باکو میں ہندوستانی ثقافت کی رنگارنگ نمائش

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 02-11-2026
باکو میں ہندوستانی ثقافت کی رنگارنگ نمائش
باکو میں ہندوستانی ثقافت کی رنگارنگ نمائش

 



باکو: آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ہندوستانی سفارت خانے نے دونوں ملکوں کے مشترکہ ثقافتی ورثے اور دیرینہ تعلقات کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مصوری نمائش اور ادبی نشست کا اہتمام کیا۔ اس پروگرام میں مختلف عمر کے نوجوان آذربائیجانی طلبہ اور فنکاروں نے شرکت کی اور فن، ادب، موسیقی اور ثقافتی تبادلے کی ایک خوبصورت محفل سجائی۔ اتوار کو سفارت خانے کے دفتر میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں ’’ایک دوستی، دو ملک: ہندوستان اور آذربائیجان‘‘ کے عنوان سے خصوصی مصوری نمائش لگائی گئی۔ اس کے ساتھ ہندوستانی ادب کے کلاسیکی شاہکار ’’پنچ تنتر‘‘ کی کہانیوں پر مشتمل ایک مطالعاتی نشست بھی منعقد ہوئی۔

اس موقع پر آذربائیجان میں ہندوستان کے سفیر ابھے کمار نے نوجوان طلبہ اور فنکاروں کی پُرجوش شرکت پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فن لوگوں کو اس طرح ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے، جس طرح بعض اوقات الفاظ بھی نہیں لا پاتے۔ سفیر نے کہا کہ ہندوستان اور آذربائیجان دونوں فنون کے بیش بہا خزانے رکھتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی فنکارانہ روایات ان کی شاندار تاریخ اور متنوع ثقافتی ورثے سے تشکیل پائی ہیں۔

انہوں نے آذربائیجان کے طلبہ اور نوجوان فنکاروں کی فنون لطیفہ میں دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی تخلیقی صلاحیتیں اور جوش و جذبہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ثقافتی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی تحریک کا ذریعہ بنا رہے۔ نمائش کے عنوان ’’ایک دوستی، دو ملک: ہندوستان اور آذربائیجان‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ابھے کمار نے کہا کہ یہ موضوع خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ دونوں ملکوں کے تعلقات صدیوں پر محیط ثقافتی میل جول اور ایک دوسرے کے لیے قدر و احترام کی بنیاد پر قائم ہیں۔

دونوں ملکوں کے تاریخی روابط کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے باکو کے تاریخی آتشگاہ مندر کا حوالہ دیا، جہاں سواستیکا کی علامتیں، دیوناگری رسم الخط میں تحریریں اور ہندوستانی روایات کی عکاسی کرنے والی تصاویر موجود ہیں۔ ان میں بھگوان گنیش اور نٹ راج کی شبیہیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کو فن، ادب اور روایات سے روشناس کرا کے ان تاریخی روابط کو محفوظ رکھنے اور ان کا جشن منانے کی ضرورت ہے۔ پروگرام کا ایک اہم حصہ سفیر ابھے کمار کی جانب سے خود منعقد کی گئی ایک دلچسپ مطالعاتی نشست تھی، جس میں انہوں نے ہندوستانی کلاسیکی کتاب ’’پنچ تنتر‘‘ کی کہانیاں سنائیں۔ یہ کہانیاں مختلف تہذیبوں اور نسلوں کا سفر طے کرتی ہوئی آج بھی اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

آذربائیجان کے نوجوان سامعین نے بھی انہیں خاص دلچسپی سے سنا۔ آذربائیجان میں ’’کلیلا و دمنہ‘‘ کے نام سے مشہور یہ کتاب طویل عرصے سے مقبول ہے۔ اس کی کہانیاں حکمت، دوستی اور انسانی رشتوں کے بارے میں اپنی لازوال تعلیمات کے باعث آج بھی نوجوان قارئین کو متاثر کرتی ہیں۔ سفیر نے نمائش میں شریک فنکاروں سے بھی بات چیت کی اور ان کی بنائی ہوئی پینٹنگز کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں اور ہندوستان و آذربائیجان کے تاریخی اور تہذیبی روابط کو اپنے فن کے ذریعے پیش کرنے کے انداز کو سراہا۔ اس نمائش نے نوجوان آذربائیجانی فنکاروں کو ہندوستانی ثقافت اور ورثے کے تئیں اپنی دلچسپی اور پسندیدگی کے اظہار کا موقع فراہم کیا۔ پروگرام کے تحت ابھے کمار نے شرکا کو سفارت خانے میں قائم مستقل نمائش کا دورہ بھی کرایا، جس میں ہندوستان کے یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل مقامات کی جھلکیاں پیش کی گئی ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے ہندوستان کی شاندار تاریخ، تعمیراتی کارناموں اور ثقافتی تنوع سے بھی انہیں واقف کرایا۔ اس تقریب میں ایک آذربائیجانی فنکار نے ہندوستانی موسیقی اور رقص پر مشتمل ثقافتی پیش کش بھی پیش کی۔ تمام نوجوان فنکاروں کو ان کی شرکت، جوش و جذبے اور تخلیقی خدمات کے اعتراف میں سرٹیفکیٹ دیے گئے، تاکہ فن اور ہندوستانی ثقافت میں ان کی دلچسپی کو مزید فروغ ملے۔ اس پروگرام کے ذریعے ہندوستانی سفارت خانے نے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں اور ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

اس کوشش میں بالخصوص نوجوان نسل کو اہمیت دی گئی ہے۔ یہ تقریب فن اور ادب سے دونوں ملکوں کی مشترکہ دلچسپی کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیتوں، کہانیوں اور ثقافتی تبادلے کے ذریعے ہندوستان اور آذربائیجان کو مزید قریب لانے کا ایک اہم ذریعہ بنی۔