باکو: آذربائیجان میں ہندوستانی سفارت خانے نے اتوار کو باکو میں تاریخی آتش مندر کی تصویری نمائش اور ہندوستانی کلاسیکی کتاب ’پنچ تنتر‘ کی کہانیوں کے مطالعے کی نشست کا اہتمام کیا۔ اس پروگرام کے ذریعے فن، ادب، موسیقی اور کھانوں کے وسیلے سے دونوں ملکوں کے دیرینہ ثقافتی تعلقات کو اجاگر کیا گیا۔ اتوار کو سفارت خانے کے دفتر کے احاطے میں منعقدہ اس پروگرام میں آذربائیجان کے کم عمر طلبہ اور مختلف عمر کے فنکاروں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد ثقافتی تبادلے کو فروغ دینا اور ہندوستان و آذربائیجان کے عوام کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا تھا۔
پروگرام کے آغاز میں آذربائیجان میں ہندوستان کے سفیر ابھے کمار نے شرکا کو سفارت خانے میں ہندوستان کے یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل مقامات کی مستقل نمائش کا دورہ کرایا۔ اس موقع پر شرکا کو ہندوستان کی تہذیبی میراث، تاریخی عمارتوں اور ثقافتی تنوع سے واقف ہونے کا موقع ملا۔ شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سفیر ابھے کمار نے آذربائیجان کے طلبہ اور فنکاروں کی پُرجوش شرکت پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے لوگوں اور ثقافتوں کو قریب لانے میں فن کے کردار کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ فن لوگوں اور ثقافتوں کے درمیان رابطے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے، جو زبان، جغرافیائی حدود اور نسلوں کے فرق سے بالاتر ہو کر انہیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور آذربائیجان دونوں کی فنکارانہ روایات بہت مالا مال ہیں، جو ان کی گہری تہذیبی جڑوں اور ثقافتی تنوع کی عکاسی کرتی ہیں۔ سفیر نے آذربائیجان میں فنون لطیفہ سے وابستہ دلچسپی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان شرکا کا جوش خاص طور پر حوصلہ افزا ہے، کیونکہ فن تجسس پیدا کرتا ہے، باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دیتا ہے اور مختلف برادریوں کے درمیان تعلقات مضبوط بناتا ہے۔ دونوں ملکوں کے تاریخی روابط کا ذکر کرتے ہوئے ابھے کمار نے باکو کے تاریخی آتش مندر کا حوالہ دیا، جسے ’آتیش گاہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقام دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ ثقافتی تعلقات کی یاد دلاتا ہے۔
سفارت خانے کے مطابق، اس تاریخی مقام پر سواستیکا کی علامتیں، دیوناگری رسم الخط میں تحریریں اور ہندوستانی روایات سے وابستہ شخصیات کی تصویری نمائندگی، جن میں بھگوان گنیش اور نٹ راج بھی شامل ہیں، صدیوں کے دوران ہندوستان اور آذربائیجان کے درمیان ہونے والے ثقافتی تبادلوں کی جھلک پیش کرتی ہیں۔ سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تعلقات محض مشترکہ ماضی کی یادگار نہیں ہیں، بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آج بھی تحریک فراہم کرتے ہیں۔ پروگرام کی اہم کشش تصویری نمائش تھی، جس میں آذربائیجان کے طلبہ اور فنکاروں کے تیار کردہ فن پارے پیش کیے گئے۔
ان میں آتیش گاہ مندر، ہندو دیوی دیوتاؤں، ہندوستانی عوام، روایتی ملبوسات اور ہندوستانی ثقافتی ورثے کے دیگر پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا تھا۔ اس نمائش نے مقامی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے ہندوستانی ثقافت کے تئیں دلچسپی اور پسندیدگی کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کیا۔ پروگرام کا ایک اور اہم حصہ پنچ تنتر کی کہانیوں کی نشست تھی، جس کی قیادت سفیر ابھے کمار نے کی۔
انہوں نے ہندوستانی کلاسیکی کتاب ’پنچ تنتر‘ سے دو کہانیاں پڑھ کر سنائیں۔ حکمت، دوستی اور عملی زندگی کے سبق دینے والی یہ قدیم کہانیاں آذربائیجان کے بچوں کو بہت پسند آئیں۔ سفارت خانے نے بتایا کہ پنچ تنتر نے مختلف ثقافتوں اور نسلوں کے درمیان سفر کیا ہے۔ آذربائیجان میں یہ کتاب ’کلیلہ و دمنہ‘ کے ذریعے بھی مشہور ہے۔ یہ ادبی روایت صدیوں سے قارئین، خصوصاً بچوں، کو اپنی جانب متوجہ کرتی رہی ہے۔ پروگرام میں آذربائیجان کے فنکاروں نے ہندوستانی گیتوں پر رقص بھی پیش کیا، جس سے مقامی لوگوں میں ہندوستانی موسیقی اور رقص کی مقبولیت کی جھلک نظر آئی۔
شرکا کے لیے ہندوستانی کھانوں کا بھی انتظام کیا گیا تھا، تاکہ وہ ملک کی متنوع غذائی روایات سے واقف ہو سکیں۔ اس پروگرام کے ذریعے ہندوستانی سفارت خانے نے بالخصوص نوجوان نسل کے درمیان ہندوستان اور آذربائیجان کے ثقافتی تبادلوں اور عوامی روابط کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ فن، ادب، موسیقی اور کھانوں کو ایک ساتھ پیش کرکے اس تقریب نے ان ثقافتی رشتوں کا جشن منایا جو دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کو مسلسل مضبوط بنا رہے ہیں۔