سنگاپور: ہندوستان کی ابھرتی ہوئی کارٹنگ ریسنگ اسٹار عتیقہ میر نے اپنے کیریئر میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ انہیں اٹلی کے معروف ریسنگ ماہر ڈینو چیسا کی ٹیم ’کارٹ ریپبلک‘ (کے آر) نے اپنے ساتھ شامل کرلیا ہے۔ ڈینو چیسا نے ماضی میں فارمولا ون کے متعدد عالمی چیمپئن ڈرائیوروں کے کیریئر کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جن میں لیوس ہیملٹن بھی شامل ہیں۔ صرف 11 سال کی عمر میں عتیقہ نے یورپ کی مختلف کارٹنگ ریسوں میں اپنی شاندار کارکردگی سے ڈینو چیسا کو متاثر کیا، جس کے بعد انہوں نے سیزن کے درمیان ہی کے آر ٹیم میں شمولیت اختیار کرلی۔
اس ٹیم سے وابستگی عتیقہ کے لیے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا ایک اہم موقع سمجھی جارہی ہے۔ کارٹ ریپبلک اور ڈینو چیسا کے ساتھ کام کرنے والے فارمولا ون ڈرائیوروں کی فہرست میں موجودہ عالمی چیمپئن لینڈو نورس، جارج رسل، آسکر پیاسٹری، موجودہ چیمپئن شپ میں سب سے آگے چلنے والے کیمی اینٹونیلی اور آروڈ لنڈبلینڈ سمیت کئی نامور ڈرائیور شامل ہیں۔ ڈینو چیسا نے سات مرتبہ فارمولا ون عالمی چیمپئن بننے والے لیوس ہیملٹن اور 2016 کے عالمی چیمپئن نیکو روزبرگ کے کیریئر کو سنوارنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ کے آر میں شمولیت سے عتیقہ کو آئندہ دو برسوں میں او کے جے زمرے میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع ملے گا۔ یہ زمرہ عموماً 12 سے 14 سال کی عمر کے ڈرائیوروں کے لیے ہوتا ہے۔ اس دوران انہیں دنیا کے بہترین نوجوان ڈرائیوروں کے ساتھ مقابلہ کرنے اور بین الاقوامی سطح پر تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
عتیقہ نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’میں کے آر ٹیم میں شامل ہونے اور اپنے کیریئر کے اس نئے باب کا آغاز کرنے پر بہت خوش ہوں۔ یہ میرے لیے ایک خواب پورا ہونے جیسا ہے۔ میں ٹیم کے ساتھ کام کرنے، زیادہ سے زیادہ سیکھنے اور خود کو ایک بہتر ڈرائیور بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کرنے کی منتظر ہوں۔ میں ان تمام لوگوں کی شکر گزار ہوں جو مسلسل میرا ساتھ دے رہے ہیں اور اب اس سفر کو شروع کرنے کے لیے بے تاب ہوں۔‘‘ ڈینو چیسا نے عتیقہ کو ٹیم میں شامل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ان میں غیر معمولی رفتار اور ہندوستان کے لیے کچھ خاص کر دکھانے کی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں گزشتہ دو برس سے عتیقہ کی کارکردگی پر نظر رکھ رہا ہوں۔ انہوں نے چھوٹی اور بڑی، دونوں طرح کی کارٹنگ میں اپنی رفتار کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اس وقت کی بہترین خواتین ڈرائیوروں میں سے ایک ہیں۔ ان کے سامنے ایک بڑا کیریئر موجود ہے اور وہ اس سے بھی بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔ صحیح وقت پر صحیح قدم اٹھانا ضروری ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ابھی صرف 11 سال کی ہیں۔ عام طور پر اتنی کم عمر میں محتاط رہنا فطری بات ہے، لیکن عتیقہ ایک غیر معمولی صلاحیت کی مالک ہیں۔‘
‘ سری نگر سے تعلق رکھنے والی عتیقہ کا ہدف 1992 کے بعد فارمولا ون تک پہنچنے والی پہلی خاتون ڈرائیور بننا ہے۔ اگر وہ اس منزل تک پہنچ جاتی ہیں تو موٹر ریسنگ کی تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل کرسکتی ہیں۔ اس سیزن کے آغاز میں بھی عتیقہ نے اٹلی میں ’چیمپئنز آف دی فیوچر اکیڈمی‘ (سی او ٹی ایف اے) سیریز کے تیسرے مرحلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے مرسڈیز فارمولا ون کے جونیئر ڈرائیور نکولو پیریکو سے بہتر کوالیفائنگ وقت درج کرکے پول پوزیشن حاصل کی تھی۔ پول پوزیشن کا مطلب ہے کہ ڈرائیور کو ریس شروع کرنے کے لیے سب سے آگے کی جگہ ملتی ہے۔
مئی میں عتیقہ نے یونان میں اسی سیریز کے دوسرے مرحلے میں بھی تمام مقابلوں میں شاندار کامیابی حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔ کارٹ ریپبلک دنیا بھر میں ریسنگ کارٹ تیار کرنے والی نمایاں کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی فیکٹری ریسنگ ٹیم نے ایف آئی اے کارٹنگ کے 25 سے زیادہ بڑے بین الاقوامی خطابات جیتے ہیں، جن میں 15 یورپی کارٹنگ چیمپئن شپ اور 12 عالمی چیمپئن شپ شامل ہیں۔ کے آر سے وابستہ ڈرائیوروں کی کامیابی کے پیچھے جدید تکنیکی تیاری، پیشہ ورانہ ریس انجینئرنگ اور ڈرائیوروں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ کو اہم قرار دیا جاتا ہے۔ عتیقہ کے لیے ایسی تجربہ کار ٹیم کا حصہ بننا ان کے مستقبل کے عزائم کی جانب ایک اہم قدم ہے۔