فلائی دبئی فلائیٹ میں مبینہ حملہ ۔ عالمی اسلاموفوبیا کو دوبارہ ہوا دینے کی کوشش

Story by  ثاقب سلیم | Posted by  [email protected] | Date 01-10-2026
فلائی دبئی فلائیٹ میں مبینہ حملہ ۔ عالمی اسلاموفوبیا کو دوبارہ ہوا دینے کی کوشش
فلائی دبئی فلائیٹ میں مبینہ حملہ ۔ عالمی اسلاموفوبیا کو دوبارہ ہوا دینے کی کوشش

 



ثاقب سلیم 

 30 ستمبر 2026 کو مشرق وسطیٰ میں اردن کے فضائی حدود کے اوپر ایک خوفناک صورتحال پیدا ہوئی۔ فلائی دبئی کی پرواز 1073 دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی۔ اسی دوران عمانی معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر کپتان سمت مچھر پر حملہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں بوئنگ 737 میکس 8 تیزی سے نیچے جانے لگا۔ چند ہی لمحوں میں طیارہ ہزاروں فٹ نیچے آ گیا۔ بعد ازاں ڈیوٹی سے فارغ پائلٹوں اور بہادر مسافروں نے کاک پٹ میں داخل ہو کر مبینہ حملہ آور کو قابو کیا اور طیارے کا رخ سعودی عرب کے شہر تبوک کی طرف موڑ دیا گیا۔

اگرچہ ایک بڑے جانی حادثے کو معجزانہ طور پر ٹال دیا گیا۔ تاہم اس مبینہ طیارہ اغوا کی کوشش کے اثرات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ شہریوں سے بھرے ایک کمرشل طیارے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش فوری طور پر 11 ستمبر 2001 کی المناک یاد تازہ کرتی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف فضائی سلامتی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے بلکہ اس بات پر بھی غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ دہشت گردی کی ایسی کارروائیاں ان مقاصد کو کس قدر شدید نقصان پہنچاتی ہیں جن کے نام پر انہیں انجام دینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

اگر حملہ آور فلائٹ 1073 کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو اس کے جغرافیائی اور سیاسی اثرات انتہائی تباہ کن ہو سکتے تھے۔ 11 ستمبر کے حملوں نے مظلوم مسلمانوں کو آزاد نہیں کرایا تھا اور نہ ہی ان کے لیے انصاف حاصل کیا تھا۔ اس کے بجائے ان حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ شروع ہوئی۔ متعدد مسلم اکثریتی ممالک میں تباہ کن فوجی کارروائیاں ہوئیں اور دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کی ایک شدید لہر پیدا ہوئی۔دنیا بھر میں بے گناہ مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ ان کی نگرانی کی گئی اور انہیں نفرت انگیز جرائم کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر 2026 میں ایک اور کامیاب فضائی دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا تو اسلاموفوبیا کی آگ دوبارہ بھڑک سکتی تھی۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر مسلمانوں کے لیے ہمدردی رکھنے والے لوگ بھی دور ہو سکتے تھے اور مسلم برادریوں کے خلاف سخت اقدامات کے لیے ایک بڑا سیاسی جواز فراہم ہو سکتا تھا۔

اس وقت اسرائیل کی پالیسیوں اور فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کی طویل عرصے سے جاری تکالیف پر عالمی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد اسرائیلی ریاست کے اقدامات کو ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے تعبیر کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں اسلاموفوبیا میں کمی دیکھی گئی ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگ صہیونی ریاست کے کردار اور پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔لیکن یہ ایک واقعہ اس رجحان کو پلٹنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ یہ اخلاقی برتری کے دعوے کے لیے مکمل طور پر نقصان دہ ہوتا۔ جس طرح 11 ستمبر کے حملوں نے مسلم حقوق کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ اسی طرح فلائٹ 1073 کو تباہ کرنے کی کوشش فلسطینی کاز کے لیے کوئی مدد فراہم نہیں کرتی۔ بلکہ اس سے ان لوگوں کے بیانیے کو تقویت ملتی ہے جو اسرائیلی پالیسیوں کی ہر مخالفت کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم اس تمام شور شرابے کے درمیان ایک اہم حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ حملے کا درست مقصد ابھی تک واضح نہیں ہے۔ فلائی دبئی نے کہا ہے کہ جھگڑے کی وجوہات معلوم نہیں ہیں اور باضابطہ تحقیقات جاری ہیں۔ اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اسے ’’جہادی دہشت گرد حملے کی کوشش‘‘ قرار دیا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ آیا ایران اس میں ملوث تھا۔ اس مرحلے پر عوامی سطح پر دستیاب شواہد ایران کے ملوث ہونے کو ثابت نہیں کرتے۔یہ احتیاط اس لیے اہم ہے کیونکہ فضائی دہشت گردی کی تاریخ میں ایسے واقعات کے اثرات فوری متاثرین سے کہیں زیادہ دور تک پہنچتے رہے ہیں۔

مزید برآں ایسے حملوں کو ’’جہاد‘‘ قرار دینا اسلامی فقہ کی ایک سنگین تحریف ہے۔ اسلامی اصطلاح میں جہاد کا لفظ جدوجہد اور کوشش کے معنی رکھتا ہے۔ اس میں انسان کی اپنے نفس کے خلاف روحانی جدوجہد بھی شامل ہے اور ظلم سے دفاع کے لیے مسلح جدوجہد بھی۔ تاہم جب طاقت کا استعمال ناگزیر ہو تو اسلامی شریعت جنگ کے حوالے سے انتہائی سخت اصول مقرر کرتی ہے۔ ان اصولوں کے تحت غیر جنگجو افراد کو نشانہ بنانا قطعی طور پر ممنوع ہے۔قرآن انسانی جان کی حرمت کے بارے میں واضح ہے۔ سورہ المائدہ کی آیت 32 میں کہا گیا ہے کہ جس شخص نے کسی جان کو بغیر کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سبب قتل کیا تو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا۔ اور جس نے کسی ایک جان کو بچایا تو گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔

یہاں تک کہ باقاعدہ اور جائز جنگ کے حالات میں بھی قرآن غیر جنگجو افراد کے خلاف جارحیت سے روکتا ہے۔ سورہ البقرہ کی آیت 190 میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں لیکن زیادتی نہ کرو۔ بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اسلامی علما نے زیادتی میں خواتین اور بچوں کے ساتھ ساتھ بزرگوں اور جنگ میں حصہ نہ لینے والے افراد کو قتل کرنا بھی شامل قرار دیا ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر جنگجو افراد کے قتل سے سختی سے منع فرمایا۔ آپ نے اپنی فوجوں کو ہدایت دی کہ کسی بوڑھے شخص کو قتل نہ کیا جائے۔ کسی شیر خوار بچے کو قتل نہ کیا جائے۔ کسی بچے کو قتل نہ کیا جائے اور کسی عورت کو قتل نہ کیا جائے۔ یہ ہدایات سنن ابی داؤد میں منقول ہیں۔

اسلام کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی جنگ کے ان اصولوں کو واضح کیا۔ انہوں نے اپنے سپہ سالاروں کو شہریوں کو نقصان نہ پہنچانے کی ہدایت کی۔ عبادت گاہوں کو تباہ نہ کرنے کا حکم دیا جس میں گرجا گھروں اور یہودی عبادت گاہیں بھی شامل تھیں۔ یہاں تک کہ پھل دار درختوں کو کاٹنے سے بھی منع کیا۔شہریوں سے بھرے مسافر طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش اسی زیادتی کی واضح مثال ہے جس کی قرآن مذمت کرتا ہے۔ اسے جہاد نہیں کہا جا سکتا۔ یہ حِرابہ ہے۔ یعنی غیر قانونی مسلح کارروائی اور دہشت گردی۔

اسلامی دنیا کے بڑے علما اور مذہبی ادارے کئی دہائیوں سے جدید دہشت گردی کے نظریات کی تردید کرتے آئے ہیں۔ موریتانیہ کے معروف عالم شیخ عبداللہ بن بیہ جو مسلم معاشروں میں امن کے فروغ کے فورم کے صدر ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ دہشت گردی جہاد نہیں بلکہ کھلی مجرمانہ کارروائی ہے۔اسی طرح جامعہ الازہر کے امام اعظم شیخ احمد الطیب نے بھی عام شہریوں پر حملوں کی مسلسل مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اسلامی قانون سیاسی حالات سے قطع نظر بے گناہ افراد کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔2010 میں معروف عالم محمد طاہر القادری نے دہشت گردی اور خودکش حملوں کے خلاف 600 صفحات پر مشتمل ایک جامع فتویٰ پیش کیا۔ اس میں کلاسیکی اسلامی متون کی روشنی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ جہاد کے نام پر دہشت گردی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے لکھا کہ مسلمانوں کا قتل اور دہشت گردی کا ارتکاب اسلام میں نہ صرف ناجائز اور حرام ہے بلکہ یہ ایمان سے انحراف بھی ہے۔

فلائی دبئی کی پرواز 1073 سے متعلق اس واقعے کے مبینہ خطرناک ارادے کی مذمت صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے طور پر نہیں کی جانی چاہیے بلکہ اسے اسلامی قانون کی سنگین خلاف ورزی بھی سمجھنا چاہیے۔ حقیقی جہاد عزت اور بہادری کے ساتھ کمزوروں کے دفاع سے وابستہ ہے۔ اس میں بے گناہ اور غیر مسلح شہریوں کو کمرشل طیارے میں قتل کرنا شامل نہیں ہو سکتا۔حقیقی انصاف کے حصول کے لیے ذرائع بھی اتنے ہی باوقار ہونے چاہئیں جتنے کہ مقاصد۔