سلمان خان :کیب ڈرائیور سے ہندوستانی روئنگ اسٹار تک شاندار سفر

Story by  ملک اصغر ہاشمی | Posted by  [email protected] | Date 07-10-2026
سلمان خان  :کیب ڈرائیور سے ہندوستانی روئنگ اسٹار تک  شاندار سفر
سلمان خان :کیب ڈرائیور سے ہندوستانی روئنگ اسٹار تک شاندار سفر

 



ملک اصغر ہاشمی / نئی دہلی

اتر پردیش کے امیٹھی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پرورش پانے والا ایک نوجوان کبھی اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے دہلی کی سڑکوں پر اوبر کیب چلاتا تھا۔ آج وہ بھارتی فوج کی روئنگ ٹیم کا حصہ ہے اور 2026 کے ایشین گیمز میں ملک کے لیے تمغہ جیتنے کی تیاری کر رہا ہے۔ 29 سالہ سلمان خان نے کبھی اپنے خاندان کا سہارا بننے کے لیے دن رات ٹیکسی چلائی تھی۔ آج  ایشین گیمز میں بھارت کے لیے تمغہ جیتنے پر سرخیوں میں ہیں سلمان خان نے ہندوستانی فوج سے وابستہ ہیں اور روئنگ کے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے جاپان کے آیچی ناگویا میں منعقدہ 2026 ایشین گیمز میں مردوں کے ڈبل اسکلز مقابلے میں برونز میڈل جیتا۔

سلمان کی کہانی راتوں رات ملنے والی کامیابی کی داستان نہیں ہے۔ یہ والد کے انتقال کے بعد خاندان کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھانے اور مالی مشکلات سے گزرنے کی کہانی ہے۔ یہ فوج میں شامل ہونے کے ادھورے خواب اور پھر ایک ایسے کھیل سے وابستہ ہونے کی داستان بھی ہے جس کے بارے میں انہوں نے کبھی سوچا تک نہیں تھا۔سلمان خان کی پیدائش اتر پردیش کے ضلع امیٹھی کے خیرہنا علاقے کے پورے ڈھنگئی گاؤں میں ہوئی۔ ان کا بچپن آسان نہیں تھا۔ ان کے والد محمد قاسم خان ہریانہ کے تاؤڑو میں ٹرک بنانے کے کام سے وابستہ تھے جہاں سلمان نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ وہ چار بھائیوں اور دو بہنوں میں سب سے بڑے ہیں۔

جب سلمان صرف 18 برس کے تھے تو ان کے والد کا ڈینگی کے باعث انتقال ہوگیا۔ اچانک خاندان کی پوری ذمہ داری ان کے کندھوں پر آگئی۔ ان کے چھوٹے بہن بھائی ابھی زیر تعلیم تھے۔ خاندان کی مالی حالت کو دیکھتے ہوئے فوج میں شامل ہونے کا ان کا خواب فی الحال ادھورا رہ گیا۔ خاندان کی کفالت کے لیے وہ دہلی آگئے اور اوبر کیب چلانا شروع کردی۔دہلی میں کیب چلانا سلمان کے لیے محض روزگار نہیں تھا بلکہ اسی کے ذریعے وہ اپنے خاندان کا سہارا بن رہے تھے۔ وہ دن رات محنت کرتے تھے۔ فوج میں شامل ہونے کا خواب تقریباً پس منظر میں چلا گیا تھا۔پھر ایک دن ڈیوٹی سے آرام کے دوران ایک قریبی دوست نے انہیں فون کیا۔ دوست نے یاد دلایا کہ ان کا قد اور جسمانی ساخت فوج میں بھرتی کے لیے موزوں ہوسکتی ہے اور انہیں ایک بار پھر کوشش کرنے کی ترغیب دی۔

اس گفتگو نے سلمان کو اپنے پرانے خواب کی طرف واپس لوٹنے کا حوصلہ دیا۔ انہوں نے اپنی ٹیکسی دوسرے ڈرائیور کے حوالے کی اور بھرتی کی تیاری کے لیے چار ماہ وقف کردیے۔ انہوں نے بھرتی ریلی میں کامیابی حاصل کی اور طبی معائنے اور تحریری امتحان میں بھی کامیاب ہوگئے۔ 25 ستمبر 2018 کو انہوں نے پونے کے بمبئی انجینئر گروپ میں بھارتی فوج میں شمولیت اختیار کرلی۔

روئنگ سے غیر متوقع تعارف

فوج میں شامل ہونے کے بعد سلمان کی زندگی نے ایک اور رخ اختیار کیا۔ تربیتی مرکز میں انسٹرکٹروں نے ان کے قد اور جسمانی ساخت کو دیکھتے ہوئے انہیں روئنگ سے متعارف کرایا۔سلمان اس کھیل کے بارے میں بہت کم جانتے تھے۔ ابتدا میں انہیں اس میں کوئی خاص دلچسپی بھی نہیں تھی۔ خاندان کے مالی حالات کی وجہ سے کھیل کبھی ان کی ترجیح نہیں رہا تھا۔ انہوں نے کئی مرتبہ روئنگ سے دور رہنے کی کوشش کی۔ لیکن انسٹرکٹروں نے ان میں موجود صلاحیت کو پہچان لیا اور انہیں کشتی پر اتار دیا۔ یہی ان کی زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز تھا۔اپنے پہلے بین الکزیاتی کشتی مقابلے میں چاندی کا تمغہ جیتنے سے سلمان کا حوصلہ بہت بڑھا۔ انہیں احساس ہوا کہ وہ ایک ایسے کھیل میں بھی آگے بڑھ سکتے ہیں جسے وہ ابتدا میں پسند نہیں کرتے تھے۔اصل تبدیلی 2021 میں آئی۔ ارگومیٹر کے مقررہ معیار پورے کرنے کے بعد ان کا انتخاب پونے کے سی ایم ای میں قائم فوجی روئنگ مرکز کے لیے ہوا۔ بھارت کے بعض بہترین روئرز کے ساتھ تربیت نے ان کے سامنے ایک بالکل نئی دنیا کھول دی۔ انہیں احساس ہوا کہ روئنگ صرف فوج کی ایک سرگرمی نہیں بلکہ اسے پیشہ ورانہ کھیل کے طور پر بھی اپنایا جاسکتا ہے۔

خاندان اور رہنماؤں کا اہم کردار

سلمان اپنے خاندان کو اپنی سب سے بڑی طاقت سمجھتے ہیں اور خاص طور پر اپنی والدہ کی دعاؤں کو اپنی کامیابی کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ان کی اہلیہ صاحبہ خاتون نے بھی ان کی زندگی میں ہمیشہ بھرپور تعاون کیا ہے۔روئنگ کے ابتدائی دور میں کئی مواقع ایسے آئے جب سلمان نے کھیل چھوڑنے کا ارادہ کیا۔ ان مشکل حالات میں ان کے تربیتی افسر میجر ناگیندر ہڈا نے ان کا حوصلہ بڑھایا۔ فوجی روئنگ مرکز کے کمانڈنگ افسر کرنل رام کرشنن نے بھی انہیں مسلسل آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔آخرکار ان کے کوچز نے ان کی صلاحیت کو پہچانا اور سلمان نے بھارتی قومی ٹیم میں جگہ بنا لی۔

روئنگ میں تیزی سے بلندی کی جانب سفر

اس کے بعد سلمان کی کامیابیوں کا سلسلہ تیزی سے آگے بڑھا۔2022 میں انہوں نے گجرات میں منعقدہ 36ویں قومی کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتا۔ 2023 کی سینئر قومی چیمپئن شپ میں انہوں نے سنگل اسکلز مقابلے میں اولمپین دتو بھوکنال کو شکست دے کر طلائی تمغہ حاصل کیا۔ اس کارکردگی کے بعد بھارتی ٹیم میں ان کی جگہ پکی ہوگئی۔2024 میں انہوں نے جنوبی کوریا میں منعقدہ ایشین روئنگ کپ میں نتن دیول کے ساتھ مل کر اپنا پہلا بین الاقوامی طلائی تمغہ جیتا۔ اس کے بعد انہیں بھارتی فوج میں نائب صوبیدار کے عہدے پر ترقی دی گئی۔2025 کی آسٹریلین روئنگ چیمپئن شپ اور 2025 کی ایشین روئنگ چیمپئن شپ میں چاندی کے تمغوں نے بھی ایشین گیمز کے لیے  ان کی مہم کو مزید مضبوط کیا۔

2026 کے ایشین گیمز پر نظریں

 اب سلمان کی تمام توجہ 2026 کے ایشین گیمز پر مرکوز ہے۔ وہ بھارت کی مردوں کی چار رکنی اسکلز ٹیم کا حصہ ہیں جس میں بلراج پنوار اور ستنم سنگھ اور ذاکر خان بھی شامل ہیں۔اس مقابلے میں صرف انفرادی طاقت کافی نہیں ہوتی۔ چاروں کھلاڑیوں کو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کشتی چلانا ہوتی ہے۔ ایک کھلاڑی کی معمولی سی غلطی بھی پوری کشتی کی رفتار کو متاثر کرسکتی ہے۔سلمان کے مطابق مسلسل تربیت کے ذریعے ٹیم کے ارکان کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی مزید مضبوط ہوئی ہے۔ وہ ایک ساتھ رہتے اور تربیت کرتے ہیں اور اپنی ریس کی ویڈیوز کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔2000 میٹر کی روئنگ ریس کے دوران بات چیت کے لیے بہت کم وقت ہوتا ہے۔ کشتی چلانے والا کھلاڑی مختصر اور واضح تکنیکی ہدایات دیتا ہے۔ کبھی رفتار تبدیل کرنا ہوتی ہے اور کبھی کشتی کے چلانے کے انداز کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ باقی ہم آہنگی کشتی اور پاؤں رکھنے کی جگہ کے ذریعے محسوس کی جاتی ہے۔سلمان کا ماننا ہے کہ جب چاروں کھلاڑیوں کو ایک دوسرے پر مکمل اعتماد ہو تو ہم آہنگی خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔ویتنام میں جسپندر سنگھ کے ساتھ ڈبل اسکلز میں حاصل کیا گیا چاندی کا تمغہ بھی ان کے لیے بہت اہم تھا۔ اس کارکردگی نے انہیں یقین دلایا کہ ان کی تیاری ایشیا کے بہترین کھلاڑیوں کی سطح تک پہنچ رہی ہے۔کھیلوں کی اتھارٹی کی خصوصی معاونت کے تحت چلنے والے منصوبے نے ان کی مخصوص غذائی ضروریات اور اضافی غذائی اجزا کی فراہمی میں بھی مدد کی ہے۔

انتہائی سخت تربیتی معمول

ان کی موجودہ تربیت کا بنیادی مقصد ریس کی رفتار اور تکنیکی مہارت کو بہتر بنانا ہے۔ سلمان کا روزانہ کا معمول انتہائی سخت ہے۔پانی میں تربیت صبح 5 بجے شروع ہوتی ہے جس میں تقریباً 20 کلومیٹر تک تکنیکی اور جسمانی برداشت کی مشق شامل ہوتی ہے۔ اس کے بعد ناشتہ اور آرام کا وقت ہوتا ہے اور پھر اپنی کارکردگی کی ویڈیوز کا جائزہ لیا جاتا ہے۔صبح 11 بجے وہ ورزش گاہ کا رخ کرتے ہیں جہاں جسمانی طاقت اور پھرتی کے ساتھ ساتھ دھڑ کے پٹھوں کو مضبوط بنانے پر کام کیا جاتا ہے۔ دوپہر کے بعد وہ دوبارہ پانی میں اترتے ہیں۔ شام کی تربیت میں کشتی کے آغاز کی مشق اور تیز رفتاری اور مقابلے کی رفتار پر توجہ دی جاتی ہے۔

وہ رات کو جلد سونے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اگلے دن دوبارہ دو سخت تربیتی نشستوں کے لیے جسم تیار رہے۔روئنگ میں صرف بازوؤں کی طاقت کافی نہیں ہوتی۔ دل اور پھیپھڑوں کی برداشت اور ٹانگوں کی طاقت اور دھڑ کے پٹھوں کا مضبوط ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اسی لیے ورزش گاہ میں تربیت اور جسمانی تیاری ان کے معمول کا اہم حصہ ہے۔اس سخت معمول کے دوران ان کا جسم روزانہ تقریباً 4500 سے 5000 حرارے خرچ کرتا ہے۔ ان کی غذا میں جئی اور چاول اور شکر قندی جیسی غذائیں شامل ہیں جبکہ انڈے اور مرغی اور دودھ سے حاصل ہونے والی پروٹین بھی ان کی خوراک کا حصہ ہے۔ طویل تربیتی نشستوں کے دوران نمکیات اور توانائی فراہم کرنے والی غذائیں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔

مشکل بچپن سے ملنے والے سبق

سلمان کا کہنا ہے کہ زندگی کے ابتدائی دور میں درپیش مشکلات نے انہیں ذہنی طور پر مضبوط بنایا۔ 18 برس کی عمر میں خاندان کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد وہ کھیل کے دباؤ کو بھی مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔مقابلے کے دوران وہ اپنی حکمت عملی پر توجہ دیتے ہیں۔ دوسری لین میں کیا ہورہا ہے اس کی فکر کرنے کے بجائے وہ اپنی کارکردگی کو مرحلہ وار بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔بھارت کی نمائندگی کرنا بھی ان کے لیے ایک خاص تجربہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک عام گاؤں سے نکل کر ملک کی نمائندگی کرنا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔

ایشین گیمز سے اولمپکس تک

ایشین گیمز کے بعد سلمان کی نظریں اولمپکس پر ہیں۔ وہ عالمی چیمپئن شپ میں حصہ لینا اور اولمپکس میں جگہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے بعد بھارت کے لیے اولمپک تمغہ جیتنے کی جانب آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ن کے سفر کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ عام معاشی اور سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوان ان کی کہانی سے حوصلہ حاصل کریں اور یقین کریں کہ محنت اور نظم و ضبط زندگی کا رخ بدل سکتے ہیں۔

سلمان خان کا اوبر کیب کے اسٹیئرنگ سے بھارتی فوج کی کشتی تک کا سفر ابھی جاری ہے۔ خاندان کی ذمہ داریوں کی وجہ سے کھیل کی دنیا کبھی ان سے بہت دور دکھائی دیتی تھی لیکن روئنگ نے بالآخر انہیں بھارتی ٹیم تک پہنچا دیا۔اب جاپان کے پانیوں میں ان کا مقصد صرف کشتی کی رفتار بڑھانا نہیں ہے بلکہ چار کھلاڑیوں کی تال میل اور حکمت عملی اور اجتماعی کوشش کو ایک ایسی طاقت میں تبدیل کرنا ہے جو بھارتی ترنگے کو بلندی پر لہرا سکے۔سلمان کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اصل امتحان اب پانی میں ہوگا۔