بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کے لیے مضبوط نظام ضروری ہے: کینیڈا کی وزیر خارجہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 14-10-2026
بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کے لیے مضبوط نظام ضروری ہے: کینیڈا کی وزیر خارجہ
بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کے لیے مضبوط نظام ضروری ہے: کینیڈا کی وزیر خارجہ

 



نئی دہلی، کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بدھ کے روز بین الاقوامی سطح پر قوانین پر عمل درآمد کے لیے مضبوط نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی سالمیت، انسانی حقوق اور ریاستوں کی خودمختاری کے اصولوں کی حفاظت میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) اور عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) جیسے اداروں کا اہم کردار ہے۔ بلومبرگ نیو اکانومی 2026 کے تحت ’’کیا یہ درمیانی طاقتوں کا دور ہے؟‘‘ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں انیتا آنند نے بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کی مشکلات کا ذکر کیا اور کہا کہ بنیادی عالمی اصولوں کی حفاظت کرنے والے اداروں کی حمایت کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا، ’’بین الاقوامی سطح پر قوانین پر عمل درآمد کا تصور بہت مبہم ہے، بلکہ اسے کمزور بھی کہا جا سکتا ہے۔‘‘ انیتا آنند نے کہا، ’’بین الاقوامی قانون کو طویل عرصے سے اس مسئلے کا سامنا ہے کہ اس پر عمل درآمد کرانے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔ اسی لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور عالمی عدالت انصاف جیسے اداروں کی حمایت کرنا بہت ضروری ہے۔

یہ ادارے علاقائی سالمیت، انسانی حقوق اور ریاستوں کی خودمختاری جیسے اصولوں پر جہاں تک ممکن ہو، عمل درآمد کا کوئی نہ کوئی طریقہ فراہم کرتے ہیں۔‘‘ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی فوجداری عدالت کے کردار اور عالمی عدالتی اداروں کو درپیش مشکلات پر ایک بار پھر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اس عدالت پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان بھی ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد امریکی خودمختاری کا دفاع کرنا اور امریکی شہریوں کو اس خطرے سے بچانا ہے، جس کا دعویٰ امریکی حکومت بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حوالے سے کرتی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک سرکاری دستاویز میں کہا، ’’صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے اپنی خودمختاری اور اپنے شہریوں کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خطرے سے بچانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے ہیں۔‘‘ محکمہ خارجہ کے مطابق، تازہ ترین کارروائی سے پہلے ایک صدارتی حکم کے تحت 17 افراد پر پابندیاں عائد کی جا چکی تھیں۔ اب یہ اقدامات خود عدالت کے خلاف بھی کیے گئے ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت، متعلقہ اجازت ناموں اور مستثنیٰ صورتوں کے تابع، امریکہ میں موجود یا امریکی شہریوں اور اداروں کے قبضے میں موجود بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جائیداد اور اس سے متعلق مالی مفادات منجمد کر دیے گئے ہیں۔

ان کی اطلاع امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) کو دینا بھی ضروری ہے۔ ان اقدامات کے تحت امریکی شہریوں اور اداروں کو، نیز امریکہ کے اندر ہونے والے یا وہاں سے گزرنے والے ایسے لین دین کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے جن میں پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد یا اداروں کی جائیداد یا مالی مفادات شامل ہوں۔ تاہم، متعلقہ اجازت ناموں کے تحت مستثنیٰ یا مجاز لین دین اس پابندی سے الگ ہوں گے۔ ان حالات میں انیتا آنند نے کہا کہ اسٹریٹجک خودمختاری کو مضبوط بنانے اور معیشت کو زیادہ مستحکم بنانے کی کوششوں کے ساتھ ان اقدار کا تحفظ بھی ضروری ہے جن پر بین الاقوامی تعاون کی بنیاد قائم ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم سب عملی انداز میں سوچتے ہیں اور اس بات پر گفتگو کر رہے ہیں کہ اپنی اسٹریٹجک خودمختاری کو کیسے بڑھایا جائے اور موجودہ حالات میں معیشت کو کس طرح مضبوط اور مستحکم رکھا جائے۔ لیکن اس گفتگو میں اقدار کے کردار کو نہیں بھولنا چاہیے۔‘‘ انیتا آنند نے مزید کہا، ’’کچھ بنیادی اصول اور اقدار ایسی ہیں جو ہماری رہنمائی کرتی ہیں اور ہمیں آگے بڑھنے کی تحریک دیتی ہیں۔‘‘ اس مذاکرے میں کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند، ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر، ایشیا سوسائٹی کے عالمی صدر اور چیف ایگزیکٹو کیون رڈ اور برطانیہ کے سابق وزیر اعظم رشی سنک نے شرکت کی۔

شرکا نے بدلتے ہوئے عالمی حالات، بین الاقوامی نظام میں آنے والی تبدیلیوں اور جغرافیائی و معاشی مقابلے کے درمیان درمیانی طاقتوں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ مذاکرے میں اس سوال پر بھی غور کیا گیا کہ کیا درمیانی طاقتیں سلامتی کی ضمانتوں، کھلی منڈیوں، عالمی مالیاتی نظام اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی اداروں کے معاملے میں باہمی تعاون کو مضبوط بنا سکتی ہیں؟ یہ بحث ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی توجہ اندرونی معاملات پر مرکوز کر رہا ہے اور اس عالمی نظام سے دور ہو رہا ہے جسے برقرار رکھنے میں اس نے پہلے اہم کردار ادا کیا تھا۔

گفتگو کے دوران ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی بین الاقوامی تعلقات میں معاشی اور مالیاتی کمزوریوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اہم وسائل، مالیاتی نظام اور پابندیوں کو دوسرے ملکوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مذاکرے میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ درمیانی طاقتوں کو ایک ایسے عالمی ماحول میں اپنی اسٹریٹجک خودمختاری اور معاشی مضبوطی بڑھانے کا چیلنج درپیش ہے جہاں مقابلہ مسلسل سخت ہوتا جا رہا ہے۔