تاریخ کے گزشتہ 2 برس ہمارے بہترین برس رہے ہیں۔‘‘

ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو کامیابی پر مبارک باد بھی دی، تاہم ریپبلکن امیدواروں کو شکست کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض امیدوار اپنے ووٹروں کو متحرک کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں ڈیموکریٹس کو مبارک باد دیتا ہوں۔ انہوں نے اچھا کام کیا۔ وہ 11 برس سے اس کامیابی کے منتظر تھے اور آخرکار انہیں یہ کامیابی مل گئی۔‘‘ فاکس نیوز کے اعداد و شمار کے مطابق ووٹروں کے 4 اہم طبقوں، نوجوانوں، آزاد خیال ووٹروں، دیہی علاقوں کے باشندوں اور ہسپانوی نژاد امریکیوں نے بڑی تعداد میں ریپبلکن پارٹی سے اپنی حمایت واپس لے لی۔ ووٹروں کی ناراضگی کی اہم وجوہات میں مہنگائی، ٹرمپ کی محصولات کی پالیسی اور ایران سے متعلق جاری جنگ شامل ہیں۔

ووٹروں کے اس بدلتے رجحان نے ڈیموکریٹس کو ان ریاستوں میں بھی کامیابی دلائی جو روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھی جاتی رہی ہیں۔ جنوبی کیرولائنا میں سینیٹ کی نشست جیتنے کے علاوہ کنساس میں بھی ڈیموکریٹس نے تقریباً 100 سال سے جاری ریپبلکن بالادستی ختم کردی۔ ٹیکساس میں ان کی کامیابی بھی غیر معمولی ہے، جہاں 1994 کے بعد سے کسی ڈیموکریٹ امیدوار نے ریاست گیر انتخاب نہیں جیتا تھا۔ سی این این کے مطابق ووٹروں نے اپنے فیصلے میں مہنگائی، ٹرمپ کی محصولات کی پالیسی اور ایران جنگ کے ساتھ صدر کے طرزِ عمل اور ذاتی مفادات کے لیے عہدے کے استعمال سے متعلق خدشات کو بھی اہمیت دی۔