انتخابات میں ڈیموکریٹس کی مکمل کامیابی امریکہ کے لیے تباہ کن ہوگی: ایلون مسک

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 30-10-2026
انتخابات میں ڈیموکریٹس کی مکمل کامیابی امریکہ کے لیے تباہ کن ہوگی: ایلون مسک
انتخابات میں ڈیموکریٹس کی مکمل کامیابی امریکہ کے لیے تباہ کن ہوگی: ایلون مسک

 



واشنگٹن ڈی سی: ارب پتی کاروباری شخصیت اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے 2028 کے امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ایوانِ نمائندگان، سینیٹ اور صدارت تینوں پر کامیابی کے امکانات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر ڈیموکریٹس کو ان تینوں اداروں کا کنٹرول حاصل ہو گیا تو امریکہ میں بڑے سیاسی اور ادارہ جاتی تغیرات رونما ہو سکتے ہیں۔ مسک نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ان خدشات کا اظہار کیا کہ اگر 2028 میں ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان، سینیٹ اور صدارت تینوں پر قابض ہو گئے تو وہ کیا اقدامات کر سکتے ہیں۔ انہوں نے لکھا، ’’یہ امریکہ کے لیے کھیل ختم ہونے کے مترادف ہوگا۔‘‘

مسک نے کہا، ’’میری سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اگر 2028 میں ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان، سینیٹ اور صدارت تینوں میں واضح کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو وہ واشنگٹن ڈی سی اور پورٹو ریکو کو امریکی ریاست کا درجہ دے سکتے ہیں، تاکہ سینیٹ میں اپنی مضبوط اکثریت قائم کر سکیں۔ وہ سرحدیں کھول سکتے ہیں اور امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم تمام افراد کو قانونی حیثیت دے سکتے ہیں، تاکہ اپنی مستقل اکثریت یقینی بنا سکیں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھا کر فوری طور پر اپنی اکثریت حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان اقدامات سے امریکہ کا سیاسی نظام بنیادی طور پر تبدیل ہو جائے گا۔

مسک کے بقول، ’’اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ امریکہ مستقل طور پر ایک جماعتی ریاست بن جائے گا اور جمہوریت اپنے حقیقی مفہوم میں ختم ہو جائے گی۔‘‘ مسک نے آئندہ انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس صورت حال کو روکنے کے لیے 2029 میں سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے کم از کم 51 ارکان کا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’اس صورت حال کو روکنے کے لیے صرف 2029 میں سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے 51 ارکان کی ضرورت ہے۔ اسی لیے آپ کو اس انتخاب میں ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دینا چاہیے۔ اس کے مقابلے میں دوسری تمام وجوہات غیر اہم ہیں۔‘‘

مسک کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے سربراہ امریکی تاریخ میں انفرادی طور پر سب سے زیادہ سیاسی چندہ دینے والی شخصیت بن چکے ہیں۔ انہوں نے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن امیدواروں اور سیاسی گروپوں کی حمایت میں 442 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔ ’دی ہل‘ کی رپورٹ کے مطابق، انتخابی مہم کے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسک نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران اپنے ’امریکہ پی اے سی‘ کو مزید 76.8 ملین ڈالر دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آئندہ انتخابات کے لیے ان کا مجموعی خرچ 442 ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ مسک نے امریکہ پی اے سی کی بنیاد 2024 کے انتخابی دور میں رکھی تھی۔

اس گروپ کو اکتوبر میں تقریباً ایک ہفتے کے دوران یہ نئی رقم موصول ہوئی۔ اس سے پہلے مسک ریپبلکن امیدواروں اور ان سے وابستہ سیاسی گروپوں کی حمایت میں 366 ملین ڈالر خرچ کر چکے تھے۔ دریں اثنا، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 27 اکتوبر کو کہا تھا کہ اگر وسط مدتی انتخابات منصفانہ طریقے سے کرائے گئے تو وہ ان کے نتائج کا احترام کریں گے، تاہم انہوں نے ضرورت پڑنے پر اپنا ویٹو کا اختیار استعمال کرنے کا انتباہ بھی دیا تھا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’ہم کوئی راستہ نکال لیں گے۔ میرے پاس ویٹو کا مضبوط اختیار ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی، لیکن اگر ایسا ہوا تو ماضی میں بھی ایسا ہو چکا ہے۔ میں نتائج کو قبول کروں گا، بشرطیکہ انتخابات ایمانداری سے کرائے جائیں۔‘‘ 25 اکتوبر کو شائع ہونے والے سی بی ایس نیوز کے ایک سروے کے مطابق، 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان کی 229 نشستیں حاصل ہونے کا امکان ہے۔

مہنگائی اور معیشت کے بارے میں مسلسل تشویش ووٹروں کی ترجیحات پر اثر انداز ہو رہی ہے، اگرچہ بہت سے امریکی شہری اب بھی اس بات سے مطمئن نہیں ہیں کہ دونوں میں سے کسی بھی جماعت کے پاس ان کی مالی مشکلات دور کرنے کا کوئی واضح منصوبہ موجود ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق، اس کے انتخابی ماڈل میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ان کی نشستوں کی تعداد 230 سے بھی آگے جا سکتی ہے۔ تاہم ریپبلکن پارٹی کے پاس بھی اکثریت برقرار رکھنے کا ایک محدود امکان موجود ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ڈیموکریٹس کی برتری برقرار رہی ہے، لیکن اس میں اضافہ نہیں ہوا۔ رپورٹ کے مطابق، فی الحال انتخابات میں کسی بڑی لہر کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق، مسک نے اپنے سیاسی اخراجات کا بڑا حصہ کانگریس پر ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے مختص کیا ہے۔

ان کے حالیہ عطیات کا ایک بڑا حصہ ٹیکساس کی سینیٹ نشست کے لیے سخت مقابلے پر مرکوز رہا ہے، جہاں ریپبلکن امیدوار اور ریاست کے اٹارنی جنرل کین پاکسٹن کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹالاریکو سے ہے۔ سی بی ایس نیوز کے حوالے سے انتخابی مہم کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، مسک نے ستمبر میں دو الگ الگ عطیات کے ذریعے ’سینیٹ لیڈرشپ فنڈ‘ کو 158 ملین ڈالر دیے۔ یہ ایک بڑا سیاسی ایکشن کمیٹی (سپر پی اے سی) ہے، جو ریپبلکن سینیٹ امیدواروں کی حمایت کرتا ہے۔ بعد ازاں اس گروپ نے تقریباً اتنی ہی رقم ٹیکساس کی ایک سیاسی ایکشن کمیٹی کو منتقل کی، جو کین پاکسٹن کی حمایت کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، مسک نے 9 ستمبر کو 75 ملین ڈالر اور تقریباً دو ہفتے بعد مزید 83 ملین ڈالر عطیہ کیے۔ ان عطیات کا حجم تیسری سہ ماہی کے دوران سینیٹ لیڈرشپ فنڈ کو موصول ہونے والی مجموعی رقم کے نصف سے زیادہ تھا۔ مسک نے اپنے ٹرسٹ کے ذریعے پاکسٹن کی حمایت کرنے والی ’لون اسٹار لبرٹی پی اے سی‘ کو بھی 10 ملین ڈالر دیے۔ اس کے علاوہ ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کرنے والے ’کانگریشنل لیڈرشپ فنڈ‘ کو 20 ملین ڈالر، ’ریپبلکن گورنرز ایسوسی ایشن‘ کو 10 ملین ڈالر اور ’ریپبلکن اٹارنی جنرلز ایسوسی ایشن‘ کو 2 ملین ڈالر عطیہ کیے۔

ان کا ’امریکہ پی اے سی‘ بھی کانگریس کی مختلف نشستوں پر سخت مقابلے میں حصہ لینے والے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کر رہا ہے۔ مسک کی جانب سے سیاسی عطیات میں یہ تازہ اضافہ بڑے پیمانے پر سیاسی سرمایہ کاری کی طرف ان کی واپسی کا اشارہ ہے۔ 2024 کے انتخابی دور میں بھی انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور دیگر ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں ایک چوتھائی ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے تھے۔ یہ نئی مالی مدد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ سال ٹرمپ کے ساتھ کھلے اختلافات کے بعد ریپبلکن پارٹی کے بعض رہنماؤں کو خدشہ تھا کہ مسک سیاسی سرگرمیوں میں اپنی شمولیت کم کر سکتے ہیں۔ دریں اثنا، 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو کانگریس کے دونوں ایوانوں، یعنی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، پر کنٹرول کے لیے ایک اہم مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان انتخابات کے نتائج ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے اور واشنگٹن میں سیاسی طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔