سی وی رمن: جنہوں نے ہندوستانی نوجوانوں کو سائنسی خود اعتمادی کا راستہ دکھایا

Story by  ثاقب سلیم | Posted by  [email protected] | Date 07-11-2026
سی وی رمن چاہتے تھے کہ ہندوستانی نوجوان بلند نگاہی، غوروفکر اور خود انحصاری کا راستہ اختیار کریں
سی وی رمن چاہتے تھے کہ ہندوستانی نوجوان بلند نگاہی، غوروفکر اور خود انحصاری کا راستہ اختیار کریں

 



ثاقب سلیم

’’آپ سائنس اسی وقت سیکھ سکتے ہیں جب اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں اور اپنے اردگرد کی دنیا کا مشاہدہ کریں۔‘‘ یہ الفاظ ہندوستان کے عظیم سائنس داں سی وی رمن نے 22 دسمبر 1968 کو احمد آباد میں کمیونٹی سائنس سینٹر کی سنگ بنیاد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہے تھے۔

اس موقع پر انہوں نے سائنس کے موضوع کے طور پر ایک ایسا سوال منتخب کیا جو تقریباً ہر بچہ کبھی نہ کبھی ضرور پوچھتا ہے: آسمان نیلا کیوں دکھائی دیتا ہے؟ یہ ایسا سوال تھا جس کا مشاہدہ کرنے کے لیے کسی تجربہ گاہ کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کا سادہ سا مشورہ تھا: ’’بس اوپر آسمان کی طرف دیکھیے۔‘‘

تاہم، ان کا خطاب محض آسمان کے نیلے رنگ کے بارے میں نہیں تھا۔ خود رمن نے واضح کیا تھا: ’’میرے خطاب کا موضوع آسمان کا نیلا رنگ نہیں، بلکہ سائنس کی روح ہے۔ سائنس کیا ہے؟ ہمارا ملک سائنس کے میدان میں کس طرح ترقی کرسکتا ہے؟ اور ہم کس طرح خود کو اپنے عظیم اسلاف کے شایانِ شان بنا سکتے ہیں؟‘‘

سی وی رمن کی تقاریر اور خیالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہندوستانی سائنس اور نوجوان نسل کو کس سمت میں آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کا پیغام خود اعتمادی، خود انحصاری، آزادانہ غوروفکر اور علم کی تلاش کے جذبے پر مبنی تھا۔

ہندوستان کو خود انحصار دیکھنا چاہتے تھے رمن

سی وی رمن کے بنیادی نظریات میں سے ایک ہندوستان کی خود انحصاری تھا۔ ان کے خیال میں ہندوستانیوں کے اندر ایک گہرا احساسِ کمتری پیدا ہوگیا تھا، جس کے باعث وہ بیرونِ ملک سے آنے والی ہر بات کو درست تسلیم کرلیتے اور اس پر سوال اٹھانے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔

انہوں نے ایک خطاب میں کہا تھا کہ ہمارے اندر ایک ایسی گہری اور ناقابلِ فراموش خامی پیدا کردی گئی ہے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والی چیزوں پر سوال اٹھانے کی ہمیں جرأت نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ قرض لینا اپنی جگہ ایک بری بات ہوسکتی ہے، لیکن علم ادھار لینے کا کیا مطلب ہے؟ بیرونِ ملک سے ماہرین درآمد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آنی چاہیے؟ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ضروری ہے۔ ان کے بقول، اپنے محدود اور کم صلاحیت والے آلات کے ساتھ کام کرنا بھی اس بات سے بہتر ہے کہ ہم دوسروں کے سہارے اپنی کامیابی کا اظہار کریں۔

1966 میں آئی آئی ٹی مدراس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کا کوئی مستقبل نہیں ہوسکتا، جب تک وہ اپنی تمام ضروریات کے لیے سب سے پہلے، دوسرے اور آخری مرحلے تک خود پر انحصار کرنا نہیں سیکھتا۔

عملی زندگی میں بھی خود انحصاری کے قائل تھے

رمن نے خود انحصاری کے اس نظریے پر صرف تقریروں میں زور نہیں دیا، بلکہ اپنی عملی زندگی میں بھی اس پر عمل کیا۔

1917 میں کلکتہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سر آشوتوش مکھرجی نے انہیں پروفیسر کے عہدے کی پیش کش کی تھی۔ اس عہدے کے لیے بیرونِ ملک سے تربیت حاصل کرنے کی شرط رکھی گئی تھی، لیکن رمن نے یہ شرط قبول کرنے سے انکار کردیا۔ بالآخر یونیورسٹی کو اس شرط میں ترمیم کرنا پڑی۔

1928 میں انہوں نے اپنے تیار کردہ ایک سادہ آلے کی مدد سے ’’رمن ایفیکٹ‘‘ دریافت کیا۔ اس آلے کی تیاری پر محض 200 روپے خرچ ہوئے تھے۔ یہ دریافت سائنسی دنیا میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔

1930 میں جب سی وی رمن نے سائنس کا نوبیل انعام حاصل کیا تو وہ ایشیا کے پہلے سائنس داں بنے جنہیں اس اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ اس موقع پر نوبیل انعام یافتہ سائنس داں سی جے ڈیوسن نے لکھا کہ رمن نے اپنی پوری رسمی تعلیم ہندوستان میں حاصل کی تھی اور ایک سال کے استثنا کے ساتھ انہوں نے اپنی سائنسی خدمات بھی اپنے ہی ملک میں انجام دیں۔

مغرب سے سیکھنے کے مخالف نہیں تھے

سی وی رمن خود انحصاری کے حامی ضرور تھے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ یورپ یا امریکہ سے کچھ سیکھنے کے خلاف تھے۔

1931 میں کلکتہ کے ٹاؤن ہال میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ یورپ یا امریکہ سے سیکھنے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ ہم جو کچھ کرسکتے ہیں، اسے اپنی ہی سرزمین پر انجام دینا سیکھیں۔

ان کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان دوسرے ممالک کے تجربات سے فائدہ ضرور اٹھائے، لیکن اپنی علمی اور سائنسی ترقی کے لیے دوسروں کا محتاج نہ رہے۔

ہندوستانی سائنسی اداروں اور جرائد کی سرپرستی

رمن کا ماننا تھا کہ ہندوستانی سائنس کی ترقی کے لیے ملک میں اپنے سائنسی اداروں اور تحقیقی جرائد کا قیام ضروری ہے۔

سرکاری محکمے میں اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے ملازمت کے دوران انہوں نے مہندر لال سرکار کے قائم کردہ ’’انڈین ایسوسی ایشن فار دی کلٹیویشن آف سائنس‘‘ کو دوبارہ فعال بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ادارہ 1876 میں قائم کیا گیا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کی سرگرمیاں تقریباً ختم ہوگئی تھیں۔

رمن نے انڈین اکیڈمی آف سائنسز کے تحقیقی جریدے ’’پروسیڈنگز آف دی انڈین اکیڈمی آف سائنسز‘‘ سمیت کئی دیگر علمی جرائد کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے خود بھی اپنی تحقیق کے نتائج ان ہندوستانی جرائد میں شائع کیے اور اپنے شاگردوں کو بھی اسی کی ترغیب دی۔

ان کا خیال تھا کہ ہندوستانی سائنس دانوں کو اپنے ملک میں تحقیق کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں اور مقامی علمی اداروں کو مضبوط بنانا چاہیے۔

نوجوانوں کو کتابوں سے آگے بڑھ کر سوال کرنے کی ترغیب

ہندوستانی نوجوانوں کے لیے رمن کا پیغام نہایت سادہ مگر گہرا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ طلبہ ہر سوال کا جواب محض کتابوں میں تلاش کرنے کے بجائے خود مشاہدہ کریں اور اپنی عقل کا استعمال کریں۔

آسمان کے نیلے رنگ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے طلبہ سے کہا تھا کہ اس موضوع پر کوئی کتاب نہ پڑھیں اور نہ ہی فوراً اپنے استاد سے جواب پوچھیں۔ اس کے بجائے آسمان کو اس طرح دیکھیں جیسے یہ کوئی بالکل نیا سائنسی مسئلہ ہو، جس پر اس سے پہلے کسی نے غور ہی نہ کیا ہو۔

انہوں نے پودوں کے پتوں کے سبز ہونے کی مثال بھی دی۔ ان کے مطابق جب کسی ماہرِ نباتات سے پوچھا جاتا ہے کہ پتے سبز کیوں ہوتے ہیں تو وہ فوراً جواب دیتا ہے: ’’کلوروفل‘‘۔ اس کے بعد بات ختم ہوجاتی ہے۔ رمن کا کہنا تھا کہ اس طرح کے جواب سے امتحان تو پاس کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ کسی سوال کا حقیقی جواب نہیں ہے۔

آسمان کے رنگ کی وضاحت کرتے ہوئے وہ بادلوں، گردوغبار، بارش اور انسانی بصارت جیسے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے تھے۔ ان کے نزدیک سائنس کی اصل روح مختصر اور فوری جواب تلاش کرنا نہیں، بلکہ کسی مسئلے کی تہہ تک پہنچنا اور اس کی گہرائی میں اترنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو سائنسی مسائل تلاش کرنے کے لیے کتابوں کے صفحات چھاننے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کے اردگرد پوری دنیا ایسے سوالات اور مسائل سے بھری پڑی ہے جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔

علم کی محبت میں کام کریں، صرف تنخواہ کے لیے نہیں

سی وی رمن نوجوانوں کو یہ بھی سمجھانا چاہتے تھے کہ علم اور تحقیق کا مقصد محض ملازمت یا اچھی تنخواہ حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے نزدیک زندگی کی سب سے بڑی کامیابی کوئی منزل حاصل کرنا نہیں، بلکہ اسے حاصل کرنے کی خواہش اور جستجو کو زندہ رکھنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی انسان میں علم کی تلاش کا جذبہ نہیں ہے تو وہ ملازمت حاصل کرکے اچھی تنخواہ تو لے سکتا ہے، لیکن اس کی زندگی ماہانہ تنخواہ کے انتظار تک محدود ہوکر رہ جائے گی۔ ان کے نزدیک یہ سائنس نہیں ہے۔

رمن نے خود بھی اس اصول پر عمل کیا۔ انہوں نے کلکتہ یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی، حالانکہ اس عہدے پر انہیں اپنی سابقہ ملازمت کے مقابلے میں بہت کم تنخواہ ملتی تھی۔

ان کے خیال میں وہ لوگ انسانیت کے سب سے بڑے محسن ثابت ہوتے ہیں جو ذاتی مفادات کے بجائے علم کی ترقی کے لیے کام کرتے ہیں۔

تحقیق ہندوستان کی ضرورتوں سے جڑی ہونی چاہیے

رمن کے قریبی ساتھی پروفیسر رامیششن نے اپنے تحریری بیان میں ذکر کیا ہے کہ رمن اکثر کہا کرتے تھے کہ کسی سائنس داں کی تحقیق نہ صرف نئی اور اصل ہونی چاہیے، بلکہ اس کے عملی استعمال کے حوالے سے ہندوستان کی ضروریات سے بھی مطابقت رکھنی چاہیے۔

رامیششن کے مطابق رمن ہندوستانی سائنس دانوں کے اعلیٰ تحقیق کے لیے بیرونِ ملک جانے کے بھی مخالف تھے۔ ان کے خیال میں ملک کے اندر ہی اعلیٰ معیار کی تحقیق کے مواقع پیدا کیے جانے چاہئیں۔

رامیششن نے اس نظریے کے بارے میں لکھا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ رمن اس معاملے میں درست تھے یا نہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ آزاد ہندوستان اب تک رمن کے معیار کے سائنس داں پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، حالانکہ آج سائنسی تحقیق پر خرچ کی جانے والی رقم ان کے زمانے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

آج بھی نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں سی وی رمن

7 نومبر کو پیدا ہونے والے عظیم سائنس داں سی وی رمن کی زندگی اور ان کے خیالات آج بھی ہندوستانی نوجوانوں کے لیے اہم پیغام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تحقیق، جدوجہد اور عملی زندگی سے ثابت کیا کہ سائنسی ترقی کے لیے بڑے وسائل سے زیادہ اہم تجسس، خود اعتمادی، محنت اور آزادانہ غوروفکر ہے۔

وہ چاہتے تھے کہ ہندوستانی نوجوان صرف دوسروں کے بنائے ہوئے راستوں پر چلنے کے بجائے خود سوال اٹھائیں، اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھیں، نئے تجربات کریں اور اپنے ملک کی سائنسی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

ان کا پیغام آج بھی واضح ہے: علم کی تلاش جاری رکھیے، ہر بات کو سمجھنے کی کوشش کیجیے اور اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرتے ہوئے اپنے پیروں پر کھڑے ہونا سیکھیے۔