سجاد ظہیر: انجمن ترقی پسند مصنفین کی تحریک کے معمار

Story by  ثاقب سلیم | Posted by  [email protected] | Date 08-11-2026
سجاد ظہیر: انجمن ترقی پسند مصنفین کی تحریک کے معمار
سجاد ظہیر: انجمن ترقی پسند مصنفین کی تحریک کے معمار

 



ثاقب سلیم

یکم فروری 1933 کو لکھنؤ سے شائع ہونے والے اردو اخبار ’سرفراز‘ نے ایک افسانوی مجموعے پر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس مجموعے میں شامل ایک نظم کے ابتدائی اشعار کچھ یوں تھے: ’’اے وہ لوگو جو قبر میں پیغمبر کی روح کو اذیت دیتے ہو، ’انگارے‘ نے شریعت کی دنیا میں آگ لگا دی ہے۔‘‘

آخر یہ ’انگارے‘ کیا تھا؟ یہ چار ادیبوں کے دس اردو افسانوں کا مجموعہ تھا۔ اس کی پانچ کہانیاں سر وزیر حسن کے صاحبزادے سجاد ظہیر نے لکھی تھیں۔ بعد ازاں اس کتاب پر حکومت نے پابندی عائد کردی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قدامت پسند مسلمانوں کے ایک طبقے نے اس کے مصنفین سجاد ظہیر، محمود الظفر، رشید جہاں اور احمد علی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ان کے خون کا مطالبہ تک کردیا تھا۔

اسی کتاب سے آگے چل کر انجمن ترقی پسند مصنفین کی تحریک نے جنم لیا۔ سجاد ظہیر نے ادیبوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا تاکہ آزادی، غریبوں اور عورتوں کے مسائل کو موضوع بنانے والا ادب تخلیق کیا جاسکے۔

’انگارے‘ دراصل سجاد ظہیر کا منصوبہ تھا۔ ساجد رشید لکھتے ہیں کہ انہوں نے 1932 کے اوائل میں لندن میں اس کتاب کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ وہاں وہ پہلے ہی ایک کمیونسٹ حلقہ قائم کرچکے تھے۔ ہندوستان واپسی پر انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی کے استاد احمد علی کے ساتھ مل کر اس منصوبے کو عملی شکل دی۔ کتاب کی اشاعت کے تین ماہ بعد دسمبر 1932 میں برطانوی حکومت نے مسلم قدامت پسندوں کے شدید دباؤ کے تحت اس کی تمام دستیاب جلدیں ضبط کرلیں اور ناشر کے پاس موجود غیر مجلد نسخوں کو بھی نذر آتش کردیا۔

قدامت پسند مسلم معاشرے نے اس کتاب کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ مولانا عبد الماجد دریابادی نے اپنے ہفت روزہ ’سچ‘ کے سات شمارے اس کتاب پر تنقید کے لیے مختص کیے اور اسے اخلاقی اعتبار سے ’’انتہائی گندا اور قابل نفرت‘‘ قرار دیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کتاب میں مذہب پر تنقید صرف چند مقامات پر کی گئی ہے۔

اس کے برعکس مرتضیٰ کریم کا موقف مختلف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انگارے‘ کے مصنفین مذہب کے مخالف نہیں تھے بلکہ مذہب کے نام پر پھیلائی جانے والی گمراہیوں کے خلاف تھے۔ خود سجاد ظہیر نے بھی اعتراف کیا کہ ان کہانیوں میں سے بیشتر میں سنجیدگی اور ٹھہراؤ کم تھا جبکہ سماجی رجعت پسندی اور فرسودہ خیالات کے خلاف غصے اور اضطراب کا اظہار زیادہ تھا۔

’انگارے‘ سے انجمن ترقی پسند مصنفین تک کا سفر

کتاب پر پابندی نے ہم خیال ادیبوں کی ایک انجمن قائم کرنے کے تصور کو جنم دیا۔ محمود الظفر نے اس سلسلے میں ایک مضمون لکھا جسے کئی اخبارات نے شائع کیا۔ اس مضمون کا عنوان تھا ’’کیا ہم زبان بندی کے سامنے سر جھکا دیں؟‘‘ انہوں نے ادیبوں سے اپیل کی کہ وہ مایوس نہ ہوں اور ایک انجمن ترقی پسند مصنفین تشکیل دیں۔

اس طرح ’انگارے‘ انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد کا پتھر ثابت ہوئی۔ کتاب کے خلاف ہونے والی مخالفت نے غیر رسمی طور پر اس تحریک کی بنیاد رکھنے کا کام کیا۔

جولائی 1935 میں سجاد ظہیر نے پیرس میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس برائے دفاعِ ثقافت میں مبصر کی حیثیت سے شرکت کی۔ وہاں انہیں میکسم گورکی، رومن رولان اور آندرے مالرو جیسے ادیبوں کے خیالات سے تحریک ملی۔ بعد ازاں لندن میں انہوں نے ملراج آنند کے ساتھ مل کر انجمن ترقی پسند مصنفین کا منشور تیار کیا۔

اس خیال کو عملی شکل دینے کے لیے انہوں نے ہندوستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور ادیبوں سے ملاقات کرکے انہیں اس تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ بالآخر اپریل 1936 میں لکھنؤ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی پہلی کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت منشی پریم چند نے کی۔

اس وقت بعض لوگوں نے سوال اٹھایا کہ جب حالی، شبلی اور اقبال جیسے ترقی پسند خیالات کے حامل ادیب پہلے سے موجود ہیں تو ایک نئی انجمن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس پر سجاد ظہیر نے جواب دیا کہ جب دنیا کی تخلیق سے لے کر آج تک پھول کھلتے آرہے ہیں تو پھر ایک نئے باغ لگانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟

2005 میں سجاد ظہیر کی صد سالہ پیدائش کے موقع پر منعقدہ ساہتیہ اکادمی کے ایک سیمینار میں سابق وزیر اعظم اندر کمار گجرال نے کہا تھا کہ اس تحریک کا آغاز ’’بنے بھائی‘‘ نے کیا تھا۔ بنے بھائی سجاد ظہیر کا عرفی نام تھا۔

آزادی، جمہوریت اور قوم پرستی کا پیغام

سجاد ظہیر کے قوم پرستانہ نظریات انجمن ترقی پسند مصنفین کے منشور میں واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس انجمن کا بنیادی مقصد آزادی اور جمہوریت سے محبت کو فروغ دینا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ کوئی ادیب اپنے وطن کی آزادی اور جمہوریت کا مخالف ہوتے ہوئے بیک وقت ترقی پسند نہیں ہوسکتا۔

برطانوی سامراج کے خلاف ان کا موقف بھی بالکل واضح تھا۔ پیرس کی کانفرنس میں شریک ادیبوں کے ان نمائندوں میں سجاد ظہیر بھی شامل تھے جنہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جہاں کہیں فسطائیت یا سامراجی طاقتیں ادیبوں کی آزادی محدود کریں وہاں بھرپور احتجاج ہونا چاہیے۔ ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ ادیب عوام کی آزادی کے لیے متحدہ محاذ کا حصہ بن کر اپنے حقوق کا بہتر دفاع کرسکتے ہیں۔

سال 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں جب امیر گھرانوں کے نوجوان سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لیے انگلستان کا رخ کرتے تھے تو سجاد ظہیر کی سوچ اس کے برعکس تھی۔ ان کا مقصد عوام سے دور ہونا نہیں بلکہ ان کے قریب جانا تھا۔ یہ اس دور میں ایک نئی اور غیر معمولی بات تھی۔

لندن سے واپسی پر جب سجاد ظہیر نے ممبئی میں برطانوی سامراج کی یادگار گیٹ وے آف انڈیا کو دیکھا تو اسے شہر کے خوبصورت ساحل پر رکھا ہوا ایک بے جان اور اجنبی بوجھ قرار دیا۔ ان کے نزدیک یہ عمارت ہندوستان پر برطانوی اقتدار کی علامت تھی۔1947 میں آزادی کے بعد جب ملک تقسیم ہوا تو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے سجاد ظہیر کو پاکستان میں کمیونسٹ تحریک منظم کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ وہ وہاں سات سال رہے جن میں سے چار سال جیل میں گزارے۔1955 میں جب وہ ہندوستان واپس آئے تو پنڈت جواہر لعل نہرو کی ذاتی کوششوں سے انہیں ہندوستانی شہریت ملی۔ آزادی کی جدوجہد کے دوران دونوں نے آنند بھون میں ایک ساتھ کام کیا تھا۔

1970 میں سجاد ظہیر نے فرقہ واریت کے خلاف ایک مضبوط نظریاتی اور نفسیاتی مہم چلانے کے لیے شاعروں، ادیبوں، فنکاروں اور فلمی دنیا سے وابستہ لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا منصوبہ بنایا۔ 1972 میں انہوں نے لکھا کہ امن کی دولت سب سے بڑی دولت ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے صوفیوں، درویشوں اور بزرگوں نے بھی دریافت کیا تھا اور جو ہندوستانیوں کی سب سے بڑی دریافتوں میں سے ایک ہے۔

عورتوں کے حقوق اور سماجی ناانصافی کے خلاف آواز

سجاد ظہیر اس دور میں عورتوں کے حقوق کے علمبردار تھے جب نسائی حقوق کی اصطلاح بھی زیادہ مقبول نہیں ہوئی تھی۔ ’انگارے‘ کے خلاف قدامت پسندوں کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ اس کی بے باکی کے ساتھ عورت کی پامال شدہ شبیہ کو بدلنے کی کوشش بھی تھی۔اس مجموعے میں مظلوم عورتوں کو ایسے کرداروں کے طور پر پیش کیا گیا تھا جن کے اندر بغاوت کی چنگاری موجود تھی۔ ان کہانیوں نے اس تصور کو مسترد کیا کہ عورت کو مرد کی ایسی بے زبان شریک حیات بن کر رہنا چاہیے جس کی اپنی کوئی خواہش یا رائے نہ ہو۔ اس اعتبار سے یہ کہانیاں عصمت چغتائی کی بے باک نسائی تحریروں کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئیں۔

ان چار مصنفین میں واحد خاتون رشید جہاں تھیں۔ وہ شیخ عبداللہ کی صاحبزادی تھیں جنہوں نے 1904 میں خواتین کا رسالہ ’خاتون‘ جاری کیا تھا اور 1906 میں لڑکیوں کے لیے ایک اسکول قائم کیا تھا جو بعد میں علی گڑھ گرلز کالج کی شکل اختیار کرگیا۔

سجاد ظہیر کے اپنے افسانے ’دلار ی‘ میں امیروں کے ہاتھوں غریبوں کے استحصال کو موضوع بنایا گیا تھا جس میں جنسی استحصال کا پہلو بھی نمایاں تھا۔ اس دور کے رومانوی ادیب عورت کو نازک صنف قرار دیتے ہوئے اس کی جوانی اور خوبصورتی کے گیت گاتے تھے۔ اس کے برعکس سجاد ظہیر نے اپنی کہانی میں ایک غریب اور کم علم ہندوستانی عورت کے ردعمل اور احساسات کو پیش کیا۔ اردو افسانے میں اس وقت تک اس نوعیت کا موضوع کم ہی دیکھنے کو ملتا تھا۔

ان کا ایک اور افسانہ ’جنت کی بشارت‘ بھی سماجی منافقت پر گہرا طنز تھا۔ اس میں ایک ایسا مولوی دکھایا گیا ہے جو بظاہر انتہائی دیندار ہے لیکن اپنی پہلی بیوی اور آٹھ بچوں کو نظر انداز کرکے اپنی آدھی عمر کی ایک لڑکی سے شادی کرلیتا ہے۔

ترقی پسند تحریک کی تاریخی اہمیت

بعد کے برسوں میں سجاد ظہیر نے رشید احمد صدیقی کا ایک بیان نقل کیا جو کبھی اس تحریک کے سخت ناقدین میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے 1951 میں کہا تھا کہ تقسیم کے بعد پیدا ہونے والے تباہ کن حالات اور رجعت پسندانہ نظریات کے خلاف ترقی پسند ادیبوں نے قلم کے ذریعے جو جہاد کیا ہے اسے صرف اردو ادب ہی نہیں بلکہ ملک کی تاریخ میں بھی قدر و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔

اسی سیمینار میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر مشیر الحسن نے اس بات کی نشان دہی کی کہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں کی درسی کتابوں میں اس تحریک کا ذکر موجود نہیں ہے حالانکہ آزادی کی جدوجہد پر اس کے اثرات گہرے اور براہ راست تھے۔انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ این سی ای آر ٹی کی نئی درسی کتابوں میں کم از کم ایک یا دو پیراگراف اس تحریک کے لیے مختص کیے جائیں اور اس کے معمار سجاد ظہیر کا نام بھی نمایاں طور پر شامل کیا جائے۔