ہماچل پردیش کے 8 سالہ روہن سنگھ نے کہانیوں کی کتاب لکھی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 03-11-2026
ہماچل پردیش کے 8 سالہ روہن سنگھ نے کہانیوں کی کتاب لکھی
ہماچل پردیش کے 8 سالہ روہن سنگھ نے کہانیوں کی کتاب لکھی

 



روہڑو: جس عمر میں زیادہ تر بچے پڑھنے لکھنے کی دنیا سے واقف ہو رہے ہوتے ہیں، اسی عمر میں ہماچل پردیش کے روہڑو کے 8 سالہ روہن سنگھ نے اپنی پہلی کہانیوں کی کتاب ’دی میجیکل ورلڈ‘ شائع کرا کے مصنف کی حیثیت سے قدم رکھ دیا ہے۔ اس سے پہلے اس کے اسکول کی 7 سالہ طالبہ وانیا چوہان بھی دو کتابیں لکھ کر یہ کارنامہ انجام دے چکی ہے۔ ان دونوں کم عمر مصنفین کی کامیابی سے ان کے اسکول اور خاندانوں کا نام روشن ہوا ہے۔ ان کی مثال سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرکے کم عمری ہی سے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکتا ہے اور کہانیاں لکھنے کا شوق پیدا کیا جا سکتا ہے۔

اپنی پہلی کتاب شائع ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے روہن نے کہا کہ مصنف بننا اس کے لیے ایک خوشگوار اور اطمینان بخش تجربہ ہے۔ اس نے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں مزید کتابیں لکھے گا اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر بناتا رہے گا۔ روہن نے اپنے والدین اور اسکول کی پرنسپل کو اپنی کامیابی کا سہرا دیتے ہوئے کہا، ’’انہوں نے ہمیشہ مجھے وہ کام کرنے کی ترغیب دی ہے جو مجھے پسند ہے۔‘‘ اس نے مزید کہا کہ کتابیں لکھنے سے اسے بے حد خوشی ملتی ہے۔ اس کی پہلی کہانیوں کی کتاب ’دی میجیکل ورلڈ‘ برِی بکس کے آن لائن پلیٹ فارم پر دستیاب ہے۔ روہن سے پہلے اسی اسکول کی تیسری جماعت کی 7 سالہ طالبہ وانیا چوہان بھی اس سال دو کہانیوں کی کتابیں لکھ کر شائع کرا چکی ہے۔

ان کتابوں کے نام ’اسکول ٹرپ‘ اور ’دی رائل برتھ ڈے پارٹی‘ ہیں۔ وانیا نے اپنی کہانیوں اور دلچسپ کرداروں کے ذریعے دوستی، مہربانی، مل جل کر کام کرنے، ذمہ داری اور دوسروں کے تئیں ہمدردی جیسی خوبیوں کو اجاگر کیا ہے۔ اس کی پہلی کتاب ’اسکول ٹرپ‘ ایک تعلیمی دورے کی کہانی ہے، جس میں کرداروں کے ذریعے تعاون کرنے، دوسروں کی مدد کرنے اور اپنی ذمہ داری سمجھنے کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ اپنی کامیابی کے بارے میں وانیا نے اس سے پہلے کہا تھا کہ کتابوں کے سرورق پر اپنا نام دیکھ کر اسے بہت خوشی ہوتی ہے۔

اس نے کہا تھا، ’’ان دونوں کتابوں پر اپنا نام دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ آئندہ بھی بہت سی کتابوں پر میرا نام ہو۔‘‘ وانیا نے اپنے ادبی شوق کو پروان چڑھانے اور خود اعتمادی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرنے میں مدد دینے کا سہرا اپنے اسکول اور دادا کو دیا۔ اسکول کی ہیڈ مسٹریس ردھیما ٹھاکر نے دونوں بچوں کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بچوں کی تخلیقی دلچسپیوں کو فروغ دینے میں والدین اور اساتذہ کے کردار کو بھی سراہا۔ ردھیما ٹھاکر نے کہا کہ دونوں بچوں کی کامیابیاں اسکول کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ تعلیم صرف روایتی کلاس روم تک محدود نہ رہے بلکہ بچوں کو اپنی دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو آزمانے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’دی فاؤنڈیشن ایئرز اسکول‘ میں تجربات اور سوالات کے ذریعے سیکھنے کے طریقے کو اپنایا گیا ہے۔

اس کے تحت کہانی نویسی، پروجیکٹ پر مبنی تعلیم اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے بچوں میں تخیل، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور اپنے خیالات کا آزادانہ اظہار کرنے کی عادت پیدا کی جاتی ہے۔ ردھیما ٹھاکر نے کہا، ’’تخلیقی صلاحیتیں اسی وقت پروان چڑھتی ہیں جب بچوں کو مشاہدہ کرنے، تصور کرنے اور اپنے خیالات کے اظہار کی آزادی دی جاتی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان بچوں کی کامیابیاں ثابت کرتی ہیں کہ حوصلہ افزائی، خود اعتمادی اور سازگار ماحول ملنے پر بچے غیر معمولی کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔ انہوں نے والدین کے تعاون کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابیاں خاندان اور اسکول کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ اسکول کے مطابق وانیا اپنی تیسری کہانیوں کی کتاب پر کام شروع کر چکی ہے، جس کی جلد اشاعت متوقع ہے، جبکہ روہن بھی مزید کہانیاں لکھنے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے پُرجوش ہے۔