ثاقب سلیم
26 جنوری 1950 کو جب ہندوستان ایک جمہوریہ بنا تو دنیا کے سامنے یہ سوال تھا کہ کیا اتنی بڑی آبادی اور انتہائی کم شرحِ خواندگی والا ملک کامیابی کے ساتھ انتخابات کرا سکتا ہے؟ لیکن الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) نے 1952 سے مسلسل کامیاب انتخابات منعقد کر کے ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بنائے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔الیکشن کمیشن آف انڈیا کا قیام آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت 25 جنوری 1950 کو عمل میں آیا۔ آئی سی ایس افسر سکمار سین نے 21 مارچ 1950 کو ہندوستان کے پہلے چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا۔ان کے سامنے ایک غیر معمولی چیلنج تھا۔ اس وقت ہندوستان کی آبادی تقریباً 36.5 کروڑ تھی، شرحِ خواندگی صرف 16.6 فیصد تھی، جبکہ تقریباً 17.2 کروڑ افراد ووٹ دینے کے اہل تھے۔ انسانی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی آبادی نے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا تھا۔
ایک سال سے بھی کم عرصے میں الیکشن کمیشن نے انتخابی حلقے تشکیل دیے، انتخابی فہرستیں تیار کیں، سرکاری اہلکاروں کو تربیت دی اور کروڑوں پہلی مرتبہ ووٹ دینے والے شہریوں کو پہلے عام انتخابات 1951-52 میں حصہ لینے کے لیے تیار کیا۔سکمار سین نے ثابت کیا کہ بالغ رائے دہی کے حق کی کامیابی کا انحصار صرف خواندگی پر نہیں ہوتا۔ عام ہندوستانی شہری میں اتنی سیاسی سمجھ بوجھ موجود تھی کہ اگر انتخابی نظام سادہ اور غیر جانب دار ہو تو وہ اپنے لیے مناسب انتخاب کر سکتا ہے۔ سین نے 1952 اور 1957 کے پہلے دو عام انتخابات منعقد کرائے۔
سکمار سین کی شہرت ہندوستان کی سرحدوں سے بھی باہر پہنچی۔ 1953 میں انہیں سوڈان کے پہلے پارلیمانی انتخابات کے لیے سوڈان الیکشن کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ اس طرح سین کی قیادت میں ہندوستان کا الیکشن کمیشن اس بات کی بین الاقوامی مثال بن گیا کہ ایک نیا آزاد اور نسبتاً کم ترقی یافتہ ملک کس طرح مؤثر انداز میں جمہوری انتخابات کا انتظام کر سکتا ہے۔
سکمار سین کے بعد الیکشن کمیشن ہندوستان کے آئینی نظام کا مستقل حصہ تو رہا، لیکن اسے وہ غیر معمولی عوامی توجہ حاصل نہیں ہوئی جو بعد کے دور میں اس کے حصے میں آئی۔ابتدائی طور پر الیکشن کمیشن ایک واحد رکنی ادارہ تھا۔ تاہم، جیسے جیسے ووٹرز کی تعداد اور سیاسی مقابلہ بڑھتا گیا، اس کی ذمہ داریاں بھی وسیع ہوتی گئیں۔1960 اور 1970 کی دہائیوں میں ایک جماعت کی بالادستی کمزور ہونے لگی اور علاقائی سیاسی قوتیں ابھرنے لگیں۔ 1970 کی دہائی کی سیاسی ہلچل اور 1977 میں کانگریس کی شکست نے یہ ثابت کر دیا کہ انتخابات کسی ملک کی سیاست کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (Model Code of Conduct) کی ابتدا 1960 میں کیرالہ میں ایک غیر رسمی ضابطے کے طور پر ہوئی تھی، لیکن سیاسی مقابلہ بڑھنے کے ساتھ اس کی اہمیت بھی بڑھتی گئی۔ بعد میں 1988 میں ووٹ دینے کی عمر 21 سال سے کم کر کے 18 سال کر دی گئی، جس کے نتیجے میں ووٹرز کی تعداد مزید بڑھ گئی۔
ٹی این سیشن اور الیکشن کمیشن کی فیصلہ کن تبدیلی
الیکشن کمیشن کے عوامی تصور میں سب سے بڑی تبدیلی ٹی این سیشن(T.N. Seshan) کے دور میں آئی۔سیشن نے 12 دسمبر 1990 کو چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ سنبھالا اور 11 دسمبر 1996 تک اس عہدے پر رہے۔ انہوں نے کئی دہائیوں سے موجود ایک آئینی عہدے کے اختیارات کو استعمال کرنے کے انداز کو ہی تبدیل کر دیا۔سیشن نے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کو محض اخلاقی یا رسمی تجاویز کے بجائے انتخابی انتظامیہ کے ایک عملی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے سرکاری مشینری کے غلط استعمال، انتخابی اخراجات کی حد سے تجاوز، غیر قانونی تشہیر، بوتھ کیپچرنگ اور انتخابات سے وابستہ دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف سخت کارروائی کی۔
انتخابی مبصرین(Election Observers) کا کردار بھی بتدریج اہم ہوتا گیا اور 1996 میں عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 20B کے ذریعے انہیں قانونی بنیاد فراہم کی گئی۔ووٹرز کے لیےElectors’ Photo Identity Cards متعارف کرانے اور ان کے دائرۂ کار کو وسیع کرنے کا عمل بھی سیشن کے دور سے وابستہ ہے۔ بنیادی تصور یہ تھا کہ ریاست کو معلوم ہو کہ ووٹ کون ڈال رہا ہے اور ووٹر کو فرضی شناخت کے ذریعے ووٹ ڈالنے سے تحفظ حاصل ہو۔انتخابی اخراجات کی حد، ووٹرز کی شناخت، مرکزی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی اور انتخابی قوانین کی سختی سے پابندی پر سیشن کے اصرار نے الیکشن کمیشن کو اس انداز میں نمایاں کر دیا جس کی اس سے پہلے مثال نہیں ملتی تھی۔
لیکن شاید سیشن کی سب سے بڑی میراث نفسیاتی تھی۔
سیشن سے پہلے سیاسی جماعتیں اکثر اس ادارے سے بڑی دکھائی دیتی تھیں جو انتخابات کی نگرانی کرتا تھا۔ سیشن کے بعد الیکشن کمیشن خود ایک ایسی سیاسی و آئینی طاقت کے طور پر سامنے آیا جو سیاسی جماعتوں کو اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی پر مجبور کر سکتا تھا۔
کیا سیشن نے الیکشن کمیشن کو طاقتور بنایا یا سیاسی حالات نے انہیں موقع دیا؟
یہ سوال زیادہ اہم ہے کہ کیا واقعی ٹی این سیشن نے ہندوستانی انتخابات کو تبدیل کیا، یا پھر 1990 کی دہائی میں حکومتوں کی سیاسی کمزوری نے سیشن کو الیکشن کمیشن کے اختیارات غیر معمولی طور پر استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا؟سیشن نے دسمبر 1990 میں ایسے وقت میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ سنبھالا جب مرکز میں ایک جماعت کی بالادستی کا دور ختم ہو رہا تھا اور اقلیتی و مخلوط حکومتوں کا زمانہ شروع ہو چکا تھا۔
وی پی سنگھ، چندر شیکھر اور 1991 کے انتخابات کے بعد پی وی نرسمہا راؤ کی حکومتیں اتحادی جماعتوں پر انحصار کرتی تھیں۔ سیاسی نظام زیادہ منتشر ہو رہا تھا اور علاقائی جماعتیں اہم کردار ادا کرنے لگی تھیں۔امیت آہوجا اور سوزن اوسٹرمن نے اس تعلق کی شاید سب سے واضح تشریح پیش کی ہے۔ ان کے مطابق ایک جماعت کی بالادستی کا خاتمہ الیکشن کمیشن کے طاقتور ادارے کے طور پر ابھرنے کے لیے "ضروری، لیکن کافی نہیں" شرط تھا۔
مخلوط حکومتوں نے انتظامی اختیارات کو اتحادی جماعتوں میں تقسیم کر دیا اور متعدد سیاسی فریق فیصلہ سازی میں رکاوٹ یا Veto Players بن گئے۔ اس کے نتیجے میں کمزور حکومتوں کے لیے الیکشن کمیشن کی خودمختاری کو محدود کرنا مشکل ہو گیا۔
چھوٹی اور علاقائی جماعتیں، جو ریاستی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ پر اعتماد نہیں کرتی تھیں، الیکشن کمیشن کو ایک غیر جانب دار ثالث کے طور پر دیکھنے لگیں۔تاہم، اس سے سیشن کی کامیابیوں کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ بلکہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ان کی شخصیت اتنی اہم کیوں ثابت ہوئی۔آئین نے الیکشن کمیشن کو پہلے ہی وسیع اختیارات دے رکھے تھے، لیکن سیشن وہ چیف الیکشن کمشنر تھے جنہوں نے ان اختیارات کی حدود کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔
ڈیوڈ گلمارٹن نے ان کی کوشش کو روزمرہ کی سیاست سے بالاتر ایک "انتخابی اخلاقیات (Electoral Morality)" قائم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
یہ ایک تاریخی اتفاق تھا کہ جس وقت حکومتیں کمزور ہو رہی تھیں، اسی وقت الیکشن کمیشن مضبوط ہو رہا تھا۔ ایک طاقتور مرکزی اکثریتی حکومت شاید سیشن جیسے جارحانہ انداز رکھنے والے چیف الیکشن کمشنر کی مزاحمت کرنے کی زیادہ سیاسی صلاحیت رکھتی۔ لیکن مخلوط حکومتوں کے پاس ایسے راستے نسبتاً کم تھے۔سیشن نے مخلوط حکومتوں کا دور پیدا نہیں کیا۔ بلکہ مخلوط حکومتوں کے دور نے وہ سیاسی گنجائش پیدا کی جس میں سیشن اپنے اختیارات کا غیر معمولی استعمال کر سکے۔ ان کی شخصیت نے اس موقع کو ایک ایسی ادارہ جاتی تبدیلی میں بدل دیا جس کے اثرات ان کی ریٹائرمنٹ کے کئی برس بعد تک برقرار رہے۔
ٹیکنالوجی کا انقلاب: بیلٹ پیپر سے EVM تک
الیکشن کمیشن کی اگلی بڑی تبدیلی ٹیکنالوجی کے میدان میں آئی۔الیکٹرانک ووٹنگ مشین(EVM) کا پہلی مرتبہ تجرباتی استعمال 1982 میں ہوا اور 2004 کے عام انتخابات میں تمام 543 لوک سبھا حلقوں میںEVM کا استعمال کیا گیا۔اس کے بعد ووٹنگ کے عمل میں مزید شفافیت کے لیےVVPAT (Voter Verifiable Paper Audit Trail) ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی، جس کے ذریعے ووٹر کے ووٹ کا ایک اضافی کاغذی ریکارڈ بھی دستیاب ہوتا ہے۔2024 میں سپریم کورٹ نے 100 فیصدVVPAT تصدیق کے مطالبے کو مسترد کر دیا، تاہم موجودہ حفاظتی اقدامات کو برقرار رکھا۔
عدالتوں کا بڑھتا ہوا کردار
عدالتوں نے بھی انتخابی انتظامیہ کی تشکیل میں تیزی سے اہم کردار ادا کیا ہے۔2023 میں Anoop Baranwal v. Union of India مقدمے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جب تک پارلیمنٹ آئین کے آرٹیکل 324(2) کے تحت کوئی قانون نہیں بناتی، چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری ایسی کمیٹی کی سفارش پر ہونی چاہیے جس میں وزیراعظم، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور چیف جسٹس آف انڈیا شامل ہوں۔
اس کے بعد پارلیمنٹ نے 2023 کا قانون منظور کیا۔ اس قانون کے تحت تقرری کرنے والی کمیٹی میں چیف جسٹس آف انڈیا کی جگہ وزیراعظم کی جانب سے نامزد مرکزی کابینہ کے ایک وزیر کو شامل کیا گیا، جبکہ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کمیٹی کے دیگر ارکان ہیں۔اس قانون میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کے لیے چھ سال یا 65 سال کی عمر، جو پہلے ہو، کی مدت مقرر کی گئی ہے۔23 ستمبر 2026 کو سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے 2023 کے تقرری کے قانون کو چیلنج کرنے والی درخواست پر مختلف آرا پیش کیں اور معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھنے کی ہدایت کی تاکہ بڑی آئینی بنچ کی تشکیل پر غور کیا جا سکے۔
چنانچہ اکتوبر 2026 تک یہ قانون نافذ العمل ہے، لیکن الیکشن کمیشن کی تقرری کے عمل کی آئینی آزادی سے متعلق بحث ابھی حل طلب ہے۔Election Laws (Amendment) Act, 2021 نے بھی کئی اہم تبدیلیاں کیں۔ ان میں ووٹر کے طور پر رجسٹریشن کے لیے سال میں چار کوالیفائنگ تاریخوں کی فراہمی اور انتخابی فہرستوں میں درج معلومات کی آدھار کے ذریعے تصدیق کے لیے قانونی فریم ورک شامل ہے۔سکمار سین سے ٹی این سیشن تک، اور بیلٹ پیپر سے EVM تک، الیکشن کمیشن آف انڈیا کی تاریخ دراصل ایک ایسے ادارے کی تاریخ ہے جو بدلتی ہوئی جمہوریہ، بدلتی ہوئی سیاست اور بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو مسلسل ڈھالتا رہا ہے۔