ہندوستانی مسلم دانشوروں کو کیا سمجھنے کی ضرورت ہے؟

Story by  عاطر خان | Posted by  [email protected] | Date 24-09-2026
ہندوستانی مسلم دانشوروں کو کیا سمجھنے کی ضرورت ہے؟
ہندوستانی مسلم دانشوروں کو کیا سمجھنے کی ضرورت ہے؟

 



عاطر خان

حال ہی میں ایک نیوز ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ ہندوستانی مسلم برادری میں دانشوروں کی کمی ہے۔ مضمون کا بنیادی مشاہدہ یہ تھا کہ برادری اپنے ایک مضبوط فکری طبقے کو پروان چڑھانے میں ناکام رہی ہے اور قومی سطح پر اپنے مسائل اور خدشات بیان کرنے کے لیے کم از کم کسی حد تک ہندو یا بائیں بازو کے لبرل دانشوروں پر انحصار کرتی ہے۔اس دلیل پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تقریباً 20 کروڑ افراد پر مشتمل ایسی برادری جس کی شرح خواندگی تقریباً 79.5 فیصد ہے اس کے پاس مثالی طور پر ایسے مفکرین کی کہیں بڑی تعداد ہونی چاہیے جو اس کی صورت حال کا جائزہ لے سکیں۔ اس کے مفروضات پر سوال اٹھا سکیں اور طویل مدتی فکری سمت پیش کر سکیں۔لیکن مسئلہ شاید صرف یہ کہہ دینے سے زیادہ پیچیدہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں میں دانشور نہیں ہیں۔مسلم برادری نے بیوروکریٹس۔ دفاعی افسران۔ ماہرین تعلیم۔ ادیبوں۔ فنکاروں اور عوامی شخصیات کی ایک بڑی تعداد پیدا کی ہے جنہوں نے قومی زندگی میں مسلمانوں کے مسائل کی نمائندگی کی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف مکاتب فکر اور مذہبی و سماجی تنظیموں سے وابستہ مذہبی علما کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

اصل خلا کہیں اور ہے۔

سیاسی وکالت اور مذہبی علوم کے درمیان جو فکری میدان ہونا چاہیے وہ نسبتاً کم ترقی یافتہ ہے۔ ایسا میدان جہاں سماجی اصلاح۔ جدیدیت۔ تعلیم۔ ادارہ سازی۔ جمہوریت۔ شہریت اور معاصر اسلامی فکر جیسے سوالات کو ایک ساتھ زیر بحث لایا جا سکے۔اس لیے سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مسلمان دانشور کہاں ہیں۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہندوستانی مسلمان دانشوروں کو کن موضوعات پر غور کرنا چاہیے۔ یہ کہیں زیادہ اہم سوال ہے۔مسلمانوں سے متعلق زیادہ تر عوامی گفتگو سیاست اور تصادم کے گرد گھومتی ہے۔ اسد الدین اویسی جیسے سیاسی رہنماؤں نے مسلم سیاسی مفادات کے دفاع کو اپنی عوامی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ بنایا ہے۔جاوید اختر جیسے ادیب جو خود کو ملحد قرار دیتے ہیں اسلام۔ مذہب اور معاشرے سے متعلق سوالات کو ایک شدید تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ دونوں کو عوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی اس نوعیت کے مستقل فکری منصوبے کی نمائندگی نہیں کرتا جس کی آج ہندوستانی مسلم برادری کو ضرورت ہے۔

ریٹائرڈ بیوروکریٹس۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز دفاعی افسران۔ سیاست دان اور مذہبی علما بھی مختلف انداز میں مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ان آوازوں کو خاموش ہو جانا چاہیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ صرف وکالت کسی برادری کو تبدیل نہیں کر سکتی۔سیاسی نمائندگی اہم ہے۔ جائز حقوق کا دفاع اہم ہے۔ مذہبی اصلاح بھی اہم ہے۔ یہ تینوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک دانشور طبقے کو نہ صرف ریاست اور وسیع تر معاشرے سے مشکل سوالات کرنے کے قابل ہونا چاہیے بلکہ اپنی ہی برادری سے بھی سوال کرنے چاہئیں۔اسے یہ جائزہ لینے کے لیے تیار ہونا چاہیے کہ بعض مسائل کیوں برقرار ہیں۔ کون سے مفروضے انہیں برقرار رکھتے ہیں اور کون سی ادارہ جاتی تبدیلیاں ان مسائل کو حل کر سکتی ہیں۔ہندوستانی مسلم دانشوروں کے لیے اہم ترین سوالات میں سے ایک مذہبی فکر اور برادری کی سماجی و سیاسی بااختیاری کے درمیان تعلق کا ہے۔

ان دونوں کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔

مسلم دنیا میں اس بات پر سنجیدہ بحث جاری ہے کہ اسلامی فکر کو عصر حاضر کے حالات سے کس طرح ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ جن سوالات کو کبھی کھل کر زیر بحث لانا انتہائی حساس سمجھا جاتا تھا اب علما اور دانشور ان کا بڑھتی ہوئی سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے رہے ہیں۔ہندوستانی مسلم دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ برادری کو ان تبدیلیوں سے ہم آہنگ کریں اور اسے اس فکری تبدیلی کے لیے تیار کریں۔ان مباحث کے مرکز میں ایک بنیادی سوال ہے۔ مسلمان وحی سے اپنی وابستگی برقرار رکھتے ہوئے بدلتے ہوئے حالات۔ نئے علم اور جدید معاشروں کی حقیقتوں کا دانش مندانہ طور پر سامنا کیسے کر سکتے ہیں۔علم کلام یعنی اسلامی الٰہیات کی ازسرنو تشکیل اور فقہ اسلامی کی نئی صورت گری پر بھی دوبارہ گفتگو ہو رہی ہے۔ چیلنج لازماً روایت کو ترک کرنا نہیں ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ روایت کو نقل اور عقل دونوں کے ذریعے سمجھا اور پرکھا جائے۔معاصر مسلم دانشور کو ایسے سوالات کا سامنا کرنا ہوگا جن کا پچھلی نسلوں نے اسی شکل میں سامنا نہیں کیا تھا۔ مصنوعی ذہانت۔ حیاتیاتی ٹیکنالوجی۔ بدلتے ہوئے خاندانی ڈھانچے۔ صنفی تعلقات۔ آئینی جمہوریت۔ انفرادی حقوق۔ سیکولر شہریت اور سائنسی علم جیسے تمام موضوعات سنجیدہ فکری غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے فکری اصول اور ڈھانچے تشکیل دیے جائیں جن کے ذریعے اسلامی فکر ان حقیقتوں کا جواب دے سکے اور ساتھ ہی ان بنیادوں سے سمجھوتہ نہ کرے جنہیں اہل ایمان وحی کی بنیادی تعلیمات سمجھتے ہیں۔یہ ایمان کو جدیدیت سے بدلنے کی دلیل نہیں ہے۔ یہ ایمان اور جدیدیت دونوں کو سنجیدگی سے لینے کی دعوت ہے۔مسلم خواتین کا مقام بھی ایک ایسا میدان ہے جہاں سنجیدہ فکری غور و فکر کی ضرورت ہے۔مسلم معاشرے مختلف سماجی اور ثقافتی حالات میں تاریخی طور پر تشکیل پاتے رہے ہیں اور خواتین کے کردار سے متعلق تصورات بھی اکثر انہی حالات سے متاثر ہوئے ہیں۔ فقہی روایات میں شامل بعض تشریحات بھی ان تاریخی ادوار کے فکری اور سماجی ماحول کی عکاسی کرتی ہیں جن میں وہ تشکیل پائیں۔آج چیلنج یہ ہے کہ ایمان کے ان مستقل اصولوں اور ان تشریحات کے درمیان فرق کیا جائے جو خواتین کے حوالے سے مخصوص تاریخی حالات میں وجود میں آئیں۔ایمان کو ابدی سمجھا جا سکتا ہے لیکن خاندانوں اور معاشروں کو منظم کرنے والے قانونی اور سماجی انتظامات تاریخی طور پر تبدیل ہوتے رہے ہیں۔

اس فرق کو سمجھنے کے لیے نعروں کے بجائے علمی تحقیق کی ضرورت ہے۔ مقصد صرف قوانین کو تبدیل کرنا یا کسی دوسرے معاشرے کی نقل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد ایسا فکری ڈھانچہ تشکیل دینا ہونا چاہیے جس میں مسلمان خواتین اپنے ایمان سے جڑی رہتے ہوئے تعلیم۔ روزگار۔ عوامی زندگی اور قیادت میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔کوئی بھی برادری بااختیاری کی بات اس وقت تک معتبر طور پر نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنی نصف آبادی کو اپنی فکری اور ادارہ جاتی زندگی کے مرکز سے باہر رکھے۔

ہندوستان میں مسلم دانشوروں کی جدیدیت کے ساتھ فکری وابستگی کی ایک بھرپور تاریخ موجود ہے۔ سر سید احمد خان نے جدید تعلیم کی تبدیلی لانے والی اہمیت کو سمجھا اور اپنے دور کے فکری چیلنجز کے ساتھ اسلامی فکر میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ علامہ اقبال نے مسلم فکر کے جمود پر سوال اٹھایا اور مذہبی فکر کی تشکیل نو کی دعوت دی۔ سید امیر علی نے اسلامی تاریخ۔ قانون اور جدید سیاسی فکر کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے مذہبی علم۔ فکری وابستگی اور سیاسی قیادت کے ایک غیر معمولی امتزاج کی نمائندگی کی۔ان شخصیات میں مشترک بات یہ نہیں تھی کہ وہ ہر سوال پر ایک دوسرے سے متفق تھے۔ مشترک بات یہ تھی کہ انہوں نے اپنے دور کے فکری چیلنجز کا سنجیدگی سے سامنا کیا۔انہوں نے جدیدیت کو محض بیرونی تنقید کے خلاف مسلمانوں کے دفاع کے طور پر نہیں دیکھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو بدلتی ہوئی دنیا کا فکری طور پر سامنا کرنے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی۔اس روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

اختلاف دشمن نہیں ہے

مسلم علما اور فلسفیوں کے درمیان وحی اور عقل کے تعلق کے بارے میں ہمیشہ اختلاف رہا ہے۔ امام غزالی اور ابن تیمیہ جیسے مفکرین سے متعلق مباحث اس بات کی مثال ہیں کہ مسلم فکری تاریخ کبھی اختلاف سے خالی نہیں رہی۔ خود سر سید احمد خان کو بھی روایتی علما کے بعض حلقوں کی جانب سے شدید اختلاف کا سامنا کرنا پڑا۔اس لیے فکری اختلاف لازماً اسلام کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ یہ ہمیشہ سے مسلم فکری تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ اصل چیلنج ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں اختلاف سنجیدگی۔ احترام اور علم کی بنیاد پر ہو سکے۔معاصر مسلم فکر میں عمومی طور پر مختلف نقطہ ہائے نظر موجود ہیں۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ مسلمان روایتی مذہبی طریقوں سے دور ہو گئے ہیں اور تجدید کے لیے ان کی طرف واپسی ضروری ہے۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اسلامی فکر کو خود عصر حاضر کے حالات کے مطابق ازسرنو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔اہم سوال یہ نہیں ہے کہ مسلمان روایت اور جدیدیت میں سے کسی ایک کا اندھا انتخاب کریں۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسا فکری ڈھانچہ تشکیل دے سکتے ہیں جس میں وحی۔ عقل اور معاصر علم ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ کریں۔ اسلام کی فکری تجدید کا مطلب اس کی بنیادی اقدار کو ترک کرنا نہیں ہونا چاہیے۔بدقسمتی سے سیاست بتدریج اسلام کا مرکزی موضوع بن گئی ہے جبکہ اس کے اصل مقصد پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے یہ ایک اور چیلنج پیدا کرتا ہے۔ایک اقلیتی برادری کی حیثیت سے ان کا مستقبل لازماً اس وسیع تر معاشرے سے جڑا ہوا ہے جس میں وہ رہتے ہیں۔ اس کے لیے صرف اپنے حقوق کا دفاع کافی نہیں بلکہ دوسری برادریوں کے خدشات۔ حساسیتوں اور تصورات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔کوئی برادری ہمیشہ اپنے اردگرد کے ماحول کے ساتھ تصادم کی کیفیت میں نہیں رہ سکتی اور یہ توقع نہیں کر سکتی کہ صرف تصادم اسے ترقی کی طرف لے جائے گا۔

مفاہمت کا مطلب اپنے عقائد سے دستبردار ہونا نہیں ہے۔ اس کا مطلب اختلاف کے ساتھ اس اعتماد کے ساتھ مکالمہ کرنا ہے کہ ہر اختلاف کو تصادم نہ سمجھا جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہندوستانی مسلم دانشوروں کی سب سے بڑی ذمہ داری سامنے آتی ہے۔ انہیں قلیل مدتی سیاسی مفادات سے آگے بڑھ کر ادارہ سازی کے محرک بننا ہوگا۔بدقسمتی سے ہندوستان میں جو لوگ تقسیم شدہ اور متصادم جذبات کو سب سے زیادہ شدت سے مخاطب کرتے ہیں انہیں اکثر سب سے آسانی سے مسلم دانشور کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔ دانشورانہ قیادت کی یہ تعریف بہت محدود ہے۔ اکیسویں صدی کا مسلم دانشور نہ تو ہمیشہ برادری کا دفاع کرنے والا ہونا چاہیے اور نہ ہی ہمیشہ اس کا ناقد۔چاہے وہ جدیدیت پسند روایت سے تعلق رکھتا ہو یا علما کے طبقے سے۔ ایسے دانشور کو تجدید کا محرک ہونا چاہیے۔ضرورت ایک نئی فکری ہم آہنگی کی ہے۔ ایسی فکر جو ایمان میں جڑی ہوئی ہو لیکن عقل کے لیے کھلی ہو۔ جو تاریخ سے باخبر ہو لیکن حال کے تقاضوں کا جواب دے۔ جو مذہبی شناخت سے وابستہ ہو لیکن آئینی شہریت کے لیے بھی اتنی ہی پرعزم ہو۔

اس لیے بحث کو اس سوال سے آگے بڑھنا چاہیے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے پاس کافی دانشور ہیں یا نہیں۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا برادری اکیسویں صدی کے لیے درکار نوعیت کی فکری قیادت پیدا کر رہی ہے۔ہندوستانی مسلم دانشوروں کو فوری ردعمل اور موجودہ سیاسی لمحے سے آگے بڑھ کر سوچنا ہوگا۔

مصنف آواز دی وائس کے ایڈیٹر ان چیف ہیں۔