جنید محی الدین - ہاتھوں میں موبائیل فونس کے بجائے باکسنگ گلووز کا مشن

Story by  شیخ محمد یونس | Posted by  [email protected] | Date 19-10-2026
جنید محی الدین - ہاتھوں میں موبائیل فونس کے بجائے باکسنگ گلووز کا مشن
جنید محی الدین - ہاتھوں میں موبائیل فونس کے بجائے باکسنگ گلووز کا مشن

 



شیخ محمد یونس : حیدر آباد

سورج ڈھلتے ہی حیدرآباد میں 33 سالہ باکسر جنید محی الدین اپنی کپڑوں کی دکان کا شٹر گراتے ہیں اور سیدھے ملے پلی گراؤنڈ کا رخ کرتے ہیں جہاں درجنوں بچے اور بچیاں ان کے منتظر ہوتے ہیں۔ شام 7 بجے سے رات 9 بجے تک یہاں باکسنگ کی تربیت ہوتی ہے۔ جنید نے بچوں کو موبائل فون۔ گیمز اور ریلز کی دنیا سے نکال کر کھیل کے میدان تک لانے کا مشن شروع کیا ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ  کندھے کی انجری نے ان کے اپنے باکسنگ کیریئر کو متاثر کیا تو انہوں نے نئی نسل کو تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ گھر سے شروع ہونے والا یہ سفر جنید باکسنگ کلب تک پہنچ گیا۔ اس کلب میں مذہب یا برادری کی تفریق کے بغیر لڑکوں اور لڑکیوں کو باکسنگ کے ساتھ ورزش۔ صحت مند طرز زندگی اور اخلاقی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ جنید کا خواب ہے کہ ملے پلی گراؤنڈ میں تربیت لینے والے یہی بچے اور بچیاں مستقبل میں ریاست اور ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں۔

جنید باکسنگ کلب کا قیام

جنید محی الدین کو بچپن ہی سے باکسنگ میں دلچسپی رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جنیدمحی الدین نے باکسنگ کو اپنایا اور ترقی کے منازل طئے کرنے لگے۔ وہ دنیائے باکسنگ میں ملک اور ریاست کا نام روشن کرنے کا خواب لئے آگے بڑھ رہے تھے لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ان کا شولڈر زخمی ہوجانےکی وجہ سے وہ کچھ حد تک باکسنگ سے دور ہو گئے تاہم باکسنگ کے تئیں ان کے جنون میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔

جنید محی الدین شولڈر کے زخم کے باعث کبھی بھی پست ہمت نہیں ہوئے بلکہ عزم و حوصلے کے ساتھ اس بات کا پختہ ارادہ کیا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر باکسنگ میں ملک کی نمائندگی نہ کر سکے لیکن وہ نئی نسلوں میں باکسنگ کا جذبہ اور جنون پیدا کریں گے اور انہیں ملک کی نمائندگی کے لئے تیار کریں گے۔بس پھر کیا تھا۔ جنید محی الدین نے اپنے گھر سے ہی باکسنگ کی تربیت کا آغاز کیا اور جنید باکسنگ کلب کا قیام عمل میں لایا۔

موبائیلس کے بجائے بچوں کے ہاتھوں میں باکسنگ گلووز

جب جنید محی الدین نے دیکھا کہ بچے موبائیل فون کی لت کا شکار ہو رہے ہیں۔ موبائیلس پر گیمس کھیلنے اور ریلس دیکھتے ہوئے اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ صحت بھی متاثر کر رہے ہیں۔ تب جنید محی الدین نے بچوں کو باکسنگ کی تربیت دینے کا فیصلہ کیا اور اس کام کا آغاز اپنے گھر سے ہی کیا۔ انہوں نے اپنے بھتیجیوں کو ملے پلی گراؤنڈ میں تربیت دینی شروع کی۔

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا کہ مصداق تربیت کے حصول کے لئے کئی لڑکے لڑکیاں آنے لگے۔جنید محی الدین بلا لحاظ مذہب ملت باکسنگ کی تربیت فراہم کرتے ہیں۔باکسنگ کی تربیت حاصل کرنے والے بیشتر بچے بالخصوص لڑکیوں کی عمریں لگ بھگ پانچ سال ہیں تاہم ان کے جوش و جذبہ کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں باکسنگ سرایت کر گئی ہے۔

جنید محی الدین کا ماننا ہے کہ وہ باکسنگ میں ملک کی نمائندگی نہ کر سکےلیکن ان کا منشا و مقصد یہی ہے کہ ان کے شاگرد باکسنگ میں آگے آئیں اور باکسنگ میں ریاست اور ملک کا نام روشن کریں۔ ان کے تربیت یافتہ کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں۔جنید محی الدین بچوں کے ہاتھوں میں موبائیل نہیں بلکہ باکسنگ گلووز کے مشن کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور انہیں اس مشن میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔

ثمر آور نتائج

جنید محی الدین کی محنت و مشقت کا نتیجہ ہے کہ آج جنید باکسنگ کلب محتاج تعارف نہیں ہے۔یہاں کے کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے مظاہرے کے ذریعہ سب کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔خصوصیت کے ساتھ کم عمر لڑکیاں اس قدر تربیت یافتہ ہیں کہ وہ اپنے وزن سے زیادہ وزن اٹھا کر میدان میں دوڑتی ہیں۔اس کے علاوہ لڑکے لڑکیاں دفاعی ٹکنیک میں بھی اس قدر مہارت رکھتے ہیں کہ کوئی بھی دیکھنے والا دم بخود رہ جاتا ہے اور رشک کرنے لگتا ہے۔جنید محی الدین نہ صرف بچوں کو باکسنگ کی تربیت فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں فٹ اور صحت مند رہنے کے لئے ورزش بھی کرواتے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ بچوں کی اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔

جنید باکسنگ کلب کے بچوں میں باکسنگ کے تئیں جنون پایا جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بچے روز بروز اپنی صلاحیتوں کو نہ صرف فروغ دے رہے ہیں بلکہ مختلف پلیٹ فارمس پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوا رہے ہیں۔جنید محی الدین کے خاندان میں اسپورٹنگ اسپرٹ بدرجہ اتم موجود ہے۔ان کے بھائی جاوید محی الدین کرکٹر اور جمیل محی الدین والی بال کھلاڑی ہیں۔

صحت انمول دولت

جنید محی الدین نے نمائندہ آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج نوجوان نسل بالخصوص بچے موبائیل فون کی لت کا شکار ہو رہے ہیں۔ موبائیل فونز پر گیم کھیلنا اور ریلس دیکھنا آج کل محبوب مشغلہ بن گیا ہے جس کی وجہ سے بچوں کی صحت اور بینائی متاثر ہو رہی ہے۔جنید محی الدین نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بچوں کے ہاتھ میں موبائیل فونس کی جگہ باکسنگ گلووز ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج کے بچے صحت مند ہوں گے تب وہ کل ملک کے لئے قیمتی اثاثہ ثابت ہوں گے۔ صحت ایک بیش بہا نعمت ہے۔ اگر آپ کے پاس بے تحاشہ دولت ہو تاہم صحت نہ ہو تو وہ بےکار ہے۔ صحت قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ صحت کی برقراری کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔

 جنید محی الدین نے کہا کہ آج معاشرے میں نت نئی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان نسل بالخصوص لڑکیاں تعلیم کے ساتھ ساتھ اسپورٹس پر بھی توجہ دیں۔ آج کے پر آشوب دور میں لڑکیوں کو حفاظت خود اختیاری کی تربیت کی فراہمی ناگزیر ہے۔ اسپورٹس کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے طلبا و طالبات ترقی کے منازل طئے کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب ان کے کلب کے بچے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے اور عالمی سطح پر ریاست اور ملک کا نام روشن کریں گے۔

کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ناگزیر

جنید محی الدین نے کہا کہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے حکومت کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔ جنید باکسنگ کلب میں تربیت کے لئے کوئی باقاعدہ فیس مقرر نہیں ہے۔ بچوں کے والدین جو کچھ بھی رقم دیتے ہیں۔ وہ باکسنگ کے ساز و سامان کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ جنیدمحی الدین نے کہا کہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں سہولتوں کی فراہمی ضروری ہے تاکہ ہمارے ملک میں بھی عالمی سطح کے بہترین کھلاڑی تیار ہو سکیں۔