سی آر پی ایف کی پہلی خواتین بٹالین کے قیام کے 40 سال مکمل

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 22-09-2026
سی آر پی ایف کی پہلی خواتین بٹالین کے قیام کے 40 سال مکمل
سی آر پی ایف کی پہلی خواتین بٹالین کے قیام کے 40 سال مکمل

 



نئی دہلی: مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اپنی پہلی مکمل خواتین بٹالین کے قیام کی 40 ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی تقریب منعقد کرے گی۔ حکام نے منگل کو بتایا کہ یہ تقریب 25 ستمبر کو نئی دہلی میں واقع سی آر پی ایف کی 88ویں ’مہیلا بٹالین‘ کے کیمپس میں منعقد ہوگی۔ سی آر پی ایف کی پہلی مکمل خواتین بٹالین 6 فروری 1986 کو قائم کی گئی تھی۔

اس وقت فورس میں چھ مکمل خواتین بٹالین موجود ہیں۔ 25 ستمبر کو ہونے والی تقریب میں سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل جی پی سنگھ اور فورس کی فیملی ویلفیئر ایسوسی ایشن کی صدر ان کی اہلیہ سابق اور موجودہ خواتین اہلکاروں کو اعزاز سے نوازیں گے۔ سی آر پی ایف میں خواتین اہلکار صرف خواتین بٹالین تک محدود نہیں ہیں بلکہ فورس کی خصوصی یونٹوں میں بھی اہم ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔

ان میں ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) اور کمانڈو بٹالین فار ریزولوٹ ایکشن (کوبرا) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سی آر پی ایف کی دیگر باقاعدہ یونٹوں میں بھی خواتین اہلکار تعینات ہیں۔ حکام کے مطابق سی آر پی ایف میں اس وقت مختلف عہدوں پر 10 ہزار سے زیادہ خواتین اہلکار خدمات انجام دے رہی ہیں۔ فورس کی خواتین اہلکاروں نے آپریشنل ذمہ داریوں میں نمایاں خدمات انجام دینے کے ساتھ بہادری کے اعزازات بھی حاصل کیے ہیں۔

کانسٹیبل کمليش کماری کو 2001 میں پارلیمنٹ پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کرنے پر بعد از مرگ ملک کے اعلیٰ ترین امن کے زمانے کے فوجی اعزاز اشوک چکر سے نوازا گیا تھا۔ اسی طرح کانسٹیبل وملا دیوی کو سینا میڈل دیا گیا، جبکہ لانس نائک راجونتی دیوی کو 1988 میں سری لنکا میں ہندوستانی امن فوج (آئی پی کے ایف) کے ساتھ خدمات کے دوران ایک ’’اہم‘‘ آپریشنل کردار ادا کرنے پر چیف آف آرمی اسٹاف کمنڈیشن کارڈ سے نوازا گیا تھا۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق کانسٹیبل بندو کمرے نے 2001 میں سری نگر ہوائی اڈے پر دہشت گردانہ حملے کے دوران ’’مثالی‘‘ بہادری کا مظاہرہ کیا، جس پر انہیں بہادری کا تمغہ دیا گیا۔ تقریباً 3.25 لاکھ اہلکاروں پر مشتمل سی آر پی ایف ملک کی اہم داخلی سلامتی فورس ہے۔ اس کی بنیادی ذمہ داریوں میں داخلی سلامتی برقرار رکھنا، نکسل مخالف کارروائیاں، جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن اور شمال مشرقی ریاستوں میں شورش مخالف کارروائیاں شامل ہیں۔ خواتین اہلکار ان مختلف ذمہ داریوں میں بھی فورس کا حصہ ہیں۔