شبھمن گل کی ڈبل سنچری، بھارت نے ون ڈے کرکٹ میں اپنا سب سے بڑا ہدف حاصل کرلیا

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 30-09-2026
شبھمن گل کی ڈبل سنچری، بھارت نے ون ڈے کرکٹ میں اپنا سب سے بڑا ہدف حاصل کرلیا
شبھمن گل کی ڈبل سنچری، بھارت نے ون ڈے کرکٹ میں اپنا سب سے بڑا ہدف حاصل کرلیا

 



 گوہاٹی: ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ میں تاریخ رقم کرتے ہوئے 406 رنز کا بڑا ہدف محض 43.3 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ کپتان شبھمن گل کی شاندار ڈبل سنچری اور روہت شرما کی جارحانہ سنچری کی بدولت بھارت نے یہ مقابلہ آٹھ وکٹوں سے جیت لیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی ہندوستان نے تین میچوں کی ون ڈے سیریز بھی اپنے نام کرلی۔

یہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں دوسرا موقع ہے جب کسی ٹیم نے 400 یا اس سے زیادہ رنز کا ہدف کامیابی کے ساتھ حاصل کیا ہے۔ اس سے قبل 2006 میں جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کے خلاف 438 رنز کا ہدف حاصل کرکے تاریخ رقم کی تھی۔

ہندوستان کی اس تاریخی کامیابی کے ہیرو کپتان شبھمن گل رہے، جنہوں نے محض 133 گیندوں پر 223 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔ ان کی اننگز میں 26 چوکے اور 8 چھکے شامل تھے۔ ان کے ساتھ سابق کپتان روہت شرما نے بھی شاندار بلے بازی کرتے ہوئے 75 گیندوں پر 101 رنز بنائے۔ انہوں نے اپنی اننگز میں 10 چوکے اور 6 چھکے لگائے۔

گل اور روہت کی ریکارڈ ساز شراکت

406 رنز کے بڑے ہدف کا تعاقب کرنے اتری ہندوستانی ٹیم کو روہت شرما اور شبھمن گل نے شاندار آغاز فراہم کیا۔ دونوں نے پہلی وکٹ کے لیے 255 رنز کی ریکارڈ ساز شراکت قائم کی۔ یہ ہندوستان کی جانب سے ون ڈے کرکٹ میں دوسری سب سے بڑی افتتاحی شراکت ہے۔

اس سے قبل ہندوستان کی سب سے بڑی افتتاحی شراکت کا ریکارڈ سچن تندولکر اور سورو گنگولی کے نام ہے، جنہوں نے 2001 میں پارل میں کینیا کے خلاف 258 رنز کی شراکت قائم کی تھی۔

روہت شرما 101 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے 75 گیندوں کا سامنا کیا اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 134.67 رہا۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد وراٹ کوہلی میدان میں اترے۔ کوہلی نے پہلے ون ڈے میں اپنی 55ویں سنچری بنائی تھی، تاہم اس میچ میں وہ 19 گیندوں پر 29 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

اس کے بعد رتوراج گائیکواڑ نے شبھمن گل کا ساتھ دیا۔ دونوں نے محتاط اور ذمہ دارانہ بلے بازی کرتے ہوئے ہندوستان کو فتح سے ہمکنار کیا۔ گائیکواڑ نے 37 گیندوں پر 31 رنز بنائے، جبکہ گل آخر تک کریز پر موجود رہے۔

ویسٹ انڈیز کے تین بلے بازوں کی سنچریاں

اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 405 رنز کا بڑا اسکور کھڑا کیا تھا۔ مہمان ٹیم کی جانب سے جان کیمبل، کپتان شائی ہوپ اور عامر جنگو نے شاندار سنچریاں اسکور کیں۔

جان کیمبل نے جارحانہ انداز میں بلے بازی کرتے ہوئے محض 68 گیندوں پر 101 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں 9 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔ انہوں نے پاور پلے کے دوران ہندوستانی گیند بازوں پر بھرپور حملے کیے اور ٹیم کو تیز رفتار آغاز فراہم کیا۔

کپتان شائی ہوپ نے 94 گیندوں پر 104 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔ انہوں نے 8 چوکے اور 3 چھکے لگائے۔ انہیں اننگز کے دوران دو مرتبہ کیچ چھوٹنے کا فائدہ بھی ملا۔

عامر جنگو نے بھی جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 77 گیندوں پر 114 رنز بنائے، جس میں 13 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے۔ انہوں نے 54 گیندوں پر 59 رنز بنانے کے بعد اپنی رفتار تیز کی اور صرف 70 گیندوں میں سنچری مکمل کرلی۔

ویسٹ انڈیز کے ان تینوں بلے بازوں کی سنچریوں کی بدولت ٹیم 400 رنز کا ہندسہ عبور کرنے میں کامیاب رہی۔ ہندوستان کی جانب سے کلدیپ یادو سب سے کامیاب گیند باز رہے، جنہوں نے 65 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔

ہندوستانی گیند باز ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کو قابو کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں رہے۔ مہمان ٹیم کے کسی بھی گیند باز نے سات رنز فی اوور سے کم کی اکانومی برقرار نہیں رکھی۔ جےڈن سیلز اور شمر جوزف نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

شبھمن گل نے کیا کہا؟

میچ کے بہترین کھلاڑی قرار دیے گئے شبھمن گل نے کہا کہ شدید گرمی میں طویل وقت تک میدان میں رہنے کے باعث ان کے جسم میں کھچاؤ محسوس ہورہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 400 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنا ہمیشہ دباؤ کا باعث ہوتا ہے، لیکن ہندوستانی ٹیم نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔

گل کے مطابق، ٹیم نے بڑے ہدف کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے حاصل کرنے کی حکمت عملی اپنائی تھی۔ پاور پلے میں بغیر وکٹ گنوائے 75 سے 80 رنز بنانے کا ہدف رکھا گیا تھا، جبکہ 25 اوورز تک 200 سے 210 رنز بنانے کا منصوبہ تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی ٹیم 25 اوورز تک 230 سے 240 رنز بنانے میں کامیاب رہی، جس کے بعد دباؤ ویسٹ انڈیز کی ٹیم پر منتقل ہوگیا۔

گل نے کہا کہ دوپہر کے وقت شدید گرمی تھی اور ویسٹ انڈیز کی جارحانہ بلے بازی کے دوران انہیں محسوس ہوا کہ ٹیم نے معمول سے کہیں زیادہ وقت تک فیلڈنگ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 400 رنز کے ہدف کا تعاقب کسی بھی پچ یا میدان پر آسان نہیں ہوتا، اس لیے وہ اپنی ٹیم کی کارکردگی سے بہت خوش ہیں۔ انہیں اس بات کی بھی خوشی ہے کہ وہ آخر تک ناٹ آؤٹ رہے۔

ہندوستانی کپتان نے ویسٹ انڈیز کی بلے بازی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مہمان ٹیم نے آزادی کے ساتھ بیٹنگ کی اور ایک موقع پر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ 420 سے 430 رنز تک پہنچ جائے گی۔ تاہم، آخری اوورز میں ہندوستانی گیند بازوں نے کسی حد تک واپسی کی۔

اگلے میچ میں ٹیم میں تبدیلیوں کے امکان سے متعلق سوال پر گل نے کہا کہ ٹیم ان کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہے گی جنہیں اب تک کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ اس سلسلے میں ٹیم کی ضرورت اور مناسب کمبی نیشن کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا۔

اس طرح شبھمن گل اور روہت شرما کی شاندار بلے بازی نے نہ صرف ہندوستان کو ایک تاریخی کامیابی دلائی بلکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز میں بھی فیصلہ کن برتری دلا دی۔