عمیر منظر
شعبہ اردو
مانو لکھنؤ کیمپس۔لکھنؤ
خدا بخش اورئنٹل پبلک لائبریری اپنی نوعیت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین لائبریریوں میں سے ایک ہے۔ اسے ایک انتہائی معمولی وسائل رکھنے والے محمد بخش خاں نے محض اپنی محنت، لگن اور شوق سے ذاتی کتب خانے کے طورپر1828میں قائم کیاتھااس وقت محض 1400کتابیں تھیں۔ مگر یہ ان کے صاحب زادے مولوی خدا بخش کے نام سے موسوم ہوئی کیوں کہ 1876 میں اپنے والد کی وفات کے بعد انہوں نے ان کے مخطوطوں اور نوادرات کی تعداد میں قابل قدر اضافہ کیا۔ان کے والد اپنی آمدنی کا بڑا حصہ مخطوطات کی خریداری پر صرف کرتے تھے۔انھوں نے بستر مرگ پر ہی اپنے بیٹے خدا بخش کو یہ ذمہ داری سونپ دی تھی کہ ان کے پاس جو مخطوطات اور نوادر ہیں انھیں جب موقع ملے اور حالات اجازت دیں تو اسے عوامی کتب خانہ بنادیں۔حالات نے وہ موقع فراہم کیا۔جب اکتوبر 1891میں اورینٹل پبلک لائبریری کے طورپر اس کا افتتاح ہوا تو اس وقت 4000کتابیں موجود تھیں۔
مولوی خدا بخش خاں 2 /اگست 1842چھپرہ میں پیدا ہوئے۔ان کی پیدائش کے کچھ ہی دنوں بعد ان کے خاندان کے لوگ بانکی پور منتقل ہوگئے۔ان کے والد محمد بخش خاں کی شہرت ایک وکیل کے طور پر ضرور تھی مگر اسی کے ساتھ انھیں کتابوں سے بڑا خاص لگاؤ تھا۔خدا بخش خاں کا تعلیمی سلسلہ پٹنہ سے شروع ہوا مگر 1857کے ہنگاموں کے سبب وہ کلکتہ چلے گئے اور اس طرح کلکتہ یونی ورسٹی سے 1861میں انٹرینس کیا۔دوبارہ پٹنہ آگئے۔کچھ برس پٹنہ بار ایسوسی ایشن سے منسلک تو ہوئے مگر مختلف دشواریوں کا سامنا رہا۔پیشکار اور ڈپٹی انسپکٹر آف اسکول کے طورپر بھی انھوں نے کچھ برس ملازمت کی مگر1868میں ان کا نام پٹنہ بار ایسوسی ایشن میں درج کرلیا گیا۔یک گونہ یکسوئی ملی۔اور ایک کام یاب قانون داں کے طور پر مشہور ہوئے۔1881میں خان بہادر کاخطاب ملا۔1891میں لائبریری اورینٹل پبلک لائبریری کی بنیاد رکھی۔قانونی مہارتوں کے سبب ہی 1895میں حیدرآباد دکن کی عدالت میں چیف جسٹس کے عہدے پر فائزہوئے۔دوبارہ پٹنہ آکر عدالت سے منسلک ہوگئے مگر 1898 ان پر فالج کا حملہ ہوا۔کمزوری اور خرابی صحت کے باوجود ان کی لگن اور لائبریری کے لیے ان کی جدوجہد میں کوئی کمی نہیں آئی۔1908میں ان کا انتقال ہوا۔

لائبریری میں موجود نادر اور تاریخی مخطوطات
خدا بخش عربی،فارسی اور انگریزی زبان میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ان زبانوں کے اہم شعرا اور ادیبوں کی اہم تخلیقات پر ان کی گہری نگاہ تھی۔عربی اور فارسی اشعار تو انھیں کثرت سے یاد تھے۔انھوں نے عربی اور فارسی مخطوطوں کی ایک فہرست جو پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے مرتب کی تھی۔انھوں نے لارڈ بائرن کے مقالوں کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا تھا۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں ان زبانوں پر کس قدر مہارت حاصل تھی۔انھوں نے لائبریری کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے سخت جدوجہد کی۔کتب خانے کے انتظامی مصارف کے سرمایے کی فراہمی کے لیے جہاں انھیں حکومت سے مدد ملی وہیں پٹنہ کے روؤسا نے بھی اس کا ر خیر میں حصہ لیا۔
ایک واقعہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آج جو لائبریری کی موجودہ شکل ہے اس کو یہاں تک پہنچانے میں ان کی کس قدر محنت اور کوشش شامل رہی ہے۔میرے والد جناب خدا بخش اور نواب رام پور کے درمیان مقابلہ شروع ہوا اور آخر کار وہ نواب پر سبقت لے گئے۔انھوں نے محمد باقی جو ایک عرب تھا اور جس کا کتابوں کے خزانوں کو دریافت کرنے میں کوئی ثانی نہیں تھا اسے پچاس روپے ماہانہ اور کمیشن پر ایک سال کے لیے ملازم رکھا اس کا کام ہی یہی تھا کہ وہ نادر مخطوطات کو تلاش کرے جو بیشتر عربی زبان میں تھے اور شام،عربیہ،مصر اور بیروت میں مل سکتے تھے۔ان کی عادت تھی کہ ہر وہ شخص جو مخوطہ فروخت کرنے کے لیے بانکی پور آتا تھا اسے دگنا کرایہ دیتے تھے۔اس طرح پورے ہندستان میں ان کی شہرت پھیل گئی۔]مولوی خدا بخش خاں حیات اور کارنامے ص [30
اس سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ کیسی کیسی اہم اور نادر کتابیں اور مخطوطات یہاں جمع کیے گئے ہیں۔فن حدیث و رجال،ادیبات اور فلسفہ و طب میں یہاں اعلی درجے کی تصنیفیں ہیں۔علامہ شبلی نعمانی جنھوں نے بے شمار لائبریریاں ہندستان اور ہندستان سے باہر دیکھ رکھی تھیں۔قدیم قلمی کتابوں کی انھیں معلومات بھی بہت تھی۔ نادر ونایا ب کتابوں کے وہ بھی شیدا تھے۔انھوں نے1891میں اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا ”مولوی خدا بخش خاں کا کتب خانہ...اپنی خصوصیتوں کے لحاظ سے روم و مصر و عرب و ہند کے نامور کتب خانوں کی صف میں جگہ پانے کے قابل ہے“۔
ایک خزانے کا نام ہے خدا بخش لائبریری
خدا بخش خاں کی کوششوں کی شہرت اور کتب خانے کی مقبولیت کا عالم یہ تھا شبلی اس کی دید کے مشتاق تھے بالآخراس کتب خانہ کی سیر کے لیے پٹنہ کا سفر کیا اور چار روز وہاں قیام کیا۔قرآن کے ایک نسخہ کے بارے میں انھوں نے لکھا ہے کہ اس پر سنہ کتابت نہیں ہے مگر قرائن سے یہ صحابہ کے ز مانہ کا لکھا ہوا معلوم ہوتاہے۔شبلی نے لکھا ہے کہ بڑا قرینہ یہی ہے کہ تمام قرآن میں کہیں زیر زبر اور رکوع نہیں ہے۔انھیں اس پر عبداللہ ابن مسعود کے نسخے کی نقل کا گمان ہے۔شبلی نے ان کے بارے میں لکھا ہے۔
مولوی خدا بخش خاں نے جس اہتمام اور زر خطیر کے صرف سے کتابیں بہم پہنچائی ہیں اس کی نظیر سے تمام ہندستان خالی ہے۔کیایہ کچھ کم تعجب کی بات ہے کہ ایک معمولی حیثیت کا وکیل جس کے پاس کچھ جائیداد نہیں اور جس کی آمدنی صرف ضلع کی وکالت پر محدود ہے،ایک کتب خانہ کی تیاری میں ڈیڑھ لاکھ روپیہ صرف کردے؟بے شبہ ایسا اولوالعزم شحص ان نامور قدیم مسلمانوں کا نمونہ قراردیا جاسکتا ہے جن کی حوصلہ مندیوں کا ہم افسانہ سنایا کرتے ہیں۔
خدا بخش اورئیٹل لائبریری جدید ترین ٹکنالوجی سے مزین ہے۔اسکالر اور محققین کے لیے یہاں خاصی سہولت فراہم ہے۔ آج اس لائبریری میں اکیس ہزار سے زیادہ قلمی نسخوں کا قیمتی ذخیرہ موجود ہے۔ قرآن، قرآنی علوم، احادیث، روحانیت، عبادات، عیسائیت، طب، فلسفہ، عاشقانہ قصائص اور علم و ادب کی ایسی معیاری کتب موجود ہیں جو ہندستان میں دستیاب نہیں ہیں۔مختلف موضوعات اور اور علوم پر بیس لاکھ سے زائد کتابیں ہیں۔اس کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں رسائل و جرائد موجود ہیں۔
آزادی کے بعد 1969میں حکومت ہند نے خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری ایکٹ کے ذریعہ قومی کتب خانوں میں اسے شامل کرلیا۔اور اس طرح یہ حکومت ہند کی نگرانی میں اسے ایک قومی ادارے کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ یہاں سے ایک سہ ماہی کثیر لسانی تحقیقی جرنل بھی 1977سے شائع ہورہا ہے۔
خدا بخش خاں نے جو علمی ورثہ چھوڑا تھا ا س سے ایک دنیا فیض اٹھا رہی ہے۔ڈیجٹل عہد میں جبکہ دنیا ایک ایک گاؤں کی شکل میں تبدیک ہوچکی ہے لائبریری سے استفادہ کے لیے بھی بہت ساری آسانیاں فراہم ہوچکی ہیں۔گذشتہ ماہ اردو زبان و ادب کے نامور اسکالرپروفیسر محمد زاہد الحق نے لائبریی کے ڈائریکٹر کے طور پر ذمہ داری سنبھال لی ہے۔پھر سے امیدیں روشن ہوگئی ہیں۔یقین ہے کہ لائبریری اپنی تمام تر علمی و ادبی جمالیات کے ساتھ علم وادب کے شائقین کے لیے مرکز نگاہ بنی رہے گی اور یہی خدابخش خاں کی آرزو اور کوشش بھی تھی۔